سرکٹی لاش ملنے کے بعد 2 یورپی ملکوں میں نیا ہنگامہ شروع ہوگیا، سرحدیں تبدیل کرنے کی تیاریاں

سرکٹی لاش ملنے کے بعد 2 یورپی ملکوں میں نیا ہنگامہ شروع ہوگیا، سرحدیں تبدیل ...
سرکٹی لاش ملنے کے بعد 2 یورپی ملکوں میں نیا ہنگامہ شروع ہوگیا، سرحدیں تبدیل کرنے کی تیاریاں

  

ایمسٹرڈیم(نیوز ڈیسک) دنیا میں درجنوں ایسے ممالک ہیں جن کے درمیان سرحدی تنازعے کشیدگی کا باعث بنے ہوئے ہیں اور بسا اوقات تو یہ تنازعے خوفناک جنگوں کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔ ایسے تمام ممالک کے لئے یورپی ملکوں ہالینڈ اور بیلجیئم نے سنہری مثال قائم کر دی ہے کہ کس طرح ایسے تنازعوں کا پرامن حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ دونوں ممالک نے کئی دہائیوں سے جاری سرحدی اختلاف کو ختم کرتے ہوئے آپس میں 48 ایکڑ زمین کا تبادلہ کرکے سرحدوں کے اختلاف کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا ہے۔ یکم جنوری کے روز بیلجیئم کے مشرقی خطے وائسے اور ہالینڈ کے جنوب مغربی خطے ایجسدن کے درمیان سرحد کو اس کی تاریخی جگہ پر یعنی دریائے میوس کے عین درمیان حتمی طور پر متعین کردیا گیا، جو کہ دونوں ممالک کو جدا کرتا ہے۔

گزشتہ صدیوں کے دوران دریا کا رُخ بتدریج بیلجیئم کی جانب منتقل ہونے سے اس کے دو جزائر دریا کے اس پار ہالینڈ کی طرف منتقل ہوگئے تھے۔ اس سے پہلے 1843ءمیں سرحد کا تعین کیا گیا تھا جو دریا کا رخ بدلنے سے موثر نہیں رہا تھا، لہٰذا اب 170 سال بعد دوبارہ پرامن طریقے سے حد بندی کردی گئی ہے۔

چین نے بھارت کے سمندر میں بھی کیمرے لگا رکھے ہیں، بھارت میں شدید خوف وہراس پھیل گیا

بیلجیئم کے جزائر ہالینڈ کی جانب منتقل ہونے کی وجہ سے ان پر امن وامان کی بحالی بیلجیئم کی پولیس کے لئے ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا تھا۔ انہیں ان جزائر پر پہنچنے کے لئے پہلے ہالینڈ کی حکومت سے اجازت لینا پڑتی تھی اور جزائر تک رسائی کے لئے کشتیاں استعمال کرنا پڑتی تھیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہنچ سے تقریباً باہر ہونے کی وجہ سے یہ جزائر لاقانونیت کا گڑھ بن گئے تھے اور یہاں منشیات فروشوں اور جسم فروشی کا دھندہ کرنے والوں نے ڈیرے جمالئے تھے۔

کچھ عرصہ قبل جب ان میں سے ایک جزیرے پر سرکٹی لاش ملنے کا خوفناک واقعہ پیش آیا تو اس معاملے کی تحقیق ایک پیچیدہ مسئلہ بن گیا۔ ہالینڈ کی پولیس اس معاملے کی تحقیق نہیں کرسکتی تھی کیونکہ قانونی طور پر یہ جزیرہ بیلجیئم کی ملکیت تھا جبکہ بیلجیئم کی پولیس کو تحقیق کرنے کے لئے نہ صرف اہلکار بلکہ قانونی ماہرین اور فورینزک ماہرین کو بھی کشتیوں کے ذریعے جزیرے پر پہنچانا پڑا۔ تب دونوں حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ اس معاملے کے حل کرنے کے لئے کوئی غیرمعمولی قدم اٹھانا ہو گا۔ قضیے کو حل کرنے کے لئے بالآخر ہالینڈ نے اپنی 40 ایکڑ زمین بیلجیئم کے حوالے کردی ہے جس کے بدلے بیلجئیم نے دریا کی دوسری جانب واقع اپنے دونوں جزائر ہالینڈ کو دے دئیے۔ یوں دونوں ممالک کے درمیان سرحد کا یہ مسئلہ پرامن طریقے سے حل ہوگیا ہے۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی