جسٹس فیصل عرب کا بین الاقوامی مرکز میں زیرتعمیر فورنسک لیب کا دورہ

جسٹس فیصل عرب کا بین الاقوامی مرکز میں زیرتعمیر فورنسک لیب کا دورہ

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ کے مونیٹرنگ جج برائے انسداد دہشت گردی کورٹ جسٹس فیصل عرب نے ہفتے کوجمیل الرحمن سینٹر فار جینومکس ریسرچ، جامعہ کراچی میں زیر تعمیر سندھ حکومت کی فورنسک ڈی این اے اور سیرولوجی لیبارٹری کا دورہ کیا، اس موقع پر ایڈمنسٹریٹو جج انسدادِ دہشت گردی کورٹ جسٹس نعمت اللہ فلپوٹو، ممبر انسپیکشن ٹیم ہائی کورٹ اے رزاق اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری برائے صحت ڈاکٹر محمد عثمان چاچڑ سمیت متعدد اعلی حکام بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ صوبائی حکومتِ سندھ نے حال ہی میں 220ملین روپے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ،بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم جامعہ کراچی کو جدید فورنسک ڈی این اے اور سیرولوجی لیبارٹری کے قیام کے لیے جاری کیے ہیں، یہ فورنسک لیبارٹری بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈاکٹر پنجوانی سینٹر کے تحت چلنے والے تحقیقی ادارے جمیل الرحمن سینٹر فار جینومکس ریسرچ میں قائم کی جارہی ہے، فورنسک لیبارٹری فنڈ کے مکمل اجرا کے ساتھ آٹھ ماہ بعد باضابطہ فعال ہوگی۔ جسٹس فیصل عرب نے فورنسک ڈی این اے لیبارٹری میں تعمیراتی کام کا جائزہ لیتے ہوئے اِسے تسلی بخش قرار دیا۔ اس سے قبل جسٹس فیصل عرب نے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر میں سابق وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی، سابق سربراہ اعلی تعلیمی کمیشن اور سرپرستِ اعلی بین الاقوامی مرکز پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن کے ہمراہ ایک اجلاس میں شرکت کی، اجلاس میں ایڈمنسٹریٹو جج انسدادِ دہشت گردی کورٹ جسٹس نعمت اللہ فلپوٹو، ممبر انسپیکشن ٹیم ہائی کورٹ اے رزاق، ایڈیشنل چیف سیکریٹری برائے صحت ڈاکٹر محمد عثمان چاچڑ،ڈائریکٹر ڈیویلپمنٹ دبیر اے خان، ڈی آئی جی شرجیل خالد، ڈی سی ایسٹ احمد علی صدیقی، ڈی این اے ایکسپرٹ ڈاکٹر اشتیاق احمد، ڈاکٹر نعمان،بین الاقوامی مرکز کے دیگر آفیشلز سمیت متعدد اعلی حکام بھی موجود تھے۔ اجلاس میں پروفیسر عطا الرحمن نے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم میں ہونے والی تعلیمی و تحقیقی ترقی کے متعلق تفصیلی گفتگو کی، جسٹس فیصل عرب نے بین الاقوامی مرکز میں ہونے والی تعمیر و ترقی اوراس میں 17تحقیقی مراکز کے قیام کی نہ صرف تعریف کی بلکہ خوشگوار حیرت کا اظہار بھی کیا۔ اجلاس میں ڈاکٹر اشتیاق احمد نے فورنسک ڈی این اے لیبارٹری میں تعمیراتی کام کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، انھوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں حالیہ کمی کی وجہ سے تعمیراتی کام کی تکمیل کے لیے مزید40 فیصد رقم درکار ہوگی، انھوں نے کہا تمام قانونی تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے سائسنی آلات کی خریداری کے لیے جلد پرچیز آرڈر جاری کیے جائیں گے۔ جسٹس فیصل عرب نے تعمیراتی کام اور بین الاقوامی مرکز کی کارکردگی پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور امیدظاہر کی کہ فورنسک ڈی این اے لیبارٹری جلد ہی متحرک ہوجائے گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر