چیف جسٹس آف پاکستان نے شاہ زیب قتل کیس کی اپیل طلب کر لی

چیف جسٹس آف پاکستان نے شاہ زیب قتل کیس کی اپیل طلب کر لی
چیف جسٹس آف پاکستان نے شاہ زیب قتل کیس کی اپیل طلب کر لی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے شاہ زیب قتل کیس میں دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کے خلاف درخواست طلب کرلی ہے تاہم اس  کا جائزہ لینے کے بعد اس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

کچرا سمگل کرنے کے الزام میں 8سمگلر گرفتار

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے شاہ زیب قتل کیس میں مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے خلاف شہریوں کی درخواست کو طلب کرلیا ہے۔ یہ درخواست ملزمان کی ضمانت پر رہائی کے بعد سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سول سوسائٹی نے شہریوں کے تعاون سے جمع کرائی تھی جس میں موقف اپنایا گیاکہ شاہ زیب کا قتل ذاتی نوعیت کا نہیں تھا اس قتل سے معاشرے پر سنگین نتائج برآمدہوئے ہیں، اہل خانہ نے دباو میں آکر قاتلوں سے صلح کی کیوں کہ قاتل بااثر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور صوبائی حکومت بھی ملزمان کی حمایت کررہی ہے جب کہ شاہ زیب کے قتل سے علاقے میں دہشت اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوئی اور سپریم کورٹ معاملے کا پہلے بھی نوٹس لے چکی ہے۔چیف جسٹس نے کراچی رجسٹری میں دائر درخواست کو سپریم کورٹ میں طلب کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ 23 دسمبر 2017کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کراچی جنوبی امداد حسین کھوسو نے شاہ زیب قتل کیس میں فریقین کا موقف سننے کے بعد ملزمان شاہ رخ جتوئی، سجاد تالپور، غلام مرتضی سمیت تمام ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

خیال رہے کہ 20 سالہ نوجوان شاہ زیب خان کو دسمبر 2012 میں ڈیفنس کے علاقے میں شاہ رخ جتوئی اور اس کے دوستوں نے معمولی جھگڑے کے بعد مبینہ طور پر گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد