دہشتگردوں کی مالی معاونت کے خطرہ سے متعلق جائزاتی رپورٹ ایف اے ٹی ایف کو ارسال

دہشتگردوں کی مالی معاونت کے خطرہ سے متعلق جائزاتی رپورٹ ایف اے ٹی ایف کو ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پاکستان کی جانب سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خطرے کے حوالے سے مرتب کردہ جائزاتی رپورٹ ارسال کردی گئی جبکہ سیکرٹری خزانہ عارف احمد خان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفدفنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے 3 روزہ اجلاس میں شرکت کیلئے آسٹریلیا روانہ ہو گیا جہاں وہ پاکستان کے گرے لسٹ سے متعلق اخراج کیلئے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی وضاحت پیش کرے گا۔ذرائع کے مطابق وفد کے دیگر ارکان میں سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)، نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے نمائندے شامل ہیں۔رپورٹ میں حکومتی اداروں اور ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کی روشنی میں تشکیل دیے جانے والے منصوبے پر عملدرآمد کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2015 سے اب تک دہشت گردوں کی مالی معانت کے سلسلے میں رقم کی 4 ہزار 6 سو 43 مشتبہ منتقلیوں کی نشاندہی ہوئی جو بلاک کردی گئیں۔دوسری جانب صرف سال 2018 میں مجموعی طور پر ایک ہزار ایک سو 67 ٹرانزیکشنز پکڑی گئیں جس میں 975 مشتبہ ٹرانزیکشن رپورٹ جبکہ 210 خفیہ مالیاتی رپورٹس پر سامنے آئیں۔رپورٹ میں دہشتگردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے 2 انتہائی اہم راستوں کا ذکر کیا گیا ،جس میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد اور پاکستان اور ایران کی سرحد شامل ہے جہاں سے اس قسم کی رقوم منتقل ہوتی ہیں۔چناچہ اس حوالے سے درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے پاک افغان سرحد پر ٹیکنالوجی کی مدد سے چیکنگ اور سیکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا جبکہ ایران کے ساتھ متصل سرحد پر بھی اس سلسلے میں سخت اقدامات کیے گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ طویل ساحلی پٹی بھی اسمگلنگ کا بڑا ذریعہ ہے ،جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میرین کوسٹ گارڈز کی مدد سے سیکیورٹی بہتر بنائی گئی اور افغانستان جانے والا تجارتی سامان بھی اس غیر اندراج شدہ مالی منتقلیوں کی وجہ ہے۔

رپورٹ/ ارسال

مزید : صفحہ اول