سیزنل انفلوئنزا سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

سیزنل انفلوئنزا سے کیسے محفوظ رہا جائے؟
سیزنل انفلوئنزا سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

  

تحریر : رانا اعجاز حسین چوہان

ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں سیزنل انفلوئنزا ( سوائن فلو)سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن کیساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ جبکہ سیزنل انفلوئنزا کے مرض کے باعث اب تک 14 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، اور سینکڑوں افراد مختلف ہسپتالوں میں زیر علا ج ہیں۔ حکومت پنجاب کی جانب سے ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کرتے ہوئے سیزنل انفلوئنزا کے مریضوں کی تشخیص و علاج کے لئے علیحدہ ایمرجنسی آئسولیشن میڈیکل وارڈ قائم کردیے گئے ہیں، جہاں سینئر میڈیکل آفیسرز تعینات ہیں، اور حفاظتی ویکسی نیشن کا انتظام کردیا گیا ہے۔ دیگر شہروں کی طرح نشتر ہسپتال ملتان میں بھی 4 ایمرجنسی کاونٹرز قائم کر دئیے گئے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق یہ مرض قابل علاج ہے، مگر اس خطرناک مرض سے بچاؤ کے لئے شہریوں کا اس سے مکمل آگاہ ہونا اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنا اشد ضروری ہے۔ بوڑھے افراد ، بچے ، حاملہ خواتین ، ذہنی دباؤ ، جگر، گردہ، دل ، دمہ اور شوگر کے عارضے میں مبتلا افراد اس وائرس کا آسان شکار ہوتے ہیں، جنہیں سرد موسم میں اس وائرس سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ویکسین کی ضرورت ہوتی ہے۔

سیزنل انفلوائنزا جسے پہلے سوائن فلو کہا جاتا تھا،اب سیزنل انفلوئنزا ( اے ایچ ون این ون ) کے نام سے جانا جاتا ہے، جو کہ ایک وائرس سے پھیلتا ہے، اور متاثرہ شخص کے کھانسنے یا چھینکنے سے آلودہ ذرات پھیلتے ہیں اور دوسروں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مریضوں کے سانس سے ہوا، اور ہاتھوں سے مختلف جگہوں پر پھیلتا ہے۔جب کوئی صحت مند انسان متاثرہ جگہ پر ہاتھ لگاتا ہے تو یہ جراثیم اس کے جسم میں داخل ہوکر اسے بھی دو یا تین دن میں متاثر کردیتا ہے جس سے مریض کو نزلہ اور زکام ہوجاتا ہے۔

سیزنل انفلوائنزا کی واضع علامات سانس لینے میں دشواری، کھانسی، بخار ، سرمیں درد ، پٹھوں اور جوڑوں میں درد ہونا، گلے کا خراب ہونا، ناک کا بہنا وغیرہ ہیں۔ مرض کے شدت اختیار کرنے کی صورت میں متاثرہ شخص کو الٹیاں ، دست اور سینے میں درد رہنے لگتا ہے۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

سیزنل انفلوئنزا سے متاثرہ افراد کو چاہئے کہ وہ کھانستے وقت پا چھینک آنے پر اپنے منہ اور ناک پر صاف کپڑا یا پھر ٹشو پیپر رکھیں تاکہ اس مرض کے جراثیم مزید پھیلنے سے روکا جاسکے، اور پھر استعمال شدہ کپڑا یا ٹشو پیپر فوری طور پر ضائع کردینا چاہیے۔ اس کے علاوہ عام لوگوں سے میل جول میں احتیاط برتنا چاہئے، ہاتھوں کے گندا ہونے پر ان سے آنکھوں ، منہ یا ناک کو چھونے سے گریز کرتے ہوئے ، ہاتھوں کومعیاری اینٹی سیپٹک صابن سے اچھی طرح بار بار دھونا چاہئے۔ ایسی غذائیں استعمال کرنی چاہیے جن میں زیادہ پروٹین زیادہ ہوں، مثلاً انڈہ ، چھوٹا گوشت، بڑا گوشت اور دالیں وغیرہ۔ معمولی نزلہ و زکام ہونے پر سیزنل انفلوئنزا سے بچنے کے لئے فوری طور پر معالج سے رجوع کرنا چاہیے، یہاں واضع رہے کہ ہر نزلہ و زکام سیزنل انفلوئنزا نہیں ہوتا۔ لیکن احتیاط کا تقاضا ہے کہ شدید نزلہ و زکام کی صورت میں کام ، سکول اور ہجوم والی جگہوں جیسے مارکیٹ وغیرہ نہ جایا جائے، ہوسکے تو گھر پر ہی رہ کر آرام کیا جائے۔ مرض میں افاقہ نہ ہونے اور سیزنل انفلوئنزا کی دیگر علامات مثلاًسانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی، سردرد ، پٹھوں ،جوڑوں میں درد، اور گلے خراب ہونے کی صورت میں فوری طور پر سینئر معالج یا قریبی ہسپتال سے رجوع کرنا چاہیے۔ کیونکہ مناسب احتیاط اور بروقت علاج سے ہی اس مرض سے بچاؤ ممکن ہے بے احتیاطی کی صورت میں آگے چل کر یہ وائرس موت کا سبب بن سکتا ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ