ہمارے پاس پیسے نہیں مگر ہمارے ہیرے لے لو، دنیا کا بڑا ملک دوائی خریدنے کے لئے غربت کے ہاتھوں مجبور ہوگیا

ہمارے پاس پیسے نہیں مگر ہمارے ہیرے لے لو، دنیا کا بڑا ملک دوائی خریدنے کے لئے ...
ہمارے پاس پیسے نہیں مگر ہمارے ہیرے لے لو، دنیا کا بڑا ملک دوائی خریدنے کے لئے غربت کے ہاتھوں مجبور ہوگیا

  

کراکس(نیوز ڈیسک)بارٹر سسٹم، یعنی اشیاءکے بدلے اشیاءکا لین دین، قدیم دور کی معیشت کا اصول ہوا کرتا تھا لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے وینز ویلا، جو کہ تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود اقتصادی بدانتظامی کے باعث کنگال ہو چکا ہے، کے شہری ایک بار پھر اسی نظام کو اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ا س سے بھی بڑھ کر حیرانی کی یہ بات ہے کہ صرف عام شہری ہی نہیں بلکہ وینز ویلا کی حکومت کے پاس بھی بیرونی ممالک سے تجارت کے لئے کچھ نہیں بچا اور اب غیرملکی فارماسوٹیکل کمپنیوں سے ادویات خریدنے کے لئے ہیرے، سونا اور کولٹان نامی نایاب دھات کی پیشکش کی جارہی ہے ۔

پیسے بچانے کا جاپانی طریقہ جانئے جس پر عمل کرکے آپ کا مہینے کا خرچہ باآسانی 35 فیصد کم ہوسکتا ہے

ویب سائٹ ’مارکیٹ واچ‘ کے مطابق وینز ویلا کے ہسپتالوں سے ادویات ختم ہوگئی ہیں اور حکومت کے پاس غیر ملکی کمپنیوں سے ادویات خریدنے کے لئے ڈالر نہیں ہیں۔ بالآخر مجبور ہوکر وینز ویلا کی حکومت غیر ملکی کمپنیوں کو یہ پیشکش کر رہی ہے کہ ادویات کے بدلے ہیرے، سونا اور کولٹان دھات لے لیں۔

اس انوکھی پیشکش نے فارماسوٹیکل کمپنیوں کو پریشان کردیا ہے کیونکہ ان کے پاس ادویات کے بدلے جواہرات قبول کرنے کا کوئی نظام رائج نہیں ہے۔ کمپنیاں یہ سوچ کر بھی پریشان ہیں کہ ماضی میں وینز ویلا کی حکومت کا ادائیگیوں کے حوالے سے ریکارڈ اچھا نہیں ہے ۔ یہ تاثر عام پایا جارہا ہے کہ اگر انہوں نے وینز ویلا کی حکومت کو ادویات فراہم کربھی دیں تو اس کے بدلے زروجواہرات کی صورت میں بھی ادائیگی یقینی نہیں۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

بہرحال ملک کے وزیر صحت نے حال ہی میں ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران فارماسوٹیکل کمپنیوں کو یہ پیشکش کردی ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ کسی کمپنی نے اس پیشکش کو قبول کیا ہے یا نہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی