اونٹ کے گلے میں بلی

اونٹ کے گلے میں بلی
اونٹ کے گلے میں بلی

  



لگتا تو یہی ہے کہ اگلے چند دِنوں میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جائے گا۔ سپریم کورٹ سے گذشتہ ماہ ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ جاتے جاتے آرمی چیف کو توسیع دینے یا نہ دینے کے متعلق قانون سازی کا اختیار پارلیمان کو دے گئے تھے۔اس سے پہلے یہ وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار تصور ہوتا تھا، لیکن کوئی واضح قانون بہرحال موجود نہیں تھا۔ دوران سماعت حکومت کی یہ نا اہلی بھی سامنے آئی تھی کہ وہ روٹین کا ایک نوٹیفکیشن بھی درست الفاظ کے ساتھ نہیں نکال سکی اور حکومتی قانونی ٹیم تین د ن تک سپریم کورٹ میں رگڑا کھاتی رہی۔ خیر، سپریم کورٹ نے چھ ماہ کا وقت دیا،جس میں پارلیمان کو آرمی چیف کی مدت ملازمت اور اس میں ممکنہ توسیع کا قانون پاس کرنا تھا۔ اس وقت پارلیمان قانون سازی کے مراحل میں ہے اور لگتا ہے چھ ماہ کی بجائے دوسرے ماہ ہی متعلقہ قانون سازی کر لی جائے گی۔ قانون بن جانے کے بعد یہ بحث آئندہ کے لئے بھی ختم ہو جائے گی،جو ادارے کے استحکام کے لئے بہتر ہو گا،کیونکہ قانون کی موجودگی بہر حال گو مگو کی کیفیت سے بہتر ہوتی ہے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی قانون سازی اب آسان کام معلوم ہو رہی ہے اور لگ یہی رہا ہے کہ تمام بڑی پارٹیاں اسے مکمل کرنا چاہتی ہیں۔ اب تک صرف چند چھوٹی جماعتوں کی طرف سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت سامنے آئی ہے۔ ان میں جمعیت علمائے اسلام کے مولا نا فضل الرحمان، جماعت اسلامی کے سراج الحق، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو شامل ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی،چودھری برادران کی قائداعظم مسلم لیگ، ایم کیو ایم اور تینوں بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف پورے زور و شور سے قانون بنانے کے لئے سرگرم ہیں اور پارلیمان کے اجلاس اور قانون سازی کے مراحل شروع ہو چکے ہیں۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے تینوں سروسز، یعنی آرمی، فضائیہ اور بحریہ کے چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا، جسے فوری طور پر دفاع کی قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا تاکہ آگے کے مراحل مکمل کرکے قانون بنایا جا سکے۔

گذشتہ الیکشن کے بعد سے پاکستان میں اپوزیشن کی سیاست صرف مسلم لیگ (ن) کر رہی ہے۔پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ہونے کے باوجود اپوزیشن کا رول ادا کرنے سے انکاری ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کی قیادت بھی نیب کی کارروائیوں کی زد میں ہے اور اس کے کئی رہنما اندر باہر ہوتے رہے ہیں، جن میں شریک چیئرمین آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، سندھ اسمبلی کے سپیکر آغا سراج درانی، سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن وغیرہ شامل ہیں، لیکن بحیثیت مجموعی پیپلز پارٹی الیکشن سے پہلے سے ہی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ”فرمانبردار بچے“ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ پچھلی حکومت کے دور میں بلوچستان میں مسلم لیگ (ن)کی حکومت ختم کرنے اور اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنوانے کا پراجیکٹ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے مل کر پورا کیا تھا۔الیکشن کے بعد بھی پیپلز پارٹی نے اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کی پالیسی جاری رکھی اور لگاتار اچھا بچہ بن کر دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ گذشتہ سال چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے میں بھی اس نے اپنا کردار ادا کیا تھا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے جن چودہ سینیٹروں نے پارٹی لائین کے خلاف ووٹ دیا تھا،ان کے نام ابھی تک واضح نہیں ہو سکے۔ تمام تر فرمانبرداری کے باوجود پیپلز پارٹی کو مقدمات میں کچھ ریلیف ملنے کے سوا سیاسی طور پر کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔ بلاول بھٹو زرداری کچھ نا تجربہ کاری اور بہت حد تک سیاسی اخلاقیات میں کمزور وکٹ پر ہونے کی وجہ سے اپنا اور پارٹی کا مذاق بنواتے رہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی میں بھٹو کے جیالے اب بہت کم باقی رہ گئے ہیں، لیکن جو چند لوگ ہیں،وہ بھی آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر ناچتا دیکھ کر یقینا کڑھتے رہتے ہوں گے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی قربانیاں رائیگاں جا چکی ہیں، کیونکہ ان کے وارثین ان سے زیادہ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے سیاسی وارث بن گئے ہیں۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے میں حکومتی پارٹی پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کا سٹینڈ تو پہلے دن سے واضح ہے۔ یہ سب اسٹیبلشمنٹ کی اعلانیہ طور پر حامی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے بارے میں کسی کو کنفیوژن نہیں ہے کہ ان کی حکومت اسٹیبلشمنٹ نے بنوائی ہے اور حکومت کی نا اہلی اور صفر کارکردگی کے باوجود اسے اسٹیبلشمنٹ ہی سہارا دئیے ہوئے ہے۔ اپوزیشن چونکہ دیوار سے لگائی جا چکی ہے اور اس کی زیادہ تر قیادت اپنی سیاسی بقا کی چومکھی لڑائی لڑنے پر مجبور ہے،اِس لئے سیاسی طور پر حکومت کو بظاہر کوئی بڑا خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔بہت سے اپوزیشن لیڈر جھوٹے اور غلط مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور نیب کا کردار احتساب کی بجائے سیاسی انتقامی ادارے کا ہے۔ حالیہ نیب آرڈی ننس کے بعد نیب کے پاس سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کے سوا اور کوئی کام باقی بھی نہیں رہ گیا۔ ایسے حالات میں نیب کو باقی رکھنے کا اب کوئی سیاسی، قانونی اور اخلاقی جواز بھی باقی نہیں بچا،کیونکہ ملک میں پولیس، عدالتیں اور اینٹی کرپشن محکموں کے علاوہ اہم وفاقی ادارہ جاتی محکمے جیسے ایف آئی اے، ایف بی آر، ایس ای سی پی سمیت دوسرے ریگولیٹری اور انوسٹی گیشن ادارے موجود ہیں،جن کی موجودگی میں صرف سیاسی مخالفین کی سیاسی ٹارگٹ کلنگ کے لئے نیب کی حیثیت ایک سیاہ ادارے کی ہی رہ جائے گی۔البتہ اپوزیشن کا بازو ہر طرح سے مروڑنے کے باوجود حکومت کی نا اہلی ہی اس کے لئے بڑا خطرہ ہے اور بدستور رہے گا۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے حکومتی پارٹیوں کے علاوہ اپوزیشن میں بیٹھنے والی پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی بھی اسٹیبلشمنٹ کا ہر حکم بجا لاتی ہیں اور اس ضمن میں وہ بھی حکومتی پارٹیوں کی طرح ہی ہیں۔ صرف مسلم لیگ (ن) ہی ایک حقیقی اپوزیشن پارٹی ہے،جس کی تمام مرکزی قیادت مقدمات کا سامنا کر نے کے ساتھ ملک میں سویلین بالا دستی اور جمہوریت کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف نے جولائی 2018ء میں لندن سے خود واپس آکر گرفتاری دی تھی، اِس لئے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) مقدمات سے جان چھڑانے کے لئے کوئی قدم اٹھائے گی۔ اگر مقدمات سے بچنا ہوتا تو 2018ء کے الیکشن سے پہلے ڈیل کی گئی ہوتی اور ان تمام تکالیف کا سامنا ہی نہ کیا گیا ہوتا، جو میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف نے اٹھائی ہیں۔انہوں نے انتہائی بے بسی کے عالم میں بیگم کلثوم نواز کی رحلت کی خبر جیل میں سنی۔پچھلے ڈیڑھ سال سے شریف خاندان اور پارٹی کے اہم لیڈروں رانا ثناء اللہ، شاہدخاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور کئی دوسروں نے جھوٹے مقدمات بھگتے ہیں اور اس میں تازہ ترین اضافہ احسن اقبال کا ہے۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) نے اگر اس کی حمایت میں ووٹ دیا تو اس کاتجزیہ جذبات کی بجائے کلی طور پر سیاسی سباق و اسباق میں کرنا پڑے گا۔ پیپلز پارٹی الیکشن کے پہلے سے پرو اسٹیبلشمنٹ کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) ملک کی واحد اور حقیقی اپوزیشن ہے اور ملک میں سویلین بالا دستی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ میاں نواز شریف کا ”ووٹ کو عزت دو“ کا بیانہ ہر جمہوریت پسند کے دِل کی آواز اور مریم نواز شریف مزاحمت کی علامت بن چکی ہیں۔ ان حالات میں،جبکہ عمران خان ایک لاڈلے کی حیثیت سے تمام فیورز انجوائے کر رہے ہیں، realpolitic کا تقاضا یہ ہے کہ غیر ضروری طور پر اُلجھے بغیر جمہوریت پسند سیاسی قیادت سیاسی سپیس بنائے اور لاڈلے کا سٹیٹس سیاسی طور پر ختم کیا جائے۔ پی ٹی آئی حکومت وفاق اور پنجاب دونوں جگہ اتحادیوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے اور ان اتحادیوں کا کنٹرول اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے۔ اسمبلیوں میں نمبر ایسے ہیں کہ ایک یا زائد اتحادیوں کے پیچھے ہٹنے سے حکومت گر جائے گی۔ عمران خان بطور وزیراعظم ناکام نظر آتے ہیں اور انہیں لانے والے بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ حکومت تقریروں سے نہیں،بلکہ کارکردگی سے چلتی ہے۔ اہم عہدوں پر عمران خان کے ذاتی دوست براجمان ہیں اور میرٹ نام کی کوئی چیز کسی حکومتی جگہ پر نظر نہیں آتی۔خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر ساری کابینہ بدل دی گئی ہے اور حکومتی ترجیحات کا یہ عالم ہے کہ ایک میٹرک پاس کو وزیر تعلیم بنا یا گیا ہے…… نئے پاکستان اور تبدیلی کا نعرہ کھوکھلا ثابت ہو چکا ہے، کیونکہ نعرہ لگانے والوں میں عمل کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اس تناظر میں لاڈلے کا سٹیٹس ختم ہونے سے اسے حقیقی سیاسی قوتوں کا سیاسی مقابلہ کرنا پڑے گا اور جب حقیقی سیاسی قوتیں دیوار سے لگے رہنے کی بجائے عملی طور پر سیاسی میدان میں ہوں گی تو سیاسی فتح بھی سیاسی طاقتور کو ملے گی،اس طرح پہلے پنجاب اور بعد میں ممکنہ طور پر وفاق میں تبدیلی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ پاکستان نہ صرف اندرونی طور پر سیاسی قیادت کے بحران کا شکار ہے اور اس کی معیشت گرداب میں پھنسی ہوئی ہے،بلکہ علاقائی چیلنج بھی بے شمار ہیں۔ بھارت میں حالات انتہائی خراب ہیں، وہ کشمیر پہلے ہی ناجائز طور پر ہڑپ کر چکا ہے،بلکہ پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب بھی کر سکتا ہے۔ افغانستان کے حالات الیکشن کے بعد مزید خراب ہو چکے ہیں اور اب ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے بہیمانہ قتل کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے عزائم انتہائی خطرناک نظر آتے ہیں، جن کی وجہ سے پورا خطہ جنگ کے شعلوں کی نذر ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان میں اندرونی اتحاد کے ساتھ مضبوط سیاسی قیادت کی ضرورت ہے۔”کسی کو نہیں چھوڑوں گا“ کے نام پر انتقامی احتساب کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ حقیقی سیاسی قوتوں کو میدان عمل میں لانا ہو گا اور ملک کو سیسہ پلائی دیوار بنانا ہو گا۔ عمران خان آرمی چیف کو توسیع دینا چاہتے تھے۔ یہ اونٹ تو اگلے چند دنوں میں اپنے کروٹ بیٹھ جائے گا،لیکن عمران خان کو اونٹ کے گلے کے ساتھ بلی بھی لینا ہوگی، جس کی قیمت اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائی ختم کرکے اسے مین سٹریم میں لانا ہے۔ عمران خان کو اونٹ ملے گا ضرور، لیکن گلے میں بندھی بلی کے ساتھ۔ پاکستان کو درپیش خوفناک اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ اس کے بغیر ہو بھی نہیں سکتا۔ پارلیمان کی بالادستی ہی سویلین بالا دستی ہے اور یہی ووٹ کی اصل عزت بھی ہے۔

مزید : رائے /کالم