وفاقی چیمبر نے معیشت کی بحالی کیلئے جامع روڈ میپ تیار کرلیا

وفاقی چیمبر نے معیشت کی بحالی کیلئے جامع روڈ میپ تیار کرلیا

فیصل آباد( بیورورپورٹ )وفاق ایوان ہائے صنعت وتجارت پاکستان نے معیشت کی بحالی کیلئے جامع روڈ میپ تیار کرلیا ہے جبکہ اس ضمن میں حکومت سے وسائل حاصل کرنے سمیت انفرادی طور پر بھی وسائل مہیا کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے کیونکہ 92 فیصد بزنس نجی شعبہ اور صرف 8 فیصد کاروبار سرکاری شعبہ میں ہو رہا ہے اس لئے تجویز پیش کی گئی ہے کہ حکومت کسی بھی قسم کے معاشی و اقتصادی استحکا م سمیت صنعتی ، کاروباری ، تجارتی ترقی کیلئے وفاق ایوان ہائے صنعت وتجارت اور ملک بھر کے چیمبر زآف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی مشاورت سے ایسی پالیسیاں تشکیل دے جن سے ملک میں خوشحالی کادور دورہ ہو سکے۔ایف پی سی سی آئی کے ترجمان نے کہاکہ جس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوراملک ، ساری قوم اور تمام سیاسی ، دینی ، مذہبی ، عوامی قوتیں ایک پیج پر آ ئیں بالکل اسی طرح معیشت کی بحالی کیلئے بھی تمام سیاسی جمہوری قوتوں ، تمام متعلقہ اداروں اور عوام کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ نیا سال2019 بلاشبہ معیشت کی بحالی کا سال ہو گا۔

مگر اس ضمن میں کچھ مزید عملی اقدامات بھی اٹھانا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے وسیع تر مفاد کے لئے حکومت کو تمام سیاسی قوتوں اور بزنس کمیونٹی کی مشاورت سے معیشت کی بحالی کیلئے روڈ میپ تیار کرنا ہوگا تا کہ وطن عزیز سے غربت ، جہالت اور بیروزگاری کو ختم کرنے کی راہ ہموار کی جائے۔ انہوں نے حکومتی شعبہ میں چلنے و مسلسل خسارہ کا شکار اور قومی خزانہ پر بوجھ بننے والے تمام اداروں کی نجکاری کا بھی مطالبہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام تاجر برادری کو اپنے مشترکہ مفادات کیلئے اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی کنٹرول میں چلنے والے 60 اداروں میں فوری طور پر نجی شعبہ سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد کو شامل کیا جائے تا کہ یہ ادارے سرکاری خزانہ پر بوجھ بننے کی بجائے منافع بخش بن سکیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک بھر کی تاجر برادری کے اتحاد سے معیشت کو درپیش مسائل حل کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسائل کے حل کیلئے تاجروں اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر تین ماہ بعد فیڈریشن کی کارکردگی کا جائزہ لے کر خود احتسابی کاعمل شروع کیا جائیگاتا کہ معاملات اور مسائل کو صاف اور شفاف انداز میں حل کیا جا سکے۔

مزید : کامرس