اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 73

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 73
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 73

  

حضرت ذوالنون مصریؒ فرماتے ہیں کہ مَیں نے کوہ لبنان کے ایک غار میں ایک بزرگ کو دیکھا کہ ان کا سر اور داڑھی بالکل سفید اور سَر کے بال غبار آلود ہیں اور وہ نہایت لاغر ہیں اور نماز میں مشغول ہیں۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو مَیں نیس لام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دے کر پھر نیت باندھ لی۔

اسی طرح عصر تک برابر نماز میں مشغول رہے پھر ایک پتھر کے سہارے بیٹھ گئے اور سبحان اللہ سبحان اللہ پڑھنے لگے او رمجھ سے کوئی گفتگو نہ کی۔ اس پر مَیں نے خود ہی اُن سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’’حضرت! میرے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے۔‘‘

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 72 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

فرمایا ’’اللہ تعالیٰ تجھ کو اپنے قرب سے مانوس فرمادے۔‘‘

میں نے کہا ’’کچھ اور فرمائیے۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’بیٹا! جسے اللہ تعالیٰ اپنے قریب سے مانوس کردیتا ہے۔ اسے چار خصلتیں عطا کرتا ہے۔ عزت بغیر خاندان کے۔ علم طلب کیے بغیر سخاوت بغیر مال و دولت کے، اُنس بغیر کسی جماعت کے۔‘‘

یہ کہہ کر زوروں سے چیخ ماری اور بے ہوش ہوگئے۔ اس کے بعد پورے تین دنوں کے بعد ہوش میں آئے۔ ہوش میں آتے ہی وضو کیا اور مجھ سے پوچھ کر سب فوت شدہ نمازوں کی قضا کی۔ پھر مجھ کو سلام کرنے کے بعد رخصت ہونے لگے تو مَیں نے عرض کیا ’’حضرت! مَیں تو تین دنوں تک محض اسی اُمید پر پڑا رہا کہ شیخ کچھ اور نصیحت فرمائیں گے۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’اپنے مولا کو دوست رکھ اور اس کے بدلے کسی کی چاہت نہ کر۔ کیونکہ اللہ کو دوست رکھنے والے ہی تمام بندوں کے سرتاج اور اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور خالص بندے ہیں۔‘‘

اتنا کچھ کہنے کے بعد ایک چیخ ماری اور جاں بحق ہوگئے۔ کچھ دیر کے بعد عابدوں کی ایک جماعت پہاڑ پر سے اتری اور تجہیز و تکفین کرنے میں مشغول ہوگئی۔ جب وہ لوگ دفن کرچکے تو مَیں نے ان سے بزرگ کا نام پوچھا۔ انہوں نے بتایا ’’یہ شیبان مصائبؒ تھے۔‘‘

***

یہ واقعہ حضرت ابو الحسن نوریؒ کے زمانے کا ہے۔

ایک دفعہ غلام خلیل نے بزرگ دشمنی میں خلیفہ وقت سے شکایت کی کہ ایک گروہ ایسا پیدا ہوگیا ہے جو رقص و سرور بھی کرتا ہے اور اشاروں کنایوں میں گفتگو بھی کرتا ہے اور زبان سے ایسے کلمات نکالتا ہے جو گردن اُڑادینے کے قابل ہیں۔‘‘

غلام کی اس شکایت پر خلیفہ وقت نے تمام بزرگوں کو قتل کردینے کا حکم دے دیا اور جب سب سے پہلے جلاد نے حضرت ارقامؒ کو قتل کرنا چاہا تو حضرت ابو الحسن نوریؒ مسکراتے ہوئے اُن کی جگہ پر جا بیٹھے۔لوگوں نے جب آپ سے کہا ’’ابھی آپ کی باری نہیں آئی ہے‘‘ تو آپ نے فرمایا ’’میری بنیاد طریقت جذبہ ایثار پر قائم ہے اور مَیں مسلمانوں کی جانب کے بدلے میں اپنی جان دینا زیادہ بہتر سمجھتا او رجانتا ہوں۔ حالانکہ میرے نزدیک دنیا کا ایک لمحہ محشر کے ہزار سال سے افضل ہے کیونکہ دنیا کا مقام خدمت ہے اور عقبیٰ کا مقام قربت ہے۔ اس لئے خدمت کے بغیر قربت کا حصول ناممکن ہے۔‘‘

یہ انوکھا کلام سن کر خلیفہ نے قاضی سے پوچھا ’’ان لوگوں کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟‘‘

اس پر قاضی نے حضرت شبلیؒ کو دیوانہ خیال کرتے ہوئے سوال کیا ’’بیس دینار پر کتنی زکوٰۃ ہوتی ہے؟‘‘

حضرت شبلیؒ نے فرمایا ’’ساڑھے بیس دینار۔ یعنی نصف دینار مزید اس جرم میں ادا کرے کہ اس نے بیس دینار جمع کیوں کئے جس طرح حضرت ابوبکرؓ کے پاس چالیس دینار تھے اور انہوں نے سب کے سب زکوٰۃ میں دے دئیے۔‘‘

پھر قاضی نے حضرت نوریؒ سے ایک سوال کیا جس کا انہوں نے برجستہ جواب دے کر اُلٹا قاضی سے کہا

’’اب تم بھی سن لو، خدا نے ایسے بندے بھی تخلیق فرمائے ہیں جن کی زندگی اور موت، قیام و کلام سب اسی کے مشاہدے سے وابستہ ہیں۔ اسی سے سوتے ہیں اسی سے کھاتے ہیں۔ اُسی سے سنتے ہیں اور اُسی سے طلب کرتے ہیں۔‘‘

یہ جواب سن کر قاضی نے خلیفہ سے کہا ’’اگر ایسے لوگ بھی ملحد او رزندیق ہوسکتے ہیں تو میرا فتویٰ یہ ہے کہ پورے عالم میں کوئی بھی موحد نہیں ہے۔‘‘

خلیفہ ان باتوں سے بڑا متاثر ہوا۔ اُس نے مشائخ سے کہا’’مجھ سے کچھ طلب کیجئے۔‘‘

اس پر سب نے یک زبان ہوکر کہا ’’ہماری خواہش تو یہ ہے کہ تم ہمیں فراموش کردو۔‘‘ یہ سن کر خلیفہ پر رقت طاری ہوگئی اور سب کو تعظیم و احترام کے ساتھ رخصت کیا۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 74 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے