پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانیں گلدستے کی مانند ہیں : اعجاز احمد قریشی

پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانیں گلدستے کی مانند ہیں : اعجاز احمد قریشی

پشاور(سٹی رپورٹر)گندھارا ہندکو بورڈ اور گندھارا ہندکو اکیڈمی کے زیر اہتمام گندھارا ہندکو بورڈ کے چےئرمین اعجاز احمد قریشی کی سرپرستی میں دو روزہ ساتویں عالمی ہندکو کانفرنس گندھارا ہندکو اکیڈمی کے احمد علی سائیں آڈیٹوریم میں شروع ہو گئی۔کانفرنس کے کنوینئر گندھارا ہندکو بورڈ کے جنرل سیکرٹری محمد ضیاء الدین اور چیف آرگنائزر گندھارا ہندکو بورڈ کے سینئر وائس چےئرمین ڈاکٹر عدنان گُل تھے۔ کانفرنس کے پہلے دن نظامت کے فرائض ڈاکٹر صلاح الدین نے سرانجام دئیے۔پہلادن چار سیشنزپر مشتمل تھا۔ پہلے سیشن کے مہمان خصوصی سینیٹر محسن عزیز تھے۔کانفرنس میں امریکہ سے نامور محقق پروفیسر ڈاکٹر سید امجد حسین، ترکی سے نامور محقق ڈاکٹر حلیل طوقار، یو اے ای سے ڈاکٹر نسیم اشرف ،کینیڈا سے پروفیسر بیگم منور احمد اور کشمیر سے میاں کریم اﷲ قریشی نے خصوصی طور پر شرکت کی اس کے علاوہ گندھارا ہندکو بورڈ کے ایگزیکٹیو ممبران سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔ گندھارا ہندکو بورڈ کے چےئرمین اعجاز احمد قریشی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گندھارا ہندکو بورڈتمام علاقائی زبانوں کی ترویج و ترقی کیلئے کام کر رہا ہے۔ پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانیں پھولوں کے گلدستے کی مانند ہیں اور ہر پھول کی اپنی خوشبو ہے۔مہمان خصوصی سینیٹر محسن عزیز نے اظہار خیال کرتے ہوئے گندھارا ہندکو اکیڈمی کی ہندکو سمیت دیگر علاقائی زبانوں کی ترویج و ترقی کیلئے خدمات کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہندکو خیبر پختونخوا کی دوسری بڑی زبان ہے اور اس کی اپنی ایک مٹھاس اور چاشنی ہے۔ انہوں نے ہندکو زبان کے فروغ میں گندھارا ہندکو بورڈ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔پروفیسر ڈاکٹر سید امجد حسین نے ’’ ہندکو زبان ،ماضی حال اور مستقبل‘‘ پر اپنا کلیدی مقالہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ ہندکو ایک عظیم زبان ہے اور اپنی زبان پر ہمیں فخر محسوس کرنا چاہئیے اور ہمارا فرض ہے کہ اپنی ماں بولی زبان کے فروغ اور تحفظ کیلئے کردار ادا کریں۔ڈاکٹر نسیم اشرف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گندھارا ہندکو بورڈ کا زبانوں کی ترویج و ترقی میں اہم کردار رہا ہے۔اتنے قلیل عرصے میں گندھاراہندکو اکیڈمی نے عالمی ہندکو کانفرنسوں کا انعقاد کر کے مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیل بھی معاشرے کا اہم حصہ ہیں ہمیں کھیلوں کو فروغ دینے کے لئے بھی کوششیں کرنا ہونگی۔گندھارا کے حوالے سے پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے گندھارا ہندکو بورڈ کے جنرل سیکرٹری محمد ضیاء الدین نے کہا کہ گندھارا ہندکو بورڈنے تمام علاقائی زبانوں کے علم و ادب کو فروغ دیا ہے ہم نے زبانوں کے مابین قدرِ مشترکہ کو تلاش کیا ہے۔ساتویں عالمی ہندکو کانفرنس ملکی یکجہتی کے فروغ میں معاون ثابت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ ملک کے جید سکالرز نے گندھارا ہندکو اکیڈمی کو سٹیٹ آف دی آرٹ اکیڈمی قرار دیا ہے۔ ترکی کے محقق ڈاکٹر حلیل طوقار نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی کسی بھی قوم کی زبان اُس کی روح ہوتی ہے ،تمام زبانوں کے تحفظ کے لئے ہمیں مشترکہ جدوجہد کرنی ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ ہندکووانوں میں لسانی شعور اُجاگر کرنا ناگزیر ہے۔کانفرنس کے دوسرے سیشن کے مہمان خصوصی سابق کمشنر ڈی آئی خان مشتاق جدون تھے۔دوسرے سیشن کے پریزیڈیم ممبران میں محترمہ فرحت جبین، میاں کریم اﷲ قریشی ،پروفیسر احسام حُر، قدسیہ قدسی تھیں۔تیسرے سیشن کے مہمان خصوصی سرحد چیمبر آف کامرس کے صدر فیض محمد فیضی تھے ۔ فیض محمد فیضی نے بھی گندھارا ہندکو بورڈاور گندھارا ہندکو اکیڈمی کی کارکردگی کو سراہا۔تیسرے سیشن کے پریزیڈیم ممبران میں محمد اختر نعیم ،ضیاء الحق سرحدی اور دیگر شامل تھے۔کانفرنس میں پروفیسر منور احمد صاحبہ(کینیڈا)، پروفیسر راشد احمد خان(ٹیکسلا)، مجاہد بن سید گیلانی ،قدسیہ قدسی،ڈاکٹر محمد کمال (اسلام آباد)،شاہدہ اصغر(اسلام آباد) ،پروین ملک(لاہور) ، مجاہد حسین گیلانی، ڈاکٹر سراج،ڈاکٹر ثوبیہ اسلم (فیصل آباد)،ڈاکٹرعنایت اﷲ فیضی(چترال) ،ڈاکٹر انیلہ گل (اسلام آباد)،ڈاکٹر محمد نواز (اسلام آباد)،عمررؤف اور پروفیسر محمد عادل سمیت دیگر نے اپنے کلیدی مقالہ جات پیش کئے۔کانفرنس میں امیر حمزہ نے بانسری کے خوبصورت ساز سے سما باندھ لیا اس کے علاوہ گندھارا ہندکو بورڈ کے جائنٹ سیکرٹری احمد ندیم اعوان اور ایگزیکٹیو ممبر سعید پارس نے ہندکو زبان کے صوفی شاعر احمد علی سائیں کا کلام ترنم سے پیش کیا۔گندھارا ہندکو بورڈ کے ڈائریکٹر محمد عادل نے ہندکو متلاں ایپ کی کامیابی کے بعد بچوں کے حوالے سے ایپ پرکانفرنس کے شرکاء کو پریزنٹیشن پیش کی۔کانفرنس میں ہندکو مشاعرے کا بھی اہتمام کیاگیا تھا جس کی صدارت نامور شاعر و ڈرامہ نگار نذیر بھٹی نے کی ۔مشاعرے میں نامور شعراء سید سعید گیلانی،محمد ضیاء الدین، اقبال سکندر،ساجد سرحدی، سردار فاروق احمد جان بابر، احمد ندیم اعوان، سعید پارس، سکندر حیات سکندر ،عزیز اعجاز، علی اویس خیال سمیت دیگر نے اپنا اپنا ہندکو کلام پیش کیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر