صدر ٹرمپ نے کیا کِیا،کیا کریں گے؟

صدر ٹرمپ نے کیا کِیا،کیا کریں گے؟
صدر ٹرمپ نے کیا کِیا،کیا کریں گے؟

  



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ2016ء کے متنازعہ صدارتی انتخابات میں ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی ”فیورٹ گھوڑی“ ہیلری کلنٹن کو پچھاڑ کر وائٹ ہاؤس پہنچے اور اب2020ء کے آغاز کے وقت وہ اپنے عہد ِ صدارت کے اچھے بُرے تین سال گزار کر موجودہ مدت کے آخری سال میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ نیا سال نئے صدارتی انتخابات کا سال بھی ہے۔ ایک بار پھر صدر بننے کی جدوجہد میں ان کی انتخابی مہم جاری ہے۔امریکی روایت کے مطابق ایک بار صدر منتخب ہونے والے کو دوسری بار اپنی پارٹی کی طرف سے انتخاب میں حصہ لینے کا اختیار مل جاتا ہے،البتہ یہ فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا کہ اس مرتبہ ڈیمو کریٹک پارٹی کی طرف سے ان کے مدمقابل کون آگے آئے گا؟ لیکن ان کے خیال میں جو سب سے مضبوط امیدوار ان کے سامنے آ سکتا تھا،وہ سابق نائب صدر جوبائیڈن تھا۔ان کی اپنے بیٹے ہنٹر کے ساتھ مل کر یوکرائن کی گیس کمپنی میں سرمایہ کاری تھی۔صدر ٹرمپ نے وہاں اپنے سفارت کاروں اور ذاتی وکیل جولیانی کے ذریعے اور پھر یوکرائن کے صدر سے براہِ راست رابطہ کر کے مبینہ طور پر یہ کوشش کی کہ جوبائیڈن اور ان کے بیٹے کو بدعنوانی کے معاملے میں پھنسا دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کوشش کا مطلب اپنے ڈیمو کریٹک حریف کو بدنام اور کمزور کرنا تھا،لیکن یہ معاملہ چھپا نہیں رہا اور بڑھتا بڑھتا ان کے مواخذے کی صورت میں بدل گیا۔اس طرح وہ مواخذے کی بدنامی حاصل کرنے والے امریکی تاریخ کے تیسرے صدر بن گئے۔ نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی سینیٹ میں مواخذے کا مقدمہ چلے گا،جو کامیاب ہونے کا امکان نہیں، کیونکہ وہاں حکمران ری پبلکن پارٹی کواکثریت حاصل ہے۔ مقدمہ کامیاب ہو یا نہ، بہرحال بدنامی کا مستقل دھبہ ان پر پہلے ہی لگ چکا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کا صدارتی ٹکٹ حاصل کرنے سے پہلے سیاست میں کوئی ٹریک ریکارڈ نہیں تھا۔ نیو یارک میں کوئنز کے علاقے کے رہائشی ٹرمپ کو رئیل اسٹیٹ کا بزنس وراثت میں ملا، جسے انہوں نے آگے بڑھایا۔ جائیدادوں کی خرید و فروخت میں بروکر کا کام کرتے،اور سرمایہ کاری کرتے ہوئے وہ خود جائیدادوں کے مالک بن گئے۔ایک بزنس مین اور سرمایہ کار کے طور پر وہ ری پبلکن پارٹی کی ٹکٹ کے امیدوار بنے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ مباحثوں اور پرائمری انتخابات میں روایتی سیاست دانوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے…… بعد میں ڈرامائی طور پر بظاہر مقبول نظر آنے والی ڈیمو کریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن کو ہرا کر وائٹ ہاؤس میں جا پہنچے……یہ درست ہے کہ اپنی صدارت کے پہلے تین برسوں میں انہوں نے بہت سے ایسے کارنامے سرانجام دیئے،جو کم ہی کسی اور امریکی صدر کے حصے میں آئے ہوں گے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اپنے انتخاب سے لے کر اب تک داخلی اور عالمی سطح پر متنازعہ چلے آ رہے ہیں۔ ان پر مسلسل یہ الزام لگتا رہا کہ وہ اپنے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے شائستگی اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں۔ اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ وہ روایتی سیاست دان نہ ہونے کے سبب ڈپلومیسی سے کم ہی کام لیتے ہیں اور اہم سے اہم موضوعات پر تبصرہ کرتے وقت لاپرواہی اور لاابالی پن کا مظاہرہ کرتے ہیں،جن کی بعد میں وائٹ ہاؤس کو وضاحت کرنا پڑتی ہے۔ 2019ء کا سال جاتے جاتے ان کے سیاسی کیریئر پر مواخذے کے مقدمے کا ایسا سیاہ دھبہ لگا گیا ہے،جو کبھی مٹ نہیں سکے گا، تاہم آئندہ صدارتی انتخابات کی انتخابی مہم کے آخری سال2020ء میں،جب وہ 3نومبر کو دوسری مدت کے لئے اپنے ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار کا سامنا کریں گے تو ان کے پاس باقی دُنیا،امریکی ووٹروں،خصوصاً سفید فام قدامت پسند ووٹ بینک کو دکھانے کے لئے کامیابیوں کا وافر سٹاک موجود ہے۔ ان کے دور میں امریکی افواج نے عراق اور شام میں داعش کا زور توڑا اور انہیں اپنا قبضہ ختم کر کے فرار ہونے پر مجبور کیا۔اس کے ساتھ ہی امریکی کمانڈوز نے ایک خصوصی چھاپہ مار کارروائی میں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو ہلاک کیا،اس کا وہ تمام تر کریڈٹ لے سکتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے عراق اور شام میں کامیابیوں کے حصول کے بعد اس خطے سے امریکی افواج کو بتدریج واپس لانے کے جو فیصلے کئے، انہیں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ افغانستان کی طویل جنگ کو ختم کر کے پاکستان او افغان انتظامیہ کو اعتماد میں لیتے ہوئے طالبان سے مصالحتی امن مذاکرات کا آغاز کرنا بھی یقینا ان کا کارنامہ ہے، جس کو وہ اپنے ووٹروں کے سامنے فخر سے بیان کر کے انتخابی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

جنوبی ایشیا کے بارے میں ان کی پالیسی بھی کامیاب شمار کی جائے گا،جبکہ پاکستان اور بھارت کے باہمی حساس اور متحارب رویے کے باوجود صدر ٹرمپ نے ان دونوں اہم قوتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھا۔2017ء میں انہوں نے افغان جنگ ختم کرنے اور خطے میں پاکستان اور بھارت کے کردار کو متعین کرنے کے لئے ”جنوبی ایشیا کے لئے حکمت عملی“ کا اعلان کیا۔ اس میں پاکستان کو جلی اور خفی دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے اپنی سرحد میں موجود افغان طالبان، خصوصاً حقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لئے شفاف اقدامات نہ کئے تو امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب ہو جائیں گے اور امریکہ امداد سے ہاتھ کھینچ لے گا۔اس پالیسی کے تحت پہلی مرتبہ بھارت کو زیادہ نمایاں کردار سونپا گیا، جو پاکستان کو پسند نہیں آیا،لیکن صدر ٹرمپ کو جلد ہی احساس ہو گیا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں اگر پاکستان امریکہ سے دور چلا گیا تو اس کے بغیر افغانستان کے حوالے سے کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا۔اس کے بعد صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو امریکہ بُلا کر ان سے پیار و محبت کی نئی پینگیں بڑھائیں۔سابق امریکی صدور کے برعکس ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے خطے کے انتہائی نازک اور حساس کشمیر کے مسئلے میں زیادہ دلچسپی لی اور دونوں فریقوں کی رضا مندی کی صورت میں ثالثی کی پیشکش کی۔ وزیراعظم مودی نے اسے رد کر دیا،لیکن پاکستان کی حکومت، فوج اور عوام میں اس بناء پر صدر ٹرمپ کی پذیرائی میں اضافہ ہوا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے پاکستان کی امداد کو معطل کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا، اسے واپس لیا جا رہا ہے اور یہ امداد بتدریج بحال ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم مودی کے ساتھ سٹرٹیجک، دفاعی،اقتصادی اور تجارتی سطح پر تعلقات کو بھی فروغ دیا اور انڈو پیسفک ریجن میں بھارت کو اہم کردار سونپا۔ اس صورتِ حال میں صدر ٹرمپ نے بیک وقت وزیراعظم عمران خان اور وزیراعظم مودی کے ساتھ دوستی برقرار رکھی۔

صدر ٹرمپ کے دور میں شمالی کوریا کے ساتھ امریکہ کے تعلقات اتنی خطرناک سطح پر پہنچ گئے تھے کہ جوہری جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا،لیکن یہ کریڈٹ بھی ان کو جاتا ہے کہ انہوں نے شمالی کوریا کے اکھڑ لیڈر کم یانگ کو امریکہ کے ساتھ سمجھوتے کے بعد اپنی ایٹمی قوت میں بتدریج کمی کر کے اسے ختم کرنے کا وعدہ کرنے پر مجبور کر دیا۔صدر ٹرمپ نے امریکی عوام کو خوش کرنے کے لئے چین کے ساتھ تجارت میں گھاٹے کا سودا ختم کرنے کے لئے جنگ کا آغاز کیا اور بالآخر چین کے ساتھ تجارتی اشیاء پر محصولات میں کمی کا سمجھوتہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔اس کے ساتھ ہی شمالی کوریا کے دیگر ممالک کینیڈا، میکسیکو کے ساتھ ایک نیا تجارتی سمجھوتہ طے کر لیا،جس پر جنوری میں باقاعدہ دستخط ہو جائیں گے۔ امریکی عوام صدر ٹرمپ کی نیٹو ممالک کے حوالے سے پالیسیوں کو بھی بہت دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں،جہاں انہوں نے روس، شام اور افغانستان کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے یورپی ممالک کو اپنا حصہ ادا کرنے پر زور دیا، تاکہ سارا بوجھ امریکہ پر نہ پڑے۔ صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیج کی پالیسیوں میں عمومی طور پر سعودی عرب اور اسرائیل کا ساتھ دیا۔ خلیجی سرد جنگ میں وہ کافی حد تک ایران کو تنہا کرنے اور اقتصادی پابندیوں کے ذریعے کمزور کرنے میں کامیاب ہوئے۔فلسطین کے حوالے سے امریکہ کا مصالحتی منصوبہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکا، کیونکہ صدر ٹرمپ امریکہ میں یہودی ووٹ حاصل کرنے کے لئے اسرائیل کو جو رعایتیں دینے جا رہے ہیں، وہ مسلم دُنیا کو قبول نہیں ہیں۔

عمومی طور پر اپنی تمام تر کمزوریوں اور مواخذے کے داغ کی موجودگی کے باوجود صدر ٹرمپ کے پاس کامیابیوں کا بھی اتنا ٹریک ریکارڈ موجود ہے، جو اس سے پہلے کم ہی کسی امریکی صدر کے حصے میں آیا ہے۔ان کے علاوہ ان کی بہت سی ایسی کامیابیاں ہیں،جن کی زیادہ تشہیر نہیں ہوئی، جن کا تعلق امریکہ کے داخلی امور سے تھا یا وہ ایسے موضوعات تھے،جن پر عام لوگوں نے توجہ نہیں دی۔پہلی بات تو یہ کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں ملازمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا، بیروز گاری گذشتہ 50سال کے عرصے کی نچلی ترین سطح تک پہنچ گئی۔ سٹاک مارکیٹ مسلسل فروغ پذیر رہی اور ریکارڈ توڑتی رہی،کم آمدنی والے طبقے کی تنخواہوں میں مسلسل اضافہ ہوا اور اس کا فائدہ اٹھانے والوں میں سیاہ فام اور ہسپانوی کمیونٹی کی بڑی تعداد شامل ہے۔صدر ٹرمپ نے جنوب میں میکسیکو کی سرحد سے غیر قانونی تارکین وطن کے ریلوں کو جس جرأت کے ساتھ روکا اور سرحد پر دیوار کی تعمیر اور چیکنگ کا نظام بہتر بنانے کی کوشش کی، اس کو عمومی طور پر عام شہریوں نے بہت پسند کیا،تاہم اس میں جب چھوٹے بچوں، بچیوں اور خواتین کا کارڈ استعمال ہوا تو وہ ظالم بھی قرار پائے،لیکن اس غیر مقبول اقدام سے ریاست کی معیشت پر غیر معمولی بوجھ کو روک دیا گیا۔ ہیلتھ کیئر کے معاملے پر وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ اس نے صارفین کو اپنی انشورنس کی سہولت کے انتخاب کو محدود کرنے کی بجائے زیادہ کھلا کر دیا ہے اور ان کی پالیسیوں کے باعث ادویات کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے……دفاعی محاذ پر انہوں نے اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ جو پالیسی اپنائی،اسے وہاں زیادہ پسند نہیں کیا گیا،لیکن امریکی مفادات کو دیکھا جائے تو انہوں نے اس مد میں کافی بچت کی ہے۔انہوں نے اپنے اتحادیوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر دفاعی پروگراموں میں اپنا حصہ ادا کریں اور سارا بوجھ امریکہ پر نہ ڈالیں۔اس پالیسی کا یہ نتیجہ نکلا کہ آئندہ سال تک ان اتحادیوں کو دفاع کی مد میں مزید 130 بلین ڈالر کے اخراجات اٹھانے ہوں گے۔ ٹرمپ کا متنازعہ امیج اور مواخذے کا سیاہ دھبہ اپنی جگہ،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ کامیابیوں کے اچھے خاصے ٹریک ریکارڈ کے ساتھ 2020ء کے انتخابی سال میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں ان کے مدمقابل ہیلری کلنٹن جیسی کرشماتی شخصیت کے فقدان کے باعث ان کے ایک مرتبہ پھر کامیاب ہونے کے روشن امکانات ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...