ہتھکڑیاں ناکارہ، قیدیوں کو زنجیروں میں باندھ کر عدالتوں میں پیش کیا جانے لگا

ہتھکڑیاں ناکارہ، قیدیوں کو زنجیروں میں باندھ کر عدالتوں میں پیش کیا جانے لگا

  



کراچی(آئی این پی) کراچی کی مختلف جیلوں سے سٹی کورٹ لائے جانے والے قیدیوں کو لگائی جانے والی تمام ہتھکڑیاں ناکارہ ہوگئی ہیں۔سٹی کورٹ میں روزانہ 700 سے 800 انڈر ٹرائل قیدیوں کو ان کے مقدمات کی سماعت کے موقع پر کراچی کی تمام جیلوں سے سٹی کورٹ لاک اپ منتقل کیا جاتا ہے۔ بعدازاں انھیں لاک اپ پولیس کی نگرانی میں ان کی متعلقہ عدالتوں میں روانہ کیا جاتا ہے۔ پیشی سے قبل انھیں لاک اپ میں ہتھکڑیاں لگائی جاتی ہیں تاہم پولیس کے پاس قیدیوں کو پہنانے کیلیے ہتھکڑیاں دستیاب نہیں۔قیدیوں کو لگائی جانے والی تمام ہتھکڑیاں پرانی، ناکارہ اور ناقابل استعمال ہوچکی ہیں۔ ہتھکڑیوں کی عدم دستیابی سے سب سے زیادہ متاثر وہ قیدی ہیں جنھیں یہ ہتھکڑیاں پہنائی جاتی ہیں کیونکہ ہتھکڑیاں نہ ہونے کی وجہ سے ان قیدیوں سے انسانیت سوز سلوک روا رکھا جاتا ہے اور انھیں جانوروں کی طرح زنجیروں اور تالوں سے باندھ کر لاک اپ سے عدالت کیلیے روانہ کیا جاتا ہے۔سٹی کورٹ کے ہر بلاک اور حصے میں جا بجا قیدیوں کے ایسے جتھے نظر آئیں گے جنھیں زنجیروں میں جکڑ کر پولیس کی نگرانی میں بھیڑ بکریوں کی طرح عدالت روانہ کیا جاتا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک زنجیر میں ایک ساتھ کئی قیدیوں کو باندھ کربنیادی انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا ارتکاب کیا جاتا ہے تاہم ارباب اختیار نے تمام صورتحال جاننے کے باوجود چپ سادھ رکھی ہے کیونکہ گذشتہ 20 سال سے نئی اور پائیدار ہتھکڑیوں کی خریداری کیلیے اقدامات کیے گئے ہیں اور نہ ہی اس مد میں کسی قسم کا کوئی فنڈ جاری کیا گیا ہے۔سٹی کورٹ لاک اپ کے انچارج انسپکٹر محمودخان کے مطابق20سال قبل 500 چائنا ہتھکڑیاں فراہم کی گئی تھی جو انتہائی غیرمعیاری ہونے کی وجہ سے جلد ناکارہ ہوگئی تھیں لہٰذا اب اپنی مدد آپ کے تحت زنجیروں اور تالوں پر انحصار کیا جارھا ہے۔ لاک اپ انچارج کے مطابق مضبوط اور معیاری ہتھکڑیاں فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے۔کراچی بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر عابد فیروز نے پولیس کے اس اقدام کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ قیدیوں کو زنجیروں سے جکڑکر گھسیٹنا انسانیت سوز عمل ہے یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ ہتھکڑیوں کی مدمیں پولیس کو فنڈ جاری کرے۔

ہتھکڑیاں ناکارہ،

مزید : علاقائی


loading...