خیرپور : اداروں کی ملی بھگت سے جائیدادکے کھاتے منتقل ہونے لگے

خیرپور : اداروں کی ملی بھگت سے جائیدادکے کھاتے منتقل ہونے لگے

خیرپور(رپورٹ/ڈی ایم شیخ) شہرکی زمینوں وپلاٹوں پر بااثر قبضہ مافیا کے قبضوں کی بھرمارسرکاری اداروں کی ملی بھگت سے جائیدادکے کھاتے منتقل ہونے لگے شہریوں کو خرید فروخت میں مشکلات کا سامنا شہریوں کا سروے کرنے کا مطالبہ اس سلسلے میں تفصیل کے مطابق خیرپور شہر میں گزشتہ 12سالوں سے پی پی پی کی حکومت کے دوران سرکاری پش پناہی پر سرکاری زمینوں اور پلاٹوں پر بااثر قبضہ مافیا نے قبضاکئے اور کھاتوں میں ہیرپھیرکرکے اربوں روپوں کی مالیت کے مالک بن بیٹھے اور ایجنٹ مافیا بھی سرگرم ہو کر انکی ساتھی بن گئی شہری املاک کا سروے نہ ہونے سے ممکمہ ایکسائیزاینڈ ٹیکیشن، میونسپل کمیٹی خیرپور ،مختیار کار آفس سے جائیداد کا پی ٹی ون سرٹیفکیٹ اور دیھ فارم ٹو کے حصول کے لئے بھاری رشوت دینی پڑرہی ہے سٹی سروے کا کام مکمل نہ ہونے سے قبضہ مافیا نے جعلی کاغذات بناکرحکومت کو نقصان پہنچا رہی ہے تعلقہ مختیار کار آفس میں شہری جائیداد کا ریکارڈ موجود نہیں ہے تاکہ اصل کاغذات کی تصدیق ہوسکے 12 سال قبل سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی شہادت کے دوران شرپسندوں کے ہاتھوں جلنے والے ریکارڈ کا فائدہ اٹھاکر بھی آج تک لوگوں کی موروثی جائیداد پلاٹوں کے جعلی کاغذات بناکر اصل مالکن کو دربدر کیا گیا اور سینکڑوں افراد کے مقدمات آج بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں چیف جسٹس آف سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے ایسی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے شہری علاقوں میں مقرر تپیداروں اور مختیار کاروں کی مقرری پر صوبوں سے رپورٹ طلب کی اور اپنے فیصلے میں شہریوں کی جائیداد کی خرید فروخت میں تپیداروں کے عمل دخل کو ختم کردیا ہے اس سلسلے میں معروف سماجی رہنما ایڈوکیٹ رانا عبدالقیوم خان کی قیادت میں شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ خیرپور سے تعلق رکھنے والے دو وزیراعلیٰ سید غوث علی شاہ اور سید قائم علی شاہ نے وزیراعلیٰ رہنے کے باوجود شہر کا سروے نہ کرانا قابل مذمت عمل ہے جس کی وجہ سے شہری اپنے کرڑوں کی ملکیت سے محروم ہو رہے ہیں انھوں نے صوبائی و وفاقی حکومت سے قبضہ مافیا کے خلاف نوٹس لینے اور انکے قبضے سے املاک واگزار کروانے اور جلد ازجلد شہرکا سروے کرانے کا مطالبہ کیا ہے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر