ناموں کی مماثلت کی وجہ سے وزیر اعظم کے مشیر کا غلط نوٹیفکیشن جار ی ہو گیا

ناموں کی مماثلت کی وجہ سے وزیر اعظم کے مشیر کا غلط نوٹیفکیشن جار ی ہو گیا
ناموں کی مماثلت کی وجہ سے وزیر اعظم کے مشیر کا غلط نوٹیفکیشن جار ی ہو گیا

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

ڈاکٹر فرخ سلیم کے بارے میں حکومت نے تازہ ترین موقف یہ اختیار کیا ہے کہ وہ کبھی حکومت کے معاشی ترجمان نہیں رہے جبکہ خود ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ وہ 24دسمبر تک وزیر اعظم آفس کے اجلاسوں میں شریک ہوتے رہے اب کوئی کیا بتائے کہ ڈھائی تین ماہ تک مختلف اوقات میں منعقد ہونے والے اجلاسوں میں یہ شرکت کس حیثیت میں تھی آخر ان کے پاس کوئی منصب تو ہو گا اس کے بغیر اگر وہ اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے تو ایک آدھ بار تو غلطی ہو سکتی ہے بار بار تو ایسا نہیں ہو سکتا، یہاں تو صرف ایک نوٹی فی کیشن کا مسئلہ ہے ماضی میں مشیروں کے معاملے میں دلچسپ واقعات رونما ہوتے رہے محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں نوید ملک کو وزیر اعظم نے اپنا مشیر مقرر کیا وہ جب چارج سنبھالنے کیلئے اسلام آباد پہنچے تو پتہ چلا یہ کوئی اور نوید تھے، جنہیں مشیر بنانا مقصود تھا غلطی سے نوٹی فکیشن ان کے نام جاری ہو گیا، ایسا ہی ایک واقعہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پیش آ چکا تھا اس وقت اے پی پی کے ڈائریکٹر جنرل احمد بشیر تھے جن کے بھٹو صاحب کے ساتھ کوئی اچھے مراسم نہ تھے لیکن انہیں جب پیغام ملا کہ ان کو بھٹو سے ملاقات کرنی ہے تو وہ حیران تو ہوئے لیکن چلے گئے، وہاں پہنچے تو بھٹو صاحب انہیں دیکھتے ہی ناراض ہو گئے اور اپنے سٹاف پر برس پڑے، معلوم ہوا کہ انہوں نے تو دوسرے احمد بشیر کو ملاقات کے لئے بلایا تھا، وہ بھی سینئر صحافی تھے ناموں کی مماثلت سے ایسی صورت پیدا ہو گئی لیکن یہاں معاملہ ناموں کسی شبابت کا ہے نہ ہی کوئی اور غلط فہمی ہے، فرخ سلیم سے گستاخی یہ ہوئی کہ انہوں نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں حکومت کی معاشی پالیسیوں سے متعلق بعض ایسی باتیں کر دیں جو حکومت اور اس کے وزیروں کو پسند نہیں آئیں چنانچہ جھٹ سے یہ اعلان کر دیا گیا کہ وہ حکومت کے معاشی ترجمان وغیرہ کچھ نہیں ہیں، فرخ سلیم کو چاہئے تھا کہ وہ اگر حکومت کی معاشی پالیسی کے متعلق کوئی مختلف رائے رکھتے تھے تو اسے کچھ عرصے کے لئے سینے میں تھام کر رکھتے اور اس پر کوئی گفتگو نہ کرتے کیونکہ اس حق گوئی کا نتیجہ ایک تو یہ نکلا ہے کہ ان کی ترجمانی سے انکار ہو گیا جب کہ دوسرا نقصان یہ ہوا کہ ان کا نام سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے سربراہ کے طور پر لیا جا رہا تھا اب اس کی سربراہی کا ہما بھی ان کے سر پر بیٹھتے بیٹھتے اڑ گیا ہے۔ البتہ اپوزیشن کو یہ موقعہ مل گیا ہے کہ وہ سوال کر سکے کہ باقی مشیروں کے نوٹی فیکیشن بھی سامنے لائے جائیں کیونکہ بہت سے مشیروں کے متعلق وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ ان کا نوٹیفیکیشن بھی ہوا ہے یا نہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ اعظم سواتی کا ہے جن کے فارم ہاؤس میں ہمسایوں کی بھینس گھس کر پتے(اور شاید پھل بھی) کھا گئی جس پر ان کے ملازموں نے بھینس کے مالک خاندان کو بچوں اور عورتوں سمیت جیل بھیج دیا ایک دوسرے وزیر صاحب اظہار یکجہتی کے لئے موقع پر بھی پہنچ گئے اور اعظم سواتی کے حق میں بیان داغ دیا جب یہ معاملہ سامنے آیا تو اعظم سواتی نے موقف اختیار کیا کہ آئی جی اسلام آباد نے تین گھنٹے تک ان کا فون نہیں سنا اور بھینس کے مالکوں کی طرف داری کی، انہوں نے وزیر اعظم سے کہہ کر آئی جی کا فوری تبادلہ بھی کرا دیا تاہم جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے معاملے کا از خود نوٹس لیا تو معاملہ غیر متوقع موڑ مڑ گیا، اعظم سواتی نے بھینس والوں سے صلح کر لی لیکن جب معاملہ عدالت پہنچا تو پتہ چلا کہ انہوں نے تو سی ڈی اے کی زمین پر بھی ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے سپریم کورٹ نے اس معاملے پر جے آئی ٹی بنائی جس نے اعظم سواتی کے خلاف رپورٹ دی تو وہ مستعفی ہو گئے اس سلسلے میں دو اطلاعات ہیں ایک یہ کہ وزیر اعظم نے ان سے استعفا لے لیا اور دوسری یہ کہ انہوں نے خوداستعفا دیا وزیر اعظم تو چاہتے تھے کہ وہ عدالت کے فیصلے تک ذمہ داری نبھاتے رہیں لیکن اعظم سواتی نے کہا کہ وہ وزیر کی حیثیت سے نہیں عام شہری کے طور پر مقدمے کا سامنا کریں گے اب یہ اطلاع آئی ہے کہ اعظم سواتی کا استعفا تو اب تک منظو رہی نہیں ہوا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعظم سواتی کا خیال ہے کہ وہ اگر مقدمے میں الزامات سے بری ہو گئے تو دوبارہ منصب سنبھال لیں گے اس لئے ان کے استعفے کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا لیکن اعظم سواتی کا کہنا ہے کہ انہوں نے 5دسمبر کو استعفا دیا تھا جو اسی دن منظور کر لیا گیا تھا اور نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا تھا لیکن انہوں نے نوٹیفیکیشن نہیں دکھایا معلوم نہیں حقیقت کیا ہے لیکن وفاقی وزیر اطلاعات نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ حکومت نے ایک مثال قائم کر دی ہے اس لئے جے آئی ٹی میں جس کا بھی نام آئے اسے ہمارے وزیروں کی طرح مستعفی ہونا چاہئے اسی بنیاد پر وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے، چند روز تک یہ معاملہ خاصا گرم رہا لیکن اب مراد علی شاہ معاملہ تو پس منظر میں چلاگیا ہے اور بعض دوسرے امور پیش منظر پر چھا گئے ہیں جس میں ڈاکٹر فرخ سلیم کی ’’معاشی ترجمانی‘‘ بھی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

مزید : تجزیہ