عوام کو تبدیلی نہیں، دو وقت کی روٹی چاہئے!

عوام کو تبدیلی نہیں، دو وقت کی روٹی چاہئے!
عوام کو تبدیلی نہیں، دو وقت کی روٹی چاہئے!

  

موجودہ حکومت تبدیلی کا نعرہ لے کر وجو د میں آئی۔ دوران انتخابات موجودہ حکومتی سر براہ نے عوام کو یقین دلایا تھا کہ عوام کو تمام بنیادی سہولتیں مہیا کی جائیں گی اور ہر معاملے میں عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔ اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بجلی کے بل وغیرہ جلائے گئے،سول نا فرمانی تحریک چلانے کا اعلان کیا گیااور عوام سے کہا گیا کہ بلوں کی ادائیگی روک دی جائے، کیونکہ عوام کو بلوں کے ذریعے لوٹا جا رہا ہے اورظلم کا با زار گرم ہے۔ آ ج وہی پارٹی حکومت میں ہے اور عوام کو ریلیف دینے کی بجائے عوام سے روٹی کا نوالہ بھی چھیننا چاہ رہی ہے۔ ہر طرف بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے،جبکہ دیگر بلوں، خصوصاً بجلی کے بلوں کے ذریعے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے اور بجلی کے یونٹوں میں آئے روز اضافہ کر کے عوام کا جینا دو بھر کر دیا گیا ہے۔کاروباری حالات روز بروز ابتر ہو رہے ہیں، بیروز گار ی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام کو دبایا جا رہا ہے کہ ٹیکسوں کی ادائیگی میں اضافہ کیا جائے…… ٹیکس کی ادائیگی ہونی چاہئے،مگر مناسب طریقہئ کار کو اپنایا جانا ضروری ہے۔ اس بابت فضا کو پُرامن بنانا وقت اور حالات کا تقاضا ہے۔ہر ماہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔اضافہ روپوں کی صورت میں،جبکہ کمی پیسوں کی صورت میں کر کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑ کا جاتا ہے۔ روزمرہ زندگی کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے نے شہریوں کی زندگی دو بھر کر کے رکھ دی ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں اپنا کردار ادا کرنے پر توجہ نہیں دے رہیں۔ ضلعی انتظامیہ گلی محلوں کے دکانداروں کے خلاف کارروائی کر کے خانہ پوری کررہی ہے،جبکہ ڈیلروں پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا۔ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزں کے خلاف ملکی سطح پر تحریک چلائی جائے، ہر محکمہ من مانی کارروائیوں میں ملوث ہے،جبکہ محکمہ پولیس اور محکمہ صحت عوامی شکایات کا ازالہ کرنے میں نا کام دکھائی دیتے ہیں، جبکہ شہریوں کی تحریری شکایت کے باوجود کارروائی کا عمل روک دیا گیا ہے۔اس طرح عوامی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

بجلی کے بلوں میں اضافہ اور مہنگائی کے رجحان میں تیزی کا عمل جاری ہے۔ بجلی کے بلوں میں اضافہ معمول بن کر رہ گیا ہے،جبکہ عوام کی چیخ و پکار پر توجہ نہ دینے کو کامیابی سمجھ لیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر صنعت و تجارت نے گزشتہ دِنوں بیان دیا کہ حکومت مہنگائی کم کرنے کا کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت عام آدمی کے مالی تحفظ، قوت خرید اور معیار زندگی کے لئے کچھ بھی کرنے میں ناکام ہے، تاہم بجلی کے بلوں میں اضافے کی وجہ سے عوام نے ایک وقت کا کھانا چھوڑ دیا ہے،کیونکہ آمدنی کم اور بلوں کی یلغار،بھر مار اور اضافے نے غریب عوام کی چلتی زندگی کا پہیہ روک دیا ہے، جس سے درحقیقت شہری اضطراب کا شکار ہیں۔ بجلی کے بلوں میں ریڈنگ کے مطابق بل صارف کو ملنا چاہئے،لیکن آپ بجلی کے بل کا بغور مطالعہ کریں تو بجلی کے صرف شدہ یونٹوں کی قیمت کے علاوہ دیگر5 قسم کے ٹیکس لگا کر عوام کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے، حالانکہ ٹیکس کی وصولی کے لئے علیحدہ محکمہ قائم ہے،جو عوام سے ٹیکس وصولی میں مصروفِ عمل ہے، عوام کے لئے بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کا شمار بظاہر دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔ توجہ طلب معاملہ یہ ہے کہ مذکورہ ٹیکسوں کے علاوہ نومبر2019ء کے بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا نیا خانہ ڈال کر عوام کی جیبوں سے روٹی کھانے کی رقوم حکومت چھین رہی ہے۔ یہ معاملہ غور طلب ہے۔

چوہنگ کے علاقے میں ایک شہری کو 102 یونٹ کا بل ملا ہو، اصل بل695روپے بنتا ہے، لیکن مذکورہ بل میں پانچ ٹیکسوں کا بل172.99 فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ڈال کر5883.91 روپے مجموعی رقم کا بل موصول ہوا ہے، اسی طرح پرانی انار کلی سرکل میں بھی بلوں میں خاطر خواہ اضافہ کر کے لوگوں کو نا جائز بل بھیجے جا رہے ہیں۔ ایک شہری غلام احمد کو 3لاکھ 9ہزار روپے کا بل بھیج دیا گیا۔اس طرح سے اصل بل کی رقم کی بجائے ٹیکسوں کی بھر مار نے عوام سے ایک وقت کی روٹی بھی چھین لی ہے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں وصولی کو فوری روکا جانا عوام کے مفاد میں ہے، تاہم اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر انکوائری اشد ضروری ہے۔ بلوں میں غیر ضروری رقوم کا شمار ہر لحاظ سے ناانصافی اور عوام سے زیادتی ہے۔ اس معاملے پر حکومت کو فوری توجہ دینا ہو گی۔عوام کا کہنا ہے کہ ہمیں ریلیف دیا جائے، یتیم نہ کیا جائے،ہماری زندی کو آسان بنایا جائے، کانٹوں میں نہ پھینکا جائے، عوام کو تبدیلی راس نہیں آئی، عوام پکا ر پکار کر کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تبدیلی یا نیا پاکستان نہیں چاہئے،بلکہ عوام کو ریلیف دینے کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے،انتخابی نعروں کو پورا کرنے کے لئے حکومتی نمائندوں کو عوام کی زندگی کو آسان بنانا ہو گا،بجلی کے بلوں سمیت دیگر بلوں کو کم کرنے اور روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لئے فوری کارروائی کرنے کے لئے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب کو عملی اقدامات کر کے عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کے عمل کو یقینی بنانا ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -