فکر نہ کریں، چاکلیٹ کے بارے میں یہ خبر بالکل غلط ہے، سائنسدانوں نے دنیا کو تسلی دے دی

فکر نہ کریں، چاکلیٹ کے بارے میں یہ خبر بالکل غلط ہے، سائنسدانوں نے دنیا کو ...
فکر نہ کریں، چاکلیٹ کے بارے میں یہ خبر بالکل غلط ہے، سائنسدانوں نے دنیا کو تسلی دے دی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)نئے سال کا آغاز ہوتے ہی چاکلیٹ کے دیوانوں پر یہ خبر بجلی بن کر گری کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث کوکا (مغربی افریقہ اور جنوبی امریکا میں اگنے والا ایک درخت جس کے بیجوں سے چاکلیٹ بنتی ہے) کے باغات خطرے میں ہیں اور آج سے 40 سال بعد صورتحال یہ ہو گی کہ لوگ چاکلیٹ کی شکل دیکھنے کو ترسیں گے۔ یہ خبر جریدے بزنس انسائیڈر کی ویب سائٹ پر سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ عالمی پیمانے پر بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور خشک سالی 2050ءتک کوکا کے درختوں کے خاتمے کا سبب بن جائے گی۔ خبر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ایٹ بارکلے کے سائنسدانوں کے حوالے سے شائع کی گئی تھی، لیکن جب چاکلیٹ کے خاتمے کی خبر نے دنیا بھر میں ایک ہنگامہ کھڑا کردیا تو سائنسدانوں کو بھی معاملے کی وضاحت کرنا پڑ گئی۔ اچھی خبر یہ ہے کہ کوکا کے باغات کے لئے کچھ خطرات ضرور ہیں لیکن اتنے زیادہ نہیں کہ چاکلیٹ دنیا سے ناپید ہی ہو جائے۔

مکڈونلڈز کے فرنچ فرائز اور لڑکیوں کے حاملہ ہونے میں ’گہرا تعلق‘ سامنے آگیا

یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق یونیورسٹی آف کیلیفورنیا بارکلے کی سائنس کمیونیکیشن منیجر میگن ہوسٹراسر نے وضاحتی بیان جاری کرتے وئے کہا ”بدقسمتی سے حال ہی میں سامنے آنے والا آرٹیکل جس میں ہمارے کوکا پراجیکٹ کا حوالہ دیا گیا تھا، میں دی گئی معلومات پوری طرح درست نہیں ہیں۔ اگلے 40 سال میں چاکلیٹ ختم نہیں ہونے جارہا۔ سائنسدان کرہ ارض کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے پیش نظر کوکا کے درختوں کو وائرس اور فنگس سے لگنے والی بیماریوں سے محفوظ رکھنے پر تحقیق ضرور کررہے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگلے 40 سالوں میں کوکا کے درخت ناپید ہوجائیں گے۔ جنوبی امریکہ کے خطے میں کوکا کے درختوں پر گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک پھپھوندی حملہ کررہی ہے۔ سائنسدان جین ایڈیٹنگ کے ذریعے کوکا کے درخت کا ڈی این اے تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ وہ اس قسم کی بیماریوں کے خلاف مزاحمت کرسکے۔“ اگر آپ بھی چاکلیٹ کے دیوانوں میں شامل ہیں تو امید ہے کہ یہ وضاحت آپ کے لئے بھی قابل اطمینان ہو گی۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس