فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر321

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر321
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر321

  

بڑے لوگ بتاتے ہیں کہ ہم ابھی پالنے میں تھے کہ گانا سن کر گردن یا پیر ہلانے لگتے تھے۔ واللہ اعلم۔ اس لحاظ سے تو ہمیں بذات خود بہت اچھّا گلوکار یا موسیقار ہونا چاہئے تھا مگر کبھی ہمّت نہ پڑ سکی۔ بس اکیلے گنگنا لیتے تھے۔ کوئی گانے والا سُر سے باہر ہوتا تو ہمیں فوراً علم ہو جاتا تھا۔ یہ تو معلوم نہیں تھا کہ سُر کیا ہوتا ہے۔ مگر اتنا پتہ ضرور چل جاتا تھا کہ گانے میں کوئی غلطی ضرور ہے۔ بہرحال یہ چیزیں بھی خداداد ہوتی ہیں۔ اگر اللہ نے یہ علم زیادہ دیا ہوتا تو ہم بھی آج موسیقار یا گلوکار ہوتے۔

ابھی بچّے ہی تھے کہ ہمارے کانوں نے ایک نہایت سُریلی اور نغمگیں آواز سنی اور مزہ یہ کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کا نام بھی شامل تھا۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا گانا ممنوع نہیں ہو سکتا تھا اسلئے ہم بھی جب کبھی موقع ملتا تو لہک لہک کر خود بھی گاتے تھے؂

پیغام صبا لائی ہے دربار نبی سے

آیا ہے بلاوا مجھے سرکار نبی سے

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر320 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یہ اتنی خوبصورت آواز تھی کہ ہمارے رگ و پے میں بس گئی۔ وہ دن اور آج کا دن‘ یہ آواز ہمارے ذہن اور کانوں سے نکلتی ہی نہیں ہے۔ یہ تو ہمیں بہت عرصے بعد معلوم ہوا کہ یہ نعت شمشاد بیگم نے گائی ہے اور اس کے لکھنے والے ولی صاحب ہیں۔ شمشاد بیگم کو دیکھنے اور ان سے ملنے کی ہمیں ہمیشہ آرزو رہی مگر یہ پوری نہ ہو سکی۔ البتہ ولی صاحب سے لاہور میں شرف نیاز حاصل ہوا اور ایورنیو سٹوڈیوز میں ملاقاتوں کا موقع بھی ملا۔ ولی صاحب کچھ دیر سے‘ بمبئی سے آئے تھے مگر ان کا نام اس سے پہلے ہی ہم سن چکے تھے۔ بڑے گنوں والے آدمی تھے۔ شاعر‘ ادیب‘ پنجابی‘ اردو دونوں زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ فلمی گیت لکھتے تو ایسے کہ لوگوں کے کان پکڑوا دیتے۔ فلمیں بھی بنائیں اور ڈائریکٹ بھی کیں۔ ولی صاحب نے لاہور آ کر بھی فلمیں بنائی تھیں۔ بیشتر پنجابی فلمیں تھیں۔ ان سے ہم اس لئے بھی مرعوب تھے کہ وہ اپنے عہد کی مقبول ترین سُپر سٹار ممتاز شانتی کے شوہر بھی تھے۔ ممتاز شانتی کی فلم ’’قسمت‘‘ کئی سال تک کلکتہ کے ایک سینما میں چلی تھی اور یہ ریکارڈ پھر کوئی اور فلم نہ توڑ سکی۔ ولی صاحب سے شادی کے بعد انہوں نے فلمی دنیا کو خیرباد کہہ دیا اور اس طرح کہ جیسے دنیا ہی کو خیرباد کہہ دیا۔ اس کے بعد وہ کسی فلمی یا غیر فلمی تقریب میں نہیں دیکھی گئیں۔ کسی نے ان کی جھلک دیکھنا تو کیا آواز تک نہ سنی۔ بس گھر گرہستی اور چاردیواری تک محدود ہو کر رہ گئی تھیں۔ ایسی ہستیاں بھی فلمی دنیا سے وابستہ رہی ہیں۔

جب کچھ شعور آیا تو معلوم ہوا کہ ہماری پسندیدہ نعت شمشاد بیگم کی گائی ہوئی ہے۔ شمشاد بیگم کا کسی زمانے میں بہت شُہرہ تھا۔ یہ نعت 1932ء میں ریکارڈ کی گئی تھی۔ یعنی ہماری پیدائش سے ایک سال قبل اور جب ہم نے ہوش سنبھالا‘ نوعمری‘ نوجوانی اور پھر جوانی کے آنگن میں داخل ہوئے تو اس وقت بھی شمشاد بیگم کی خوبصورت آواز برّصغیر میں گونج رہی تھی۔ یہاں تک کہ ہم پاکستان آ گئے مگر اس دل میں اُتر جانے والی آواز نے یہاں بھی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا۔ یہ نعت ولی صاحب نے لکھی تھی جو اس زمانے میں بھی نامور شاعر اور ادیب تھے۔ انہوں نے گراموفون کمپنیوں کیلئے مختلف ناقابل فراموش نغمات لکھے تھے۔ آغا جی اے گل سے ان کی بہت دوستی تھی بلکہ گاڑھی چھنتی تھی۔ جب انہوں نے فلمیں بنانا ترک کر دیا تھا‘ اس کے بعد بھی اکثر شام کے وقت ایورنیو سٹوڈیوز میں آ کر آغا صاحب کے کمرے میں بیٹھتے تھے اور زمانے بھر کے موضوعات پر باتیں کرتے تھے۔ انہیں دیکھ کر اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ اتنی بڑی عمر کے ہیں۔ صحت بہت اچھّی تھی۔ مضبوط جسم اور خوش مزاج آدمی تھے۔ گفتگو کا سلیقہ بھی رکھتے تھے۔ اردو پنجابی دونوں زبانیں بہت اچھّے اور میٹھے انداز میں بولتے تھے۔ ان کی زبان سے ہم نے کبھی خود ان کی بڑائی تو کیا پرانے دنوں کا کوئی قصہ تک نہیں سنا ۔عام طور پر لوگ اپنے عروج کے زمانے کے واقعات کسی نہ کسی بہانے یا موقع و محل کے مطابق سناتے رہتے ہیں مگر ولی صاحب کے مزاج میں انکسار بہت زیادہ تھا۔ اتنے عظیم انسان اور اس قدر سادہ اور اپنے بارے میں چپ چاپ! حیرت کی بات ہے۔

ہم شمشاد بیگم کی آواز کے دلدادہ تھے بلکہ ان کے نادیدہ پرستار تھے۔ دیکھا جائے تو ہم پیدائش سے پہلے ہی ان کے مدّاح تھے کیونکہ ہماری پسندیدہ نعت انہوں نے ہماری پیدائش سے ایک سال پہلے ریکارڈ کرائی تھی۔ شعور کی عمر میں داخل ہوئے اور فلموں سے دلچسپی پیدا ہوئی تو ہم نے شمشاد بیگم کے بارے میں بہت کرید کی مگر معلوم ہوا کہ وہ ایک گوشہ نشین اور خاموشی پسند خاتون ہیں۔ نہ کسی میگزین میں ان کا چرچا دیکھا‘ نہ کوئی سکینڈل ان سے منسوب ہوا۔ یہاں تک کہ ان کے بارے میں اس کے سوا کوئی دوسری خبر تک نہیں پڑھی کہ فلاں گیت شمشاد بیگم نے گایا ہے اور بس۔

شمشاد بیگم کے ابتدائی دور کا ایک اور گانا بھی ہمیں بہت اچھّا لگا تھا۔

اک بار پھر کہو ذرا

کہ میری ساری کائنات

تیری اک نگاہ پر

نثار ہے۔

یہ ایک سدا بہار گیت ہے جو انہوں نے ریڈیو پر بھی گایا تھا ۔اس سے پہلے یہ ریکارڈنگ کمپنی کے توسط سے ریلیز ہوا تھا۔ جن دنوں شمشاد بیگم نے نعت ریکارڈ کرائی تھی اس وقت وہ بہت کم عمر تھیں لیکن آواز کی پختگی اور گائیکی کا انداز ایسا ہے کہ سننے والے کو گمان تک نہیں گزرتا کہ یہ نعت کسی بارہ سالہ لڑکی نے گائی ہے۔

اس پُراسرار ہستی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو ہمیں بہت کچھ معلوم ہوا۔

شمشاد بیگم 1920ء میں لاہور میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کا بچپن بھی لاہور میں ہی گزرا۔ اس زمانے میں لاہور میں بھی ریڈیو سٹیشن قائم ہو چکا تھا۔ وہ بارہ سال کی تھیں جب انہوں نے ولی صاحب کی تحریر کردہ یہ نعت ریڈیو لاہور سے گائی۔ یہ نعت اس قدر مقبول ہوئی کہ ہندوستان بھر میں کشمیر سے لے کر راس کماری تک یہ آواز گونجنے لگی اور شمشاد بیگم نے مقبولیت کے ایسے جھنڈے گاڑے جو نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے تک پوری شان و شوکت سے لہراتے رہے۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

شمشاد بیگم کا گانے والوں میں شُہرہ ہوا تو ماسٹر غلام حیدر نے اپنی فلم ’’یملا جٹ‘‘ کیلئے ان کی آواز میں ایک گانا ریکارڈ کیا۔ ماسٹر غلام حیدر اس وقت لاہور میں تھے اور شُہرت کے زینے طے کر رہے تھے۔ یہ ایک پنجابی فلم تھی جس کیلئے شمشاد بیگم کا گایا ہوا گیت بے حد مقبول ہوا۔ ماسٹر غلام حیدر کو یہ آواز اس قدر پسند آئی کہ اپنی اگلی فلموں ’’خزانچی اور پونجی‘‘ کے نغمے بھی انہوں نے شمشاد بیگم ہی کی آواز میں ریکارڈ کئے ۔’’خزانچی‘‘ 1941ء میں اور ’’پونجی‘‘ 1942ء میں بنائی گئی تھی۔ یہ دونوں اپنی موسیقی کی وجہ سے سُپرہٹ فلمیں تھیں۔ 1943ء میں ’’خاندان‘‘ ریلیز ہوئی۔ یہ فلم نور جہاں اور شوکت حسین رضوی کی پہلی مشترکہ فلم تھی اور کئی اعتبار سے ایک یادگار فلم تھی۔ اس کے موسیقار بھی ماسٹر غلام حیدر ہی تھے۔ ’’خاندان‘‘ نور جہاں کے گانوں کی وجہ سے شناخت کی جاتی ہے۔ وہی پہلی بار اس فلم میں ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئی تھیں اسلئے اس فلم کے بیشتر گانے بھی ان ہی کی آواز میں ریکارڈ کئے گئے تھے اور آج بھی تروتازہ ہیں لیکن اس فلم میں ایک گانا شمشاد بیگم نے بھی گایا تھا جو بے حد پسند کیا گیا۔

پی لے پی لے مورے راجا، دوزخ سے کیا ڈرنا

1944ء میں فلم ’’شیریں فرہاد‘‘ ریلیز ہوئی۔ اس کے موسیقار رشید عطرے تھے بلکہ یہ موسیقار کی حیثیت سے رشید عطرے صاحب کی پہلی فلم تھی۔ اس فلم میں شمشاد بیگم کے گائے ہوئے دو گیت بے حد پسند کئے گئے۔

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ