سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود بہتری نہ آسکی، لاہور کے شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور

سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود بہتری نہ آسکی، لاہور کے شہری آلودہ پانی پینے پر ...
سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود بہتری نہ آسکی، لاہور کے شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) سپریم کورٹ کی جانب سے از خود نوٹس لیے جانے کے باوجود انتظامیہ کی نا اہلی کے باعث شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ گھروں میں فراہم کیے جانے والے پینے کے پانی میں سیوریج کے غلیظ پانی کی آمیزش سے بیماریاں پھیلنے لگیں۔

لاہور کے علاقے نیو گارڈن ٹاﺅن میں واسا کی نا اہلی کے باعث سیوریج کے پائپ جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جن سے نکلنے والا گندا اور ناپاک پانی پینے کے پانی میں مکس ہو کر گھروں میں سپلائی ہو رہا ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 6 سے 7 ماہ سے پینے کے پانی کی ابتر صورتحال کی طرف بار بار انتظامیہ کی توجہ دلائی گئی ہے لیکن کسی قسم کا ایکشن نہیں لیا گیا۔

علاقہ مکین ابراہیم گیلانی کا کہنا  ہے کہ انہوں نے واسا کو بار بار تحریری شکایات بھی کی ہیں لیکن مسئلہ حل نہیں کیا جارہا اس لیے چیف جسٹس آف پاکستان انتظامیہ کو فوری اقدامات یقینی بنانے کے احکامات جاری کریں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور