بابو سر ٹاپ خیبرپختونخوا کی حدود میں نہیں آتا،گلگت بلتستان حکومت

  بابو سر ٹاپ خیبرپختونخوا کی حدود میں نہیں آتا،گلگت بلتستان حکومت

  



اسلام آباد(این این آئی)گلگت بلتستان حکومت نے کہا ہے کہ بابو سر ٹاپ سے تعمیرات نہیں ہٹائے جا سکتے کیونکہ یہ علاقہ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے مابین متنازعہ حدود میں نہیں آتا،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی قرارداد میں کاغان کے سیدوں کا دعویٰ کٹی داس کاعلاقہ ہے جو کہ بابوسر ٹاپ سے نیچے ہے۔گلگت بلتستان حکومت  نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر وگلگت بلتستان کی جانب سے گلگت بلتستان کے لوگوں کی جانب سے ضلع مانسہرہ کے علاقے ماؤزہ کاغان میں قائم کیے گئے تجاوزات کو ہٹانے کی سفارش کی جواب میں اپنی رپورٹ سینیٹ میں جمع کرادی ہے۔ گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے سینیٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں سرحدی بند ی کے قائم شدہ اصولوں کے مطابق پانی کے بہاؤ دیکھا جاتا ہے کہ کہاں سے یہ نیچے کی جانب بہہ رہا ہے،حتیٰ کہ متنازعہ حدود کو بھی ذہن میں رکھا جائے بابو سر ٹاپ قدرتی باؤنڈری ہے چونکہ علاقے کا سب سے اونچا مقام ہے،خیبرپختونخوا حکومت کی رٹ کبھی بھی بابو سر ٹاپ تک قائم نہیں ہوئی،جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بابو سر ٹاپ متنازعہ حدود میں نہیں آتا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی(کے ڈی اے) کی جانب سے پرائم منسٹر کمپلینٹ بورٹل پر درج کی گئی شکایات کو یہ حوالہ دے کر کہ یہ علاقہ گلگت بلتستان کی جغرافیائی حدود میں پڑتا ہے کہہ کر اے سی چلاس کو بھجواتا رہا ہے۔حکومت گلگت بلتستان کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ بابو سر ٹاپ متنازعہ علاقہ نہیں بلکہ یہ گلگت بلتستان کا حصہ ہے،اس لیے بابو سر ٹاپ پر قائم تعمیرات کو ہٹانا علاقے کی امن و امان کی صورتحال کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ متنازعہ حدود میں نیوٹرل فورس کی تعیناتی کی جائے چونکہ اس علاقے میں خیبر پختونخوا پولیس کی موجودگی امن و امان کی حالت کیلئے خطرہ ہو سکتی ہے۔

گلگت بلتستان حکومت 

مزید : علاقائی