چنیوٹ میں پولیس اہلکاروں کا خواتین پر بدترین تشدد، ایک خاتون کو زمین پر پٹخ کر سر پھاڑ دیا

چنیوٹ میں پولیس اہلکاروں کا خواتین پر بدترین تشدد، ایک خاتون کو زمین پر پٹخ ...
چنیوٹ میں پولیس اہلکاروں کا خواتین پر بدترین تشدد، ایک خاتون کو زمین پر پٹخ کر سر پھاڑ دیا

  

چنیوٹ(ویب ڈیسک) رحمان آباد میں پولیس اہلکاروں نے سر عام خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھسیٹتے رہے۔شہریوں کا کہنا تھا کہ سرعام پولیس گردی کی انتہاء کردی گئی تو تھانے کے اندر شہریوں سے ہونیوالے سلوک کا اندازہ لگانا مشکل نہیں  ۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق چنیوٹ پولیس نے رحمان آباد کے علاقے میں خواتین پر ظلم کی انتہا کردی، چناب نگر کا اے ایس آئی غلام محمد جپہ اپنے 2 اہلکاروں کانسٹیبل ریاض اور کانسٹیبل افتخار حسین کے ساتھ ملزم گرفتار کرنے گئے تاہم انہوں نے ملزم نہ ملنے پر خواتین کو ہی بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔پولیس اہلکاروں نے ایک خاتون کو اٹھا کر زمین پر دے مارا جس سے خاتون کا سر پھٹ گیا جب کہ دوسری خاتون کو بھی زمین پر گھسیٹا، گالم گلوچ بھی کرتے رہے، واقعے کے بعد زخمی خاتون کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔ موقع پر موجود نامعلوم شخص نے تمام واقعے کو اپنے موبائل کیمرے میں عکس بند کرلیا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی۔

یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ خبر پر پولیس افسران نے اے ایس آئی غلام محمد جپہ، کانسٹیبل افتخارحسین اور کانسٹیبل ریاض کو معطل کرتے ہوئے خواتین پر تشدد کے واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا، پولیس نے مقدمہ درج کرکے اے ایس آئی غلام محمد کو گرفتار کرلیا تاہم سوال یہ ہے کہ اہلکاروں کی تربیت کس حدتک کی گئی، اگر یہ واقعہ بھی دیگر کئی واقعات کی طرح میڈیا کی زینت نہ بنتا تو ان خواتین کی داد رسی بھی ممکن نہ ہوپاتی ۔ ویڈیو دیکھئے 

مزید : جرم و انصاف /علاقائی /پنجاب /چنیوٹ