ہور گنے چوپو

ہور گنے چوپو
ہور گنے چوپو

  



مسلم لیگ(ن) کے اکثر راہنماؤں،کارکنوں اور حمایتیوں نے قیادت کے پیچھے آمین کہتے ہوئے پینترا بدل لیا ہے تو بعض جذباتی اور نظریاتی قسم والے بد دل دکھائی دے رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے موجودہ سٹانس اور بیانیے پر ایک جوشیلا حمایتی،ہمارا دوست دکھی نظر آیا۔ہور گنے چوپو کے طعنے پر طیش میں آنے کی بجائے افسردہ لہجے میں کہ رہا تھا ”ابن الوقتوں کے پیچھے زندگی گزار دی۔“اس نے ابن الوقتوں کی بجائے جو لفظ کہا وہ میں لکھ نہیں سکتا۔شائد اپنے کالم میں وہ خود لکھ دے۔ مگر لکیر کے فقیرمسلم لیگ(ن) کے موجودہ بیانیے کو بھی فتح قرار دیتے ہوئے کہ رہے ہیں اگلی حکومت اب ہماری ہوگی،مجھے اس قسم کی باتیں کرنے والے شاہد جاوید چیمہ جیسے نظریاتی،مسلم لیگی راہنماؤں سے ہمدردری ہے کیونکہ وقت آنے پر ٹکٹ اور عہدے انکی بجائے پھر کسی اور کو ہی ملیں گے اور یہ ساہیوال میں،شیر اک واری فیر کے نعرے ہی لگاتے رہیں گے۔

سیاسی افق پر،آرمی ترمیمی ایکٹ نے بہت سارے کردار ایکسپوز کر دئے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم متفقہ ہونی چاہئے ،آرمی چیف کی مدت ملازمت کے معاملے کو عدالت عظمیٰ میں بھی نہیں جانا چاہئے تھا۔یہ چیف ایگزیکٹو کا اختیار تھا اور چیف ایگزیکٹو حکومت کا ہی سربراہ ہوتا ہے جسے پارلیمنٹ ہی منتخب کرتی ہے۔اب اس کو ہم پارلیمنٹ میں لے ہی آئے ہیں تو اس پر مکمل اتفاق رائے ہونا چاہئے۔دوسری طرف ہائی لیول پر مسلم لیگ ن کی قیادت سے لندن میں بیک ڈور مزاکرات کے معاملات واضع ہوتے جا رہے ہیں، ن لیگ حسب روائت ٹیلیویڑن سکرین اور اخبارات کے صفحات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، عملی طور پر اپوزیشن بھی صرف پارلیمنٹ کی حد تک دکھائی دیتی ہے، مریم نواز رائیونڈ پیلس کے آرام دہ اور گرم کمروں میں سکون کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ ان رہنے والی مریم بی بی کی مصروفیات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں ایک حمزہ شہباز ہیں جو اب تک نیب اور عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں، مریم نواز اگرچہ شریف خاندان کی دوسری رکن ہیں جو پاکستان میں ہیں مگر لندن پرواز کے لئے پر تولے انتظار میں ہیں، وفاقی کابینہ نے ان کو بیرون ملک بھیجنے کی بھرپور مخالفت کی ہے اب ان کی روانگی کا انحصار عدالت کی طرف سے اجازت پر ہے۔ادھر نیب آرڈی نینس کی صدر مملکت کی طرف سے منظوری بھی دال میں کچھ کالے کا پتہ دے رہی ہے، آرڈی نینس کے تحت 50 کروڑ سے زائد کرپشن کے مقدمات پر ہی نیب ملزم پر ہاتھ ڈال سکے گا، اس آرڈی نینس کے ذریعے اب نیب میں زیر تفتیش اکثر مقدمات اور عدالتوں میں زیر سماعت بیشتر ریفرنسز ختم ہو جائیں گے، جس کے بعد ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے اکثر و بیشتر رہنما فرشتے قرار پا جائیں گے، سب سے زیادہ ریلیف میاں شہباز شریف کو مل رہا ہے۔ تاجروں کو بھی نیب کے شکنجے سے کسی حد تک رہائی مل چکی ہے سرکاری افسروں کو بھی آرڈی نینس میں تھوڑا سا ریلیف دیا گیا ہے مگر سابق ادوار میں کرپشن کے ذمہ دار وزراء، ارکان اسمبلی اور سیاسی رہنما مدعا بیوروکریسی پر ڈال کر اپنی کھال بچا سکتے ہیں کہ ہر منصوبہ کی منظوری بیورو کریٹس ہی دیتے ہیں اور قواعد و ضوابط سے بھی وہی آگہی رکھتے ہیں ورنہ وزراء، ارکان اسمبلی اور سیاسی رہنماؤں کی اکثریت تو ملکی دستور اور آئین سے بھی واقفیت نہیں رکھتی، اگرچہ وزیراعظم، وفاقی کابینہ متعدد بار سرکاری حکام کو کھل کر کام کرنے اور نیب سمیت کسی ادارہ سے خوفزدہ نہ ہونے کا پیغام دے چکے ہیں مگر اب تک عدالتوں سے ریلیف صرف سیاستدانوں کو ملا ہے۔

سابق وزیراعلیٰ کے پی کے اکرم درانی کے کیس میں تو اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیوروکریٹس کو ذمہ دار نہ ٹھہرانے پر نیب کو باقاعدہ طور پر نیب آرڈیننس بارے مطمئن کرنے کا حکم صادر کیا ہے، قیاس کیا جا رہا ہے کہ سعد رفیق، سلمان رفیق اور حمزہ شہباز بھی ایک ایک کر کے ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے مگر احد چیمہ، فواد حسن فواد اور دیگر افسران جرم بیگناہی کی سزا تا دیر بھگتتے رہیں گے۔ چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان بھی افسروں کو بلا خوف و خطر فرائض کی انجام دہی کی ہدائت کر چکے ہیں مگر خوف و دہشت کی فضا اب بھی برقرار ہے، ان حالات میں امور مملکت کو کیونکر اطمینان سے چلایا جا سکتا ہے اور عوامی مسائل کو کس طرح فوری طور پر حل کیا جا سکتا ہے اس کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔

احسن اقبال نے پارٹی کارکنوں کو متحرک اور فعال کرنے کی کوشش کی مگر جاوید ہاشمی کا انجام ان کے آڑے آیا اور وہ بھی پارٹی کے بجائے اپنی کھال بچانے میں لگ گئے انہیں بہت بعد میں یہ اندازہ ہوا کہ شریف خاندان کے کسی فرد کی شرکت کے بغیر عوامی سطح پر احتجاج ناممکن ہے، ان سمیت لیگی رہنماؤں کی آمد، عدالتوں میں پیشی پر بھی کارکنوں کی تعداد قابل ذکر نہیں ہوتی، پارٹی رہنما اور ارکان اسمبلی میں کسی احتجاج میں دلچسپی نہیں لیتے، حمزہ شہباز نیب کی گرفت میں ہیں اور مریم نواز کو اس وقت صرف لندن جانے سے غرض ہے سیاست اب ان کا ایشو نہیں اور شریف خاندان کے باقی تمام افراد نوازشریف، شہباز شریف لندن کے سرد ماحول میں ایون فیلڈ کے گرم فلیٹس میں زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں، شریف خاندان کی پراسرار خاموشی، لیگی قیادت کاچین اور اطمینان بتاتا ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ساری دال ہی کالی ہے اور شریف خاندان کو اب ملکی سیاست، پارٹی رہنماؤں، کارکنوں، ملکی مسائل سے رتی بھر دلچسپی نہیں رہی بلکہ اب ان کی ساری توجہ احتساب سے نجات حاصل کرنے اور اپنی دولت، کاروبار اور اثاثے بچانے پر مرکوز ہے۔ ن لیگ نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے بھی حمائت کا اعلان کر دیا ہے، ان کی مخالفت یوں بھی صرف بیانات کی حد تک تھی، ن لیگ کا اچانک آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حمائت کا اعلان کس قسم کا اشارہ ہے؟ یہ سب جانتے ہیں۔ لندن مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں شریف خاندان حکومت کی راہ میں مشکلات کھڑی کرنے کا چلن تبدیل کر لے گا اور آئندہ الیکشن تک شریف خاندان کا کوئی فرد سیاست میں فعال کردار ادا نہیں کرے گا اوراس غیر اعلانیہ معاہدہ پر لگتا ہے عملدرآمد شروع ہو چکا ہے جس کی وجہ سے مریم نواز نے مستقل خاموشی اختیار کر رکھی ہے، مستقل قریب میں یہ زبان بندی ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

مسلم لیگ (ن) کی موجودہ کامیابی کا خمیازہ بھی بیوروکریسی کو بھگتنا ہو گا۔فواد حسن فواد،احد خان چیمہ اور دوسرے انسان ہیں نہ انکے خاندان۔کہا جارہا ہے کہ فواد حسن فواد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ریٹائر کر کے بیوروکریسی کو انکی اوقات یاد دلائی جا رہی ہے۔ اگرچہ تحریک انصاف حکومت کو کرپشن کے ریفرنس، بدحال معیشت، اداروں میں مخاصمت ورثہ میں ملی مگر حکومت کی طرف سے معاملہ کو درست سمت لے جانے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی دکھائی نہیں دیتی، شریف خاندان کی بیرون ملک منتقلی، مریم نواز کی خاموشی اگرچہ شریف خاندان کی پسپائی ہے مگر حکومت کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کا بھی ثبوت ہے، اس طرز عمل سے تبدیلی کے دعویٰ کو حقیقت کا رنگ دینے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا دکھائی دے رہا ہے کہ سٹیٹس کو کا عمل اب بھی جاری رہے گا تبدیلی کا حکومتی نعرہ دیگر دعوؤں کی طرح وقت کی گرد تلے دفن ہو جائے گا۔عوام کیلئے یہی کافی ہے کہ ہور گنے چوپو۔

مزید : رائے /کالم


loading...