پکے جیالے، ملک حاکمین رخصت ہو ئے!

پکے جیالے، ملک حاکمین رخصت ہو ئے!
پکے جیالے، ملک حاکمین رخصت ہو ئے!

  

پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کے حوالے سے کام مکمل کر کے بھیجا ہی تھا کہ سوشل میڈیا پر ایک افسوسناک خبر مل گئی۔ بتایا گیا کہ بھٹو کے ایک جیالے سابق صوبائی وزیر ملک حاکمین اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اس اطلاع یا خبر کے ساتھ یادوں کے دریچے کھل گئے۔ اس ہنس مکھ انسان کے حوالے سے بہت کچھ یاد آ گیا۔

دوستی اور مفاد کا کیا تعلق ہوتا ہے یہ بھی تکلیف دہ یاد تھی اور پھر ہمیں کیمپ جیل لاہور کے دن اور راتیں بھی یاد آئیں جب پی۔ ایف۔ یو۔ جے کی ملک گیر تحریک کے نتیجے میں ہم بھی دوسرے کارکن ساتھیوں کے ساتھ اس جیل میں تھے اور یہ تحریک ہمارے ہمراز احسن اور راجہ اورنگ زیب سمیت 39 کارکنوں کی روز نامہ مساوات سے برطرفیوں کے خلاف تھی اور دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ برطرفیاں ایک ایسے شخص کے ہاتھوں ہوئیں جو ہمارا دوست اور غمگسار تھا اور جسے ہم نے اپنے ہی کندھوں پر چڑھا کر ایڈیٹر بنوایا تھا۔

بہر حال یاد اور بات ملک حاکمین خان کی تھی اور یہ جیل اور دوستی کی رسی ٹوٹنے والی بات یوں یاد آئی کہ ملک حاکمین ان دنوں وزیر جیل خانہ جات تھے۔ یہ 1974ء کا دور اور پیپلزپارٹی کے پہلے دور اقتدار کی بات ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں باقیماندہ پاکستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت بنی تھی اس سے پہلے کہ جیل والی بات کا ذکر کریں۔ یہ بتانا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اس دور میں ہمارے مساوات کے ایڈیٹر و بانی محمد حنیف رامے نے صوبائی وزیر خزانہ سے وزیر اعلیٰ پنجاب کا حلف اٹھایا تھا ہم میاں محمد اسلم کے ساتھ گورنر ہاؤس سے واپس روزنامہ مساوات کے دفتر (نزد داتا دربار) آ رہے تھے گاڑی میں ہمارے ساتھ ملک حاکمین بھی تھے۔ راستے میں ہم سب کو مذاق کی سوجھی اور ہم نے ملک حاکمین سے پوچھا کہ انہوں نے شیروانی سلوالی ہے وہ ہنسنے لگے اور انکساری سے کہا کیوں مذاق کرتے ہو، جب میاں اسلم نے ذرا سنجیدہ ہو کر کہا کہ ان (حاکمین) کا نام بھی وزارت کے لئے ہے تو انہوں نے شرماتے ہوئے تسلیم کیا کہ شیروانی تو اٹیچی کیس میں رکھی اور تیار ہے۔ ہم سب نے مبارک، مبارک کہا اور مٹھائی کا تقاضہ کیا جو دفتر مساوات میں جا کر منگوالی گئی ا ور دوسرے عملے کا بھی منہ میٹھا ہوا۔

یہ الگ بات کہ بل میاں اسلم کو اپنی جیب سے دینا پڑا۔ جب ملک حاکمین چلے گئے تو سب لوگ ہنسنے لگے کہ ملک صاحب کو کتنا اشتیاق ہے۔ حالانکہ ہم مذاق کر رہے تھے۔

بسا اوقات مذاق بھی سچ ہو جاتا ہے (اگلے ہی ہفتے جب حنیف رامے (مرحوم) کی کابینہ نے حلف اٹھایا تو ملک حاکمین بھی موجود تھے اور ان کو جیل خانہ جات کا محکمہ ملا تھا ہم نے گورنر ہاؤس میں ملک کو مبارک دی تو انہوں نے ہنستے ہنستے ہمارا بھی شکریہ ادا کیا اور میاں اسلم سے خصوصی طور پر بغل گیر ہوئے کہ ان کے مطابق وہ (میاں اسلم) بھی ان کے سفارشی تھے۔یہ تو اتفاق کی بات ہے بہر حال ملک حاکمین سے ہمارے مراسم ہمیشہ اچھے رہے اور بے تکلف دوستی کے باعث ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی رہتی تھی اور وہ ہمیشہ ہنستے رہتے تھے۔

جیل والا واقعہ یوں ہے کہ 1974ء میں پی۔ ایف۔ یو۔ جے کی تحریک ہم سب کی مساوات سے برطرفیوں کے خلاف تھی۔ ہر روز دفعہ 144 ض ف کی خلاف ورزی کی جاتی اور پانچ کارکن فیصل چوک پہنچ کر رضا کارانہ گرفتاری دیتے تھے۔ ابتدا میں ہمارے فرائض میں گرفتاری کے لئے آنے والوں کا استقبال، ان کی تیاری اور جلوس کے ساتھ ریگل (دفتر پی۔ یو۔ جے) سے فیصل چوک تک جانا اور بعد میں دوپہر کا کھانا تیار کر کے مقیدحضرات کے لئے کیمپ جیل پہنچانا شامل تھا ہم باہر اس لئے بھی تھے کہ لیگل ٹیم سے ہمارا رابطہ رہتا تھا گرفتار ہونے والوں میں اخباری صنعت سے متعلق تمام شعبوں کے کارکن اور مزدور تحریکوں کے رضا کار بھی ہوتے تھے۔ یوں یہ ایک ہمہ گیر تحریک تھی۔

پھر وہ دن آیا جب ہماری باری بھی آئی اور ہم نے دوسرے چار ساتھیوں کے ساتھ گرفتاری دی۔

رات تھانہ سول لائنز کی حوالات میں گزری اور صبح ہمیں ضلع کچہری میں علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے ہمیں ہتھکڑی کے بغیر اپنی گاڑی میں لے جانے کی پیش کش کی ہم سب نے انکار کر دیا اور خود کہہ کر ہتھکڑی لگوائی۔ ہم تو تحریک چلا رہے تھے اس لئے سول لائنز سے کچہری تک پیدل چلے اور نعرے لگاتے رہے، ہم نے چونکہ کئی سال کورٹ رپورٹنگ کی اس لئے عدلیہ، کچہری، ہائی کورٹ اور وکلاء میں تعلقات بھی تھے۔ ہمیں جب کچہری لے جایا گیا تو چودھری لطیف (اللہ مغفرت کرے) کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

خود مجسٹریٹ ریٹائرنگ روم میں تھے جب کچھ دیر ہوئی تو ہم نے ریڈر سے کہا کہ چودھری صاحب کو باہر بلائیں۔ سب ہمیں جانتے تھے اس لئے ریڈر نے حوصلے سے اطلاع دی اور چودھری لطیف دفتر چھوڑ کر آ گئے۔

جونہی ان کی ہم پر نظر پڑی اور ہتھکڑی دیکھی تو چونک گئے بولے! اوئے یہ کس کو لے کر آ گئے ہو کیا ہوا۔ بتایا گیا کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے تو ہم سے بولے! جلدی کرو، مچلکہ بھرو، میں ضمانت لیتا ہوں بڑی مشکل اور رسان سے عرض کیا کہ ہم نے کوئی جرم نہیں کیا ایک تحریک کے سلسلے میں آئے ہیں اس لئے کسی ضمانت کی ضرورت نہیں ہمیں جیل بھیج دیں، چودھری صاحب نے بڑے پس و پیش کے بعد ہماری بات مانی اور ہم بھی ساتھیوں کے ساتھ کیمپ جیل منتقل ہو گئے۔

کیمپ جیل سے بھی ہمارا روز کا واسطہ تھا اور ہماری عاجزانہ سی درخواست پر جیل سپرنٹنڈنٹ نے بارک نمبر 10 تحریک والوں کے لئے مختص کی ہوئی تھی۔ ہم بھی اس میں چلے گئے اور پھر تحریکیوں اور جیل حکام کے درمیان کوآرڈی نیٹر بن گئے۔

جیل میں جا کر جو پہلا تجربہ ہوا وہ یہ تھا کہ رات کوٹھڑی میں بند ہو کر گزری، مغرب کے فوراً بعد بند کر دیئے گئے۔ صبح جب کھولا گیا تو ساتھ کی ایک کوٹھڑی میں ایک نوجوان قتل کے الزام میں مقدمہ بھگت رہا تھا اس نے ہماری نمبرداری قسم کی پوزیشن دیکھی تو ہمارے پاس چلا آیا بولا! آپ بھی کیسے لوگ ہیں، رات کو کوٹھری میں کیوں بند ہوتے ہیں۔ اور پھر یہاں پنکھے بھی نہیں اور مئی کی گرمی ہے آپ لوگ آواز بلند کریں تو یہ ممکن ہے ہم نے سنی ان سنی کر دی لیکن کیا معلوم تھا کہ یہ حادثہ بھی ہوگا۔

ہوا یوں کہ اس روز ہمارے جو ساتھی گرفتاری دینے کے بعد آئے ان میں ایک خوشنویس بھائی یونس بھی تھے۔ وہ بھی دوسروں کی طرح جیل کے امور سے ناواقف تھے۔ چنانچہ وہ بارک سے نکلے اور چکر کی طرف چلے گئے جیل وارڈنز نے ان کو روک کر بدتمیزی کی۔ ان کا جھگڑا ہوا ہمیں معلوم ہوا تو ہم نے اندر زبردست احتجاج کیا اور پھر ایک چٹ باہر بھجوائی۔

اگلے روز پنجاب اسمبلی میں (سیشن جاری تھا) حزب اختلاف کی طرف سے تحریک التوا پیش کر دی گئی کہ جیل میں صحافیوں کے ساتھ بد سلوکی ہوئی ہے (ہمیں دوستوں نے بتایا تھا) جب تحریک التوا کے لئے سپیکر شیخ رفیق احمد نے ملک حاکمین سے وضاحت چاہی تو انہوں نے دو تین بار اٹھک بیٹھک لگائی اور پھر درخواست کر کے دو بجے تک وقت مانگ لیا اس کے بعد سیدھے جیل چلے آئے سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں جب ہمیں بلوایا گیا تو ملک حاکمین دیکھتے ہی آگے بڑھے ’’او، میرا، بھرا آ گیا‘‘ اور گلے ملے۔

پوچھا کیا معاملہ ہے تو بولے! ’’ایڈجرن منٹ موشن‘‘ پھر بیٹھے اٹھے اور بولے! ’’ایڈجرن منٹ موشن‘‘ ہماری ہنسی نکل گئی۔ پھر ہم نے مطالبہ کیا بد سلوکی پر معذرت کی جائے۔ بولے! منظور، رات کو کوٹھری بند نہ کی جائے۔ بولے! منظور، مطالبہ کیا۔ پنکھے لگوا کر دیئے جائیں بولے منظور! اور پھر معاملات طے پا گئے۔

انہوں نے وزیر کی حیثیت سے حکم دیا، رات کو دیر سے بند کیا جائے۔ (دس بجے رات کا وقت طے ہوا) پنکھے لگائے جائیں خود معذرت اور بدسلوکی کرنے والوں کی سرزنش کی۔ اس کے بعد اسمبلی پہنچے اور اطلاع دی کہ معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے اور احتجاج ختم ہو گیا ہے۔

یہ تھے ملک حاکمین خان، جب تک زندہ رہے جیالے رہے۔

دوست رہے۔ جہاں کہیں ملاقات ہوئی ہنس کر ملتے۔ مذاق ہوتا اور خوشگوار باتیں بھی، ہمیں یاد آتے رہیں گے۔ سوشل میڈیا پر ہی بتایا گیا کہ آخری وقت بیماری طویل ہو گئی اور پیپلزپارٹی کی لیڈر شپ نے (Ignore) کیا ایسا ہونا تو نہیں چاہئے تھا اگر ہوا تو اچھا نہیں تھا۔ اللہ مغفرت فرمائے خوبیوں والے دوست تھے۔

مزید : رائے /کالم