گوادر میں بچیوں کی تعلیم کا اہم مسئلہ

گوادر میں بچیوں کی تعلیم کا اہم مسئلہ
گوادر میں بچیوں کی تعلیم کا اہم مسئلہ

  

تحریر: ظریف بلوچ

معاشرے کی ترقی کے لئے سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری ادارے بھی اہم رول ادا کرتے ہیں۔ مکران بھی بلوچستان کے دوسرے علاقوں کی طرح بعض معاملات میں سماجی پسماندگی کا شکار ہے ۔یہاں کے خاص کر دیہی علاقوں میں گرلز ایجوکیشن کا تناسب بہت کم ہے۔ مکران میں تعلیم کے تناسب کو بہتر کرنے کے لئے دیگر اداروں کی طرح ادارہ استحکام شرکت ترقی نے ہر وقت اپنا رول بہتر انداز میں ادا کیاہے۔ ایس پی او تربت نے ماضی میں تربت اور گوادر میں سماجی اداروں اور سرکاری اداروں کے ساتھ ملکر شراکتی بنیاد پر سماجی ترقی کے لئے اپنا رول بہتر انداز میں ادا کیاتوجس کانتیجہ یہ نکلا کہ علاقے میں سماجی ترقی ہوئی ۔ادارہ نے سماجی تنظیموں کو تربیت دے کر انکو گرانٹ بھی فراہم کی تھی۔

ادارہ استحکام شرکتی ترقی یعنی ایس پی او تربت کی جانب سے حالیہ پروجیکٹ گرلز ایجوکیشن کے حوالے سے تھا۔ یو ایس ایڈ سمال گرانٹ پروجیکٹ میں تربت کے تین اور گوادر کے دو یونین کونسلز شامل تھے۔ اس پروجیکٹ کے بنیادی مقاصد ان بچیوں کو سکول میں داخلہ کروانا تھا جو کہ سکول ایج کے ہوتے ہوئے سکولز سے باہر تھے۔اور متعلقہ یونین کونسلز کے گرلز سکولوں میں مسنگ سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ استانیوں کو تربیت دینا بھی اس پروجیکٹ کا حصہ تھا۔ معلومات کے مطابق اس پروجیکٹ کے تحت ایس پی او تربت نے تربت اور گوادر میں پندرہ سو کے قریب بچیوں کو سکولوں میں انرول کیا اور اس حوالے سے شعور و آگہی کے پروگرام مرتب کرکے والدین کو بچیوں کی تعلیم کی اہمیت اور افادیت کے حوالے سے بتایا۔ مزید بتایا گیا کہ تربت اور گوادر کے کن پانچ یونین کونسلز میں اس پروجیکٹ کے تحت کام ہوا۔ 15 سینٹر قائم کرکے ان بچیوں کو پڑھایا گیا جو کہ سکول نہیں جاتے تھے۔ان 15سینڑ میں نو سینٹر کیچ کے تین یونین کونسلز میں قائم کئے گئے تھے جبکہ چھ سینٹر گوادر کی تحصیل پسنی کے یوسی نارتھ اور یوسی ساؤتھ میں قائم کئے گئے جہاں ایک سال کے دوران چار سو کے قریب ان بچیوں کو انرول کرکے پڑھایا گیا جو کہ مختلف وجوہات کے تحت سرکاری سکولز میں داخل نہیں تھے۔ان پندرہ سینٹرز کو اسٹبلش کرکے تمام بنیادی سہولیات بھی فراہم کی گئیں اور بچیوں کو بھی کتب اور بیگ ایس پی او کی جانب سے فراہم کیئے گئے۔ ایس پی او کی ٹیم ہر وقت ان سینٹرز کی نگرانی کرتا رہا۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

مزید بتایا گیا کہ اس کے علاو اس پروجیکٹ کے تحت ایس پی او نے گوادر اور تربت کے 132 سرکاری سکولوں کی استانیوں کو تربیت فراہم کی جبکہ 40 کے قریب گرلز سکولوں کو مسنگ سہولیات فراہم کیں۔

بلوچستان میں پہلے ہی سے گرلز ایجوکیشن کی صورتحال بہتر نہیں ہے اور خواتین کی شرح خواندگی تو27% ہے۔جبکہ گوادر ضلع میں خواتین کی شرح خواندگی 15% ہے۔ اس طرح کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایس پی او سمیت دیگر سماجی اداروں کو مکران میں گرلز ایجوکیشن پر مز ید کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ