اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 107

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 107

  

میں وہاں سے سیدھا مندر کی چھت پر آگیا۔ ابھی رات کا پہلا پہر تھا اور پنڈت شاید میرے ساتھ کھانا کھانے اور مجھے میری کوٹھری میں سلانے کے بعد برج والی کوٹھری پر حملہ آور ہونا چاہتا تھا۔ میں نے ایک مضبوط رسی اپنے ساتھ رکھ لی تھی۔ یہ رسی میری کمر کے ساتھ بندھی تھی۔ چھت پر آتے ہی میں سیدھا برج کی طرف گیا اور اس کے دروازے پر لگا ہوا تالا ہاتھ کی معمولی سی ضرب سے توڑ دیا۔ میں نے دیکھا کہ شہزادی شگفتہ کے منہ پر کپڑا بندھا تھا اور وہ رسیوں میں جکڑی فرش پر پڑی تھی۔ میں نے جاتے ہی اسے آزاد کیا۔ خوف کے مارے اس کے منہ سے چیخ نکلنے لگی تھی کہ میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا

’’بیٹی! میں ہوں عبداللہ۔ چلو میرے ساتھ یہاں سے نکل چکو۔ فرار ہونے کا وقت آگیا ہے۔‘‘

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 106 پڑھنے  کیلئے یہاں کلک کریں

میں اسے کوٹھری سے نکال کر چھت کی مغربی جانب آگیا۔ یہاں دیوار کی اونچائی تین منزلوں سے زیادہ نہیں تھی اور نیچے نوکیلی چٹانوں کی بجائے جنگلی جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں۔ میں نے چھت کے کنگرے کے ساتھ رسی باندھ کر نیچے لٹکادی اور شگفتہ سے کہا کہ وہ رسی کی مدد سے نیچے اتر جائے۔ اندھیرے میں وہ نیچے اترتے ہوئے پہلے تو ڈری مگر میرے حوصلہ دینے پر وہ رسی کو مضبوطی سے تھام کر دیوار کے ساتھ پاؤں ٹکا کر آہستہ آہستہ نیچے اترنے لگی۔ جب اس کے پاؤں زمین کے ساتھ جالگے تو اس نے رسی کو زور سے ہلا دیا۔ اس کے بعد میں رسی کے ذریعے نیچے اترگیا۔ مجھے نیچے آتے ہوئے بمشکل دس سیکنڈ لگے ہوں گے۔ میں نے شگفتہ کو ساتھ لیا اور دریا کی طرف چل پڑا۔ راتوں رات دریا پار کرکے میں احمد نگر کے دکھن کی طرف نکل جانا چاہتا تھا۔ اسی طرف ہندو کا ایک گاؤں تھا چونکہ میں ایک جوگی یا رشی کے بھیس میں تھا اس لئے مجھے یقین تھا کہ وہاں سے دو گھوڑے حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاؤں گا۔

اور ایسا ہی ہوا۔ کاٹستھیوں کے گاؤں میں پہنچتے پہنچتے ہمیں صبح ہوگئی۔ میں نے شگفتہ کو ایک جگہ کھیتوں میں چھپ جانے کو کہا اور خود گاؤں میں داخل ہوگیا۔ یہاں ایک زمیندار سے اپنی عقیدت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو گھوڑے حاصل کءئے اور شگفتہ کو لے کر گوالیار کی طرف روانہ ہوگیا۔ میں نے جنگل کے مشرقی کنارے کا راستہ اختیار کیا جو اگرچہ طویل تھا مگر بہت محفوظ تھا۔ ہمیں گوالیار پہنچتے پہنچتے پانچ دن لگ گئے۔ سلطان محمود غزنی سے واپس آچکا تھا۔ شہزادی شگفتہ کو قلعے دار کے حوالے کردیا گیا۔ میں نے ساری روداد سلطان محمود کو سنا دی۔ مہاراجہ گولیار ارجن کو بوڑھے پجاری اور اس کے درباریوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔ سلطان محمود میری کارکردگی سے بہت خوش ہوا۔ وہ مجھے اپنا نائب وزیر مقرر کرنا چاہتا تھا لیکن میں نے بڑے ادب سے معذرت چاہی اور کہا کہ میں ملک ہندوستان کے مشرق میں سیاحت کے لئے جانا چاہتا ہوں۔ سلطان محمود نے مجھ سے وعدہ کیا کہ واپسی پر میں غزنی ضرور آؤں گا۔ میں نے سلطان سے اجازت لی اور گھوڑے پر سوار ہوکر گوالیار سے مشرق کی طرف چل پڑا۔

احمد آباد میں اپنے قیام کے دوران میں نے راجہ بکراجیت کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا کہ وہ ایک فقیر راجہ ہے اور اجیب میں وہ اپنے شاہی محل میں بنی ہوئی ایک کٹیا میں رہتا ہے ور اس کا سرمایہ ایک مٹی کا یالہ اور بوریا ہے۔ منزلوں پر منزلیں طے کرتا میں اجین پہنچ گیا۔ مسلمان ابھی یہاں تک نہیں پہنچے تھے۔ سلطان محمود کا لشکر احمد آباد اور گوالیار کے آس پاس کے راجواڑوں کو فتح کرکے مطیع بنانے کے بعد غزنی واپس جانے کی تیاریاں کررہا تھا۔ اجین میں ایک بہت بڑا مندر تھا جس کا نام مہاکال تھا۔ یہ مندر بکراجیت نے بنوایا تھا۔ جہاں بتوں کی پوجا ہوتی تھی۔ جو برہمن اور پجاری اس مندر میں رہتے تھے انہیں راجہ کی طرف سے وظیفہ ملتا تھا۔

اجین میں رعایا بڑی خوش حال تھی۔ راجہ کا اپنی رعایا سے سلوک برادرانہ تھا۔ اس وقت راجہ بکراجیت کی عمر پچاس سال کی ہوگئی تھی۔ وہ دن کے وقت دربار میں آکر اہم فیصلے کرتا اور رات کو دیر تک اپنی کٹیا میں بیٹھا عبادت کرتا رہتا تھا۔ اس کی کٹیا کے گرد اگرچہ پہرہ لگاہوتا مگر اس سے ہر کوئی مل سکتا تھا۔ ایک مدت سے میری کسی حیثیت کا تعین ظاہر نہیں ہوا تھا۔ میں ہر جگہ ایک اجنبی سیاح کی شکل میں داخل ہوتا تھا۔ ا جین پہنچ کر میر اخیال تھا کہ شاید یہاں میری کسی حیثیت کا پہلے سے ہی تعین ہوچکا ہو۔ یعنی ہوسکتا ہے لوگ مجھے یہاں کے کسی مندر کا پجاری سمجھ کر میرا استقبال کریں۔ میں گھوڑے پر سوار شہر کی شادہ سڑکوں پر سے گزررہا تھا۔ میرا ارادہ راجہ بکراجیت کے محل میں اس سے ملاقات کرنے کا تھا۔ اس وقت دن کا دوسرا پہر گزررہا تھا۔ موسم خوشگوار تھا۔ ان علاقوں میں ویسے بھی سردی زیادہ نہیں پڑتی تھی۔ مجھے معلوم ہوا کہ راجہ بکراجیت اس وقت دربار میں مقدموں کے فیصلے کررہا ہے اور اس سے شام کے بعد کٹیا میں ملاقات کی جاسکتی ہے۔

میں وقت گزارنے کے لئے شہر سے باہر نکل گیا۔ میں نے دیکھا کہ کچھ فاصلے پر بھوج کے درختوں کی چھاؤں میں کتنی ہی گپھائیں بنی ہوئی ہیں۔ یہ گھاس پھونس سے بنائی گئی مخروطی جھونپڑیاں تھیں جن میں پرانے زمانے میں جوگی لوگ رہا کرتے تھے۔ ان کے وسط میں ایک چبوترے پر ایک قدرے بڑی جھونپڑی بنی تھی جس کے اوپر زعفرانی رنگ کا ایک جھنڈا ہوا میں لہرا رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ چلو ان جوگی لوگوں کے ساتھ بات چیت کرکے کچھ وقت گزارتے ہیں۔ میں نے گھوڑے کو ان جھونپڑیوں کی طرف ڈال دیا۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 108 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار