میڈیکل سپرٹنڈنٹس تسبیح پڑھتے رہے ،صحت ،تعلیم بہتر نہ ہوئی تو اورنج ٹرین سمیت تمام منصوبے روک دیں گے : چیف جسٹس

میڈیکل سپرٹنڈنٹس تسبیح پڑھتے رہے ،صحت ،تعلیم بہتر نہ ہوئی تو اورنج ٹرین سمیت ...
میڈیکل سپرٹنڈنٹس تسبیح پڑھتے رہے ،صحت ،تعلیم بہتر نہ ہوئی تو اورنج ٹرین سمیت تمام منصوبے روک دیں گے : چیف جسٹس

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار ،مسٹر جسٹس منظور احمد ملک اور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنچ نے پنجاب حکومت سے تمام سرکاری ہسپتالوں میں مشینری اور عملے کی قلت کے علاوہ ادویات اور آلات کے بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہسپتالوں کی صورتحال کی بہتری کے لئے پالیسی وضع کرنے کا حکم دے دیا ۔

فاضل بنچ نے چیف سیکرٹری کو حکم دیا ہے کہ سیکرٹری صحت اور تمام میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کے ساتھ مل کر لاہور کے تمام ہسپتالوں میں ادویات، آلات، مشینری، ڈاکٹروں اور عملے کی قلت پر مشتمل تفصیلی رپورٹ بنا کر7دن میں عدالت میں جمع کروائیں اور ہسپتالوں کی صورتحال کی بہتری کیلئے پالیسی بھی بنائی جائے، عدالت نے تمام میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے ہسپتال کے بارے میں الگ الگ بیان حلفی عدالت میں جمع کرائیں، ہسپتالوں کی صورتحال سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے قرار دیا کہ صحت کی صورتحال جانچنے کے لئے اندرون سندھ اور بلوچستان بھی جائیں گے ،عدالت نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پنجاب حکومت کی تشہیری مہم کے اخراجات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے قراردیا کہ پنجاب حکومت شہباز شریف کی تشہیر مہم پر پیسہ خرچ کرنے کی بجائے ہسپتالوں میں ادویات کی قلت ختم کرنے پر پیسہ خرچ کرے تو مریضوں کو سہولیات مل سکتی ہیں۔ ہمارامقصد شعبہ صحت کی بہتری ہے ،کسی فراہمی کے پیچھے کرپشن نظر آئی تو اسے نہیں چھوڑیں گے ،خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے ملک ہوتے ہیں ،ملک کی خدمت کرنا ہوگی ،وطن کی قدر نہ کرنے والے بدنصیب لوگ ہیں ۔سماعت کے دوران چیف سیکرٹری پنجاب زاہد سعید، سیکرٹری صحت پنجاب اور لاہور کے تمام 16 ہسپتالوں کے سپرٹنڈنٹس عدالت میں پیش ہوئے، کئی میڈیکل سپرٹنڈنٹس ہاتھوں میں تسبیح تھامے اللہ کا ذکر کرتے نظر آئے، سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے چیف سیکرٹری کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سرکاری ہسپتالوں میں جان بچانے والی اور دیگر ادویات کی قلت ہے جبکہ مشینری اور دیگر آلات بھی ہسپتالوں میں مکمل نہیں ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، چیف جسٹس نے ہسپتالوں میں ادویات کی قلت ختم کرنے کی بجائے شہباز شریف کی تصاویر پر مشتمل پنجاب حکومت کی تشہیری مہم پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مریض ادویات نہ ہونے کی وجہ سے مر رہے ہیں جبکہ حکمرانوں کو ذاتی تشہیر کی پڑی ہوئی ہے، تشہیری مہم بند کر کے پیسہ مریضوں کی ادویات پر لگایا جائے، صحت اور تعلیم کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو اورنج ٹرین سمیت تمام منصوبے روک دیں گے ، ازخود نوٹس کا مقصد ایکشن لینا نہیں بلکہ ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر کرنا ہوگا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سروسز ہسپتال کے ایک وارڈ میں آپریشن کے دوران زخم پر ٹانکے لگانے والا آلہ نہیں تھا، صحت عوام کی بنیادی آئینی حق ہے، عدلیہ عوام کے بنیادی آئینی حقوق کا تحفظ کرے گی ، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ پنجاب حکومت کی پچھلے 15دنوں کی تشہیری مہم پر کتنا پیسہ خرچ ہوا، اس کی تفصیلات جمع کروائی جائیں، عدالت نے مزید سماعت ایک ہفتہ کے لئے ملتوی کر دی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور