شیخ رشید اپنے محسن وزیر اعظم کی حکومت پر رحم کریں

شیخ رشید اپنے محسن وزیر اعظم کی حکومت پر رحم کریں

ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے شہباز شریف کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانے کے فیصلے کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے قوم کی لوٹنے والے گرفتار ہو کر بھی قوم کا پیسہ استعمال کر رہے ہیں چوروں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کے لئے ڈاکٹروں نے بیان دیا کہ انہیں کھلی فضا میں رکھو۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں چیئرمین پی اے سی کے معاملے پر حکومت سے شدید اختلاف ہے دودھ کی رکھوالی پر بلا بٹھا دیا گیا ہے، ڈاکو کسی کا احتساب نہیں کر سکتا۔ دوسری جانب سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ شیخ رشید میں ہمت ہے تو سامنے آکر ایل این جی کے معاملے پر بات کریں۔ وہ صرف ایل این جی (لیکیوفائیڈ نیچرل گیس) کے سپیلنگ ہی بتا دیں۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے رکن رانا ثنا اللہ نے شیخ رشید کی نا اہلی کے لئے سپیکر قومی اسمبلی کو ریفرنس بھیج دیا ہے انہوں نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ شیخ رشید نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا جوئے کے اڈے چلائے، بھتہ لیا، بے نامی جائیدادیں بنائیں انہیں ایوان سے نکالا جائے مسلم لیگ (ن) کی ایک خاتون رکن نے پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد جمع کرا دی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کے اثاثوں کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی جائے۔

شیخ رشید احمد اپنی یک نفری عوامی مسلم لیگ کے سربراہ ہیں اور حکومت کے حلیف ہونے کی وجہ سے اس وقت کابینہ کے رکن ہیں انہیں وزیر بنا کر وزیر اعظم عمران خان نے بہت بڑا رسک لیا ہے کیونکہ وہ ان کے بارے میں ریکارڈ پر ہیں کہ وہ شیخ رشید جیسے بندے کو اپنا چپراسی بھی نہ بنائیں اب اگر انہوں نے انہیں چپڑاسی کی بجائے اپنی کابینہ کا وزیر بنا لیا ہے تو ممکن ہے ان کی کوئی نہ کوئی مجبوری بھی ہو جس کا اظہار وہ نہ کرنا چاہتے ہوں ویسے بھی تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں اکثریت نہیں ہے اور حکومت سازی کے لئے انہیں دوسری جماعتوں کی حمایت پر انحصار کرنا پڑتا ہے جن میں شیخ صاحب کی جماعت بھی شامل ہے جس کے وہ قومی اسمبلی کے واحد رکن ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی مہربانی ہے کہ انہوں نے اپنی جماعت کی مخالفت کے باوجود شیخ رشید کے الیکشن میں ان کے خلاف اپنا امیدوار کھڑا نہ کیا اور انہیں نہ صرف رکن اسمبلی بنانے میں ان کی معاونت کی بلکہ بعد میں انہیں وزیر بھی بنایا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اب اپنی ہی حکومت کے فیصلوں کے خلاف عدالتوں میں جائیں ویسے اگر انہوں نے اپنا یہ شوق پورا کرنا ہے جس کا انہیں حق بھی ہے تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ پہلے وزارت چھوڑیں اور پھر جو جی چاہے کرتے پھریں۔

یہ درست ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کے مسئلے پر تحریک انصاف کا ایک موقف تھا لیکن بعد میں اگر اس نے اس میں تبدیلی کی تو کسی نہ کسی مصلحت کی بنا پر ہی کی ہو گی۔ ورنہ تو عمران خان اور پوری تحریک انصاف اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی تھی۔ یہ بالکل ایسا ہی معاملہ ہے جیسے عمران خان نے بار بار کہا کہ وہ شیخ رشید کو چپراسی بھی نہ رکھیں، لیکن بدلے ہوئے حالات میں انہیں وزیر بنانے کا فیصلہ کرنا پڑا اس طرح سیاستدانوں کو بہت سے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ فیصلہ تبدیل کرنا پڑتا ہے یو ٹرن بھی لینا پڑتا ہے بلکہ اب تو وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یوٹرن لینا بڑے لیڈر کی نشانی ہے اس لئے اگر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی کے معاملے پر حکومت نے یو ٹرن لیا ہے تو شیخ رشید کو اس پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے بعد خاموش ہو جانا چاہئے تھا اور وزیر اعظم کے فیصلے کو قبول کر لینا چاہئے تھا لیکن نہ جانے کیوں اور کس برتے پر وہ اس ضمن میں مسلسل جارحانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں اور ہر روز شہباز شریف کے خلاف چور، ڈاکو وغیرہ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔اب کہہ رہے ہیں فیصلہ جس نے بھی کیا ہے مجھے قبول نہیں۔

لگتا ہے ان کے رویئے سے تنگ آکر ہی رانا ثناء اللہ کو بھی میدان میں آنا پڑا ہے اور انہوں نے سپیکر کو ان کے خلاف باقاعدہ ریفرنس بھیج دیا ہے جس میں دوسری باتوں کے علاوہ یہ بھی لکھا ہے کہ شیخ رشید جوئے کے اڈے چلاتے ہیں ممکن ہے یہ محض الزام ہی ہو تاہم اگر اس میں کوئی سچائی ہے تو سپیکر صاحب ان سے ثبوت طلب کر لیں گے لیکن بہتر ہوتا کہ شیخ رشید اپنی حدود سے تجاوز نہ کرتے اب انہوں نے ایسا کیا ہے تو انہیں جوئے کے اڈے چلانے کا الزام بھی سننا پڑا ہے۔ اسی لئے ہم نے ان کالموں میں سیاستدانوں سے ہمیشہ ادب کے ساتھ درخواست کی ہے کہ وہ مخالفوں کے خلاف اظہار خیال کرتے ہوئے الفاظ کا استعمال سوچ سمجھ کر کیا کریں۔ شیخ رشید بھولے تو نہ ہوں گے کہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف جب وہ وزیر اعظم تھیں کس طرح کے الفاظ استعمال کرتے تھے۔ پھر انہیں اس کا نتیجہ بھی بھگتنا پڑا، اسی طرح انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کے خلاف بھی سوقیانہ الفاظ استعمال کئے اور آصف علی زرداری کو جیل بھیجنے کی پیش گوئیاں کرتے رہتے ہیں اگر جواب میں پیپلزپارٹی کا کوئی جیالا انہیں کچھ کہہ دے تو سیخ پا ہو جاتے ہیں بہتر ہوتا کہ وہ ’’اپنی عزت اپنے ہتھ‘‘ کے سنہری اصول پر عمل کرتے چونکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا اس لئے اب معاملہ جو رخ اختیار کر گیا ہے دیکھیں بات کہاں تک پہنچے۔

شہباز شریف پر جو بھی الزامات ہیں کسی عدالت نے ان پر ابھی تک فیصلہ نہیں دیا۔ ریفرنس دائر ہونے کے بعد جو فیصلہ بھی آئے اس کے بعد ہی کوئی ملزم مجرم بنتا ہے پھر اپیلوں کا قانونی حق استعمال کرتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح شیخ رشید خود بے نظیر بھٹو کے دور میں عدالت کے حکم پر جیل کاٹ چکے ہیں وہ اگر اسی جیل کو پیش نظر رکھیں تو شہباز شریف کو بار بار ’’جیل سے آیا ہوا چور‘‘ کہہ کر خطاب نہ کریں ، کیونکہ وہ خود بھی تو ایک الزام میں جیل بھگت چکے ہیں اور ’’جیل سے آئے ہوئے‘‘ کی ذیل میں آتے ہیں شہباز شریف تو پھر بھی بغیر سزا کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں شیخ رشید کو تو سزا سنا کر جیل بھیجا گیا تھا۔ انہیں شاید یہ سب کچھ یاد نہیں ورنہ وہ شہباز شریف کی جیل کا اس طرح تذکرہ نہ کرتے ویسے بھی خدائے جبار و قہار کی ذاتِ بابرکات انسانوں کے درمیان دنوں کو بدلتی رہتی ہے۔ اس لئے شیخ صاحب اپنے اظہار خیال میں محتاط رہیں اور تکبر و نخوت کا مظاہرہ نہ کریں تو ان کے لئے اچھا ہے وہ آج وزیر ہیں لیکن ہمیشہ وزیر نہیں رہیں گے نہ التفاتِ دل دوستاں انہیں ہمیشہ حاصل رہے گاسیاست میں لوگ جیل جاتے آتے رہتے ہیں کیا پتہ کل کلاں شیخ صاحب کو دوبارہ کوئی ایسا تلخ تجربہ ہو جائے، ویسے بھی وزیر ہونے کی حیثیت سے ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے اس وزیر اعظم کے لئے مشکلات پیدا نہ کریں جس نے انہیں اپنے قول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وزیر بنا دیا وہ بار بار عدالت جانے کی بات کرتے ہیں یعنی وہ اس حکومت کے خلاف عدالت جائیں گے جس نے انہیں قومی اسمبلی میں صرف ایک نشست کی بنیاد پر وزیر بنا دیا اور تحریک انصاف میں مخالفت کے باوجود ان کے بھتیجے کو ایم این اے بننے میں مدد دی۔ شیخ رشید اپنے محسن وزیر اعظم کی حکومت پر رحم نہیں کر سکتے تو پہلے وزارت چھوڑیں پھر عدالت سمیت جہاں چاہیں جائیں۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شیخ کی ہٹ دھرمی وزیر اعظم کو اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کردے۔

مزید : رائے /اداریہ