نجی میڈیکل کالجوں کا معیار جانچنے کے لئے کمیٹی قائم ، 6لاکھ 42ہزار سے زائد فیس پر پابندی

نجی میڈیکل کالجوں کا معیار جانچنے کے لئے کمیٹی قائم ، 6لاکھ 42ہزار سے زائد فیس ...
نجی میڈیکل کالجوں کا معیار جانچنے کے لئے کمیٹی قائم ، 6لاکھ 42ہزار سے زائد فیس پر پابندی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگارخصوصی)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ،جسٹس منظور احمد ملک اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے نئے نجی میڈیکل کالجوں کی نئی رجسٹریشن اور وائی ڈی اے کی ہڑتالوں پر پابندی لگا دی جبکہ رجسٹرڈ میڈیکل کالجوںمیں داخلوں کی اجازت دیتے ہوئے وہاںطلباءکو دی جانے والی سہولیات اوران کالجوں کے معیار کا جائزہ لینے کے لئے اٹارنی جنرل کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

عدالت نے نجی میڈیکل کالجوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی طالب علم سے 6لاکھ 42ہزار روپے سالانہ سے زیادہ فیس وصول نہ کی جائے ۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ معیار پر پورا نہ اترنے والے میڈیکل کالجوںاور یونیورسٹیوں کو بندکردیں گے ۔نجی میڈیکل کالج میں اضافی فیسوں کی وصولی کے از خود نوٹس کیس میں نجی میڈیکل کالجوں کے چیف ایگزیکٹو اور مالکان عدالت میں پیش ہوئے اور بیان حلفی جمع کرائے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرزپرائیویٹ کلینکس پر کام کرتے ہیں ایسے تمام کلینک بند کروا دیں گے ،ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں،یہ میرا عزم ہے اور میں یہ ٹھیک کرکے رہوں گا۔چیف جسٹس نے رجسٹرڈ میڈیکل کالجوںکو تنبیہ کی کہ اگر زائد فیس وصول کی تو معافی نہیں، چیف جسٹس نے نئے میڈیکل کالجوںکی رجسٹریشن پر پابندی لگا دی جبکہ وائی ڈی اے کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر سلمان کاظمی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ احتجاج کرنا بند کردیں، وائی ڈی اے اب کسی ایشو پر احتجاج نہیں کرے گی ،اگر کوئی مسئلہ ہے تو عدالت سے رجوع کریں،عدالت نے نجی میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر، تعلیمی نصاب، سہولیات کا جایزہ لینے کے لئے اٹارنی جنرل کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے اسے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ،فاضل بنچ نے قراردیا کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی سائنس کی ہمیں سب سمجھ آنا شروع ہوگئی ہے ،خرابی پکڑی گئی تو تمام میڈیکل کالج اور یونیورسٹیاں بند کروادیں گے ۔پرائیویٹ میڈیکل کالجز اپنی مارکنگ کرتے ہیں اور اپنے طلباءکو پاس کرتے ہیں ،ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ ایک جگہ داخلہ ہو اور ایک میرٹ بنے ۔ڈونیشن اور پیسے کی بنیاد پر داخلے نہیں ہوں گے ۔عدالت میں ایک طالب علم نے نجی میڈیکل کالج کی طرف سے 50ہزار روپے زائد فیس لینے کی شکایت کی تو عدالت نے متعلقہ کالج کو یہ رقم واپس کرنے کا حکم بھی دیا ۔

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور