رسمِ حنا اور بیک ورڈ اردو میڈیم

رسمِ حنا اور بیک ورڈ اردو میڈیم
رسمِ حنا اور بیک ورڈ اردو میڈیم

  

آجکل شادیوں کا سِیزن ہے ۔ شادی والے گھر کے ہنگامے اپنی جگہ ، لیکن مہمانوں کے لئے پے در پے شرکت کے بُلاوے بھی کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتے ۔ اِن موقعوں پر میرے مرحوم دوست رفیق غوری کہا کرتے تھے ’’آہو ، بندے دی اینی واقفیت وی نئیں ہونی چاہی دی‘‘ ۔ میری واقفیت کا دائرہ اتنا وسیع نہیں ، مگر مجھے ایک ایسے عزیز دوست کے بیٹے نے امتحان میں ڈال دیا ہے جو خود اب دنیا میں نہیں ۔ کہنے والے کہیں گے کہ پھر تو آپ کی شرکت اور ضرور ی ہو گئی ۔

سچ تو یہ ہے کہ مَیں بھی مُدت سے اِس خوشی کے انتظار میں تھا ۔ پر جی ، دعوت نامہ ایک نہیں ملا بلکہ تین تین ۔ یعنی اختتامِ ہفتہ بارات ، ولیمہ اور اُس سے پہلے مہندی ۔ تو ، حضور ، مہندی میں سالٹ اینڈ پیپر بالوں والے ، ایک قبول صورت ، عینک پوش بابے کا رول کیا ہوگا ؟ بابے کے دل و جاں پہ یہی کنفیوژن چھایا ہوا ہے۔

پس منظر جاننا چاہیں تو مَیں نے کئی سال پہلے دل ہی دل میں سوچ لیا تھا کہ دنیا چاہے جتنی بدل جائے ، بندے کی کوشش یہ ہو گی کہ وہ نئے زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملائے چلتا رہے ۔ دیکھئے نا ، لمبے لمبے اوور کوٹوں کی جگہ چمڑے کی جیکٹ نے لے لی تو آواز آئی کہ اب جیکٹ ہی چلے گی ۔ استاد امانت علی خاں اور مہدی حسن کی بجائے کوک اسٹوڈیو کے نغمے گونجے تو کہا ہاں بھئی ، گونجنے دو ۔

نئی پود آلو گوشت کو چھوڑ کر فِلے منیان نوش کرنے لگی تو نعرہ لگا کہ فِلے منیان زندہ باد ۔ اِن تبدیلیوں کا غم جی کو کیوں لگایا جائے ؟ اِس حساب سے دیکھوں تو مہندی یا رسمِ حنا کی (تقریبِ نکاح کو دھندلاتی ہوئی) مقبولیت کسی آئینی بحران کا سبب ہونی تو نہیں چاہئے ۔ خاص طور پہ جب کالم نویس اِس بحث میں فریق نہ ہو کہ یہ شدید مقبولیت بھارتی فلموں کا اثر ہے یا کسی اسلامی روایت کی تجدید کا اظہار ۔

اِس سے پہلے کہ تازہ سیاسی رجحان کے مطابق اپنی ہی دلیل کے خلاف کوئی واضح ’یو ٹرن‘ لیا جائے ، یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ رشتہء ازدواج یا بیاہ کا سمبندھ نکاح سے جڑا ہوا ہے ۔ یہی شرعی ضرورت ہے اور قانونی تقاضا بھی ۔ تاہم ساتھ ہی ساتھ بہت سی اَور رسمیں ایسی ہیں جنہیں تمدنی ارتقاکا حصہ سمجھنا چاہئیے ۔

ایک ایسا ارتقا جس کی ترجیحات زمانی ، علاقائی اور طبقاتی حوالوں کے تبدیل ہونے سے بدل جایا کرتی ہیں ۔

یہ پہلے ہی کہا جا چکا ہے کہ کئی سال ہوئے جب اپنے آپ کو ایک تسلسل کے ساتھ بدلتے رہنے کا عہد کر لیا تھا ۔ تو اب آپ یہ کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ بتاؤ تو سہی ، تمہیں تکلیف کیا ہے ؟ اول تو مَیں تکلیف ٹھیک ٹھیک بتا نہیں سکوں گا اور اوکھے سوکھے ہو کر بتا بھی دی تو میرے خیالات سُن کر جواب ملے گا ’’اوئے چُپ کر ، بیک ورڈ اردو میڈیم‘‘ ۔

حافظے کے البم میں جب خوشی کی پہلی تصویر سجی اُس وقت اردو میڈیم کالم نویس کی عمر ، ایک محتاط اندازے کے مطابق ، سوا تین سال ہوگی ۔ یہ ثریا آپا کی بارات تھی جن کے دولہا کے ۔ ایچ ۔ خورشید ، جو قائد اعظم کے پرائیویٹ سیکر ٹری رہے اور پھر آزاد جموں و کشمیر کے اولین منتخب صدر بنے ، میر واعظ محمد یوسف شاہ کی کار پہ سیالکوٹ پہنچے ۔ تب تک نوزائیدہ پاکستان کو ریپبلک یا جمہوریہ کا مرتبہ حاصل ہونے میں ابھی تین ماہ باقی تھے ۔ مگر یہ بڑوں کے سوچنے کی باتیں ہیں ۔

مَیں نے تو اُس شام اپنی چار سالہ زندگی میں پہلی بار فوجی بینڈ کو تقریب میں دھنیں بکھیرتے ہوئے سنا ، جو سننے سے زیادہ دیکھنے کی چیز لگی ۔ ذہن کو ترنگ سے دوچار کرنے والا دوسرا منظر کھانے کی میزوں پر بڑے بڑے حیدری سائز کے کٹے ہوئے ٹماٹر ہیں جو بجلی کے قمقموں کی روشنی میں اور بھی سُرخ دکھائی دے رہے تھے ۔

اِس اولین تقریب کے دلکش رنگ ابھی تک آنکھوں سے محو نہیں ہوئے ۔ مگر رنگوں کی جھلک ایک چیز ہے اور ساز و آواز کے اُلٹ پھیر دوسری بات ۔ پھر شادی کے گانوں میں اگر نمایاں آواز امیر بائی کرناٹکی کی طرح ابا کی کزن ، پھوپھو مریم کی ہو تو کیا ہی کہنے ۔

ریکارڈ کی درستی کی خاطر بتاتا چلوں کہ یہ یوم جمہوریہ کی پہلی سالگرہ سے ایک رات پہلے کی گھریلو محفل ہے جب دو روز کے اندر چھوٹی آپا سکینہ اپنے ہی خاندان کے اختر حسین بٹ ، عرف ’بھیا‘ سے بیاہی جانے والی تھیں ۔ اِس محفل کو آپ نئے دَور کی رسمِ حنا کا متبادل سمجھ لیں ۔ فرق یہ ہے کہ اُس وقت تک ہم لوگ واقعی اردو میڈیم تھے اور ڈھولک کی تھاپ پر ’’وے تھانیدارا ، بھُنجے سویں گی تیری ماں‘‘کا ورد محض خواتین ہی کی آواز میں تھا اور وہ بھی دھیمے سُروں میں ۔ غیروں کے سامنے خاندان کے لڑکے لڑکیوں کا ناچ بعد کا اضافہ ہے ۔

اِس کا یہ مطلب نہیں کہ وطنِ عزیز کے کامن ویلتھ ڈومینین سے جمہوریہ بن جانے پر بھی ہم لکیر کے فقیر رہے اور تمدنی ارتقا کا اگلا قدم آگے کی طرف نہ اٹھا ۔ ضرور اٹھا ، اور وہ یوں کہ بڑی پھوپھو سکینہ ، جن کے شوہر خواجہ امین ایک دوسرے کو ’بھولی‘ اور ’بھولا‘ کہہ کر ہمکلام ہوا کرتے ، سب بچوں کو گھیر گھار کر ایک علیحدہ کمرے میں لے گئیں ۔

ہم نے سُن رکھا تھا کہ خواجہ صاحب اہلِ حدیث ہیں ، جس کے معنی صرف اتنے تھے کہ وہ گانے بجانے کو پسند نہیں کرتے ۔ پر جی ، بند کمرے میں پھوپھو نے ڈانس کے بہت صحیح اسٹیپ اٹھاتے ہوئے گانا شروع کر دیا ’’گھر ہم نے لے لیا ہے ترے گھر کے سامنے ۔ ۔ ۔ ۔ تنن ، ننن ، تنن ، نا ۔ ۔ ۔ تنن ، ننن ، تنن ، نا‘‘ ۔ میرے مولا ، کیا نظارا تھا ۔ دونوں ہاتھوں کے اشارے اور چٹکیا ں بڑے ردھم کے ساتھ ۔ بچوں کی ہنسی تھمنے میں نہیں آ رہی تھی ۔ پر کہانی ابھی آگے چلے گی ۔

اِس کہانی کا لطف اُن لوگوں کے لیے زیادہ ہے جنہوں نے لڑکپن میں چھُپ چھُپا کر سگریٹ پئے ہوں ، ہمارے آبائی گھر کے خیالی ’بابا جی والے‘ کمر ے میں کالی الماری سے ممنوعہ کتابیں نکال کر پڑھی ہوں یا کسی اَور ایسی حرکت کا ارتکاب کیا ہو جسے بزرگ اچھی نظر سے نہیں دیکھتے ۔ پھوپھو سکینہ مزاحیہ طبیعت کی بدولت بچوں کی فیورٹ تو تھیں ہی ، اِس پہ اُن کی غیر متوقع پرفارمنس ۔ بڑا مزا آ رہا تھا ، مگر ساتھ ہی اپنے وجود کے کسی کونے کھُدرے میں یہ احساس کہ ہم گڑبڑ کر رہے ہیں ۔

اچانک کمرے کا دروازہ کھُلا ۔ دیکھا تو ہمارے ابا جان ، جو عمر میں تھے تو اپنی کزن سے دو تین سال چھوٹے ، لیکن دبدبہ بہت تھا ۔ پر مجال ہے جو پھوپھو پہ گھبراہٹ طاری ہوئی ہو ۔ ٹھُمکوں میں تیزی آ گئی ، چٹکیوں کی آواز بلند ہو گئی اور دونوں ہاتھ ابا کے منہ کے قریب لے جاکر ’’گھر ہم نے لے لیا ہے ترے گھر کے سامنے ۔ ۔ ۔ تنن ، ننن ، تنن ، نا ۔ ۔ ۔ تنن ، ننن ، تنن ، نا‘‘ ۔ آباّ پیچھے ہٹتے ہوئے کہتے جاتے ’’آپا ، بس کر ، بس کر‘‘۔

واردات کے آخر میں ابا نے کمرے سے نکلتے ہوئے بتایا کہ یہ ڈانس فلاں فلم میں ممتاز شانتی نے کیا تھا ۔ اِس پر آپ کے بیک ورڈ اردو میڈیم کا یہ حال کہ نہ تو فلم کا نام یاد رہا ، نہ یہ پوچھنے کا خیال آیا کہ ممتاز شانتی عورت تھی یا مرد ۔ اب حالات بدل گئے ہیں اور سوالات کی نوعیت بھی وہ نہیں رہی ۔ اب اَور طرح کی باتیں پوچھی جاتی ہیں ۔

جیسے مہندی کی تقریب میو گارڈنز کی مارکی میں ہو گی یا برکی روڈ کے فارم ہاؤس پر ۔ پھر یہ بھی کہ دلہن کا میک اپ جتنے لاکھ میں ہوا ، کیا واقعی اُس سے نئی ’ویگن آر گاڑی‘ نہیں خریدی جا سکتی تھی ۔ نئے زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملائے رکھنے والا اردو میڈیم کالم نویس ، بطور وکیل یا گواہ ، رسمِ نکاح بھگتانے کا تجربہ تو رکھتا ہے ۔

تازہ دعوت نامہ کی روشنی میں آئندہ جمعہ تک یہ سوچ سوچ کر چکراتا رہے گا کہ رسمِ حنا سے نمٹنے کے لیے محفل میں ممتاز شانتی کا ڈانس کاپی پیسٹ کرے یا احمد ندیم قاسمی کا شعری اعتراف ڈھولک پہ گا کر سنا دے :

یہ ارتقا کا چلن ہے کہ ہر زمانے میں

پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے ہیں

مزید : رائے /کالم