ماڈل پولیس اسٹیشن…… اونچی دکان!

ماڈل پولیس اسٹیشن…… اونچی دکان!
ماڈل پولیس اسٹیشن…… اونچی دکان!

  



وزیراعظم عمران خان کی بڑی خواہش ہے کہ پاکستان میں تھانے ٹھیک ہو جائیں …… وہ جب اپوزیشن میں تھے، تب بھی یہی کہتے تھے کہ ملک کو پولیس اسٹیٹ بنا دیا گیا ہے اور لوگوں کو انصاف نہیں ملتا، پھر وہ خیبرپختونخوا پولیس کی مثالیں دینے لگے کہ اسے درست کر دیا گیا ہے اور وہاں اب پولیس عوامی خدمت کا ادارہ بن گئی ہے۔ اگرچہ اب بھی خیبرپختونخوا پولیس کی شکایات آتی رہتی ہیں،تاہم وزیراعظم عمران خان کا گمان ہے کہ ٹوٹنے نہیں پا رہا۔ اب انہوں نے پنجاب میں ماڈل پولیس اسٹیشن بنا کر یہ خوشخبری سنائی ہے کہ پولیس عوامی خدمت کا ادارہ بن جائے گا۔ چند ماڈل تھانے بنا دینے سے کیا پولیس کا کلچر بہتر ہو جائے گا؟ کیا پنجاب کے لوگوں کو ماڈل پولیس اسٹیشن کے مزلے لینے کے لئے میانوالی جانا پڑے گا؟ کیا پولیس اسٹیشن کوئی ایسی چیز ہے جہاں لوگ سیر کرنے جاتے ہیں، یا یہ وہ جگہ ہے جہاں سے لوگوں کو تحفظ اور انصاف ملنا چاہئے؟

پولیس اسٹیشن میٹرو اسٹیشنوں کی طرح جگمگ کرتے ہوں تو کیا وہ عوام کو مطمئن کر سکیں گے؟ اچھی بات ہے پولیس اسٹیشن صاف ستھرے، کشادہ، سہولتوں سے مزین اور بہترین ماحول کے حامل ہونے چاہئیں، لیکن اگر ان میں بیٹھا ہوا عملہ خوش اخلاق نہیں، سیدھے منہ بات نہیں کرتا، کسی لٹے پٹے سوالی کی فریاد نہیں سنتا، اسے فوری انصاف فراہم نہیں کرتا، طاقتور کو عزت اور کمزور کو بے عزتی سے نوازتا ہے، تو اس چمک دمک کا فائدہ؟ یہ تو سینے پر مونگ دلنے والی بات ہوئی۔ اگر زور اس بات پر دیا جائے کہ تمام پولیس والے اپنے اخلاق کو بہتر بنائیں، مظلوم کی داد رسی کو اپنا مشن سمجھیں، کسی دباؤ کے تحت کمزور پر ظلم نہ کریں، اپنے فرائض کو دیانت داری سے ادا کریں، تو یہ اس بات سے کہیں بہتر ہوگا کہ آپ کروڑوں روپے لگا کر کسی ضلع میں ایک ماڈل تھانہ بنا دیں، اس میں سہولتیں فراہم کر دیں اور باقی ضلع کو روایتی پولیس ہتھکنڈوں کے حوالے کر کے پولیس میں بہتری آنے کے شادیانے بجائیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ حکمرانوں نے بھی لش پش دکھا کر کام چلانا ہوتا ہے، کارکردگی دکھانے کے لئے تو ایک عمر درکار ہوتی ہے۔ لش پش دکھانے کے لئے چند دن ہی کافی ہوتے ہیں، مثلاً آپ ایک اچھا مسافر خانہ بنا دیں، اس میں سہولتیں فراہم کر دیں، کھانا پینا دیں،چکا چوند مناظر دکھائیں تو لگے گا کہ آپ نے بے آسرا لوگوں کو ایک بہترین چھت فراہم کر دی ہے، آپ بہت فلاحی حکمران ہیں، غریب پرور اور بندہ نواز ہیں، ٹی وی چینل آپ کی تعریفوں کے پل باندھیں گے، ہر طرف یہ خبریں چلیں گی کہ آپ نے غریبوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا، آپ کی خدا ترسی کے قصے زبانِ زد عام ہو جائیں گے، حالانکہ سہولت تو صرف چند لوگوں کو دی گئی ہو گی،باقی لاکھوں، کروڑوں تو کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہوں گے۔

یہی حال پولیس کے ماڈل تھانے بنانے کا بھی ہے۔ یہ کوئی آج کی بات تو نہیں کہ اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر لیپا پوتی جیسے اقدامات کی طرف ڈال دیا گیا ہو۔ آج بھی آپ کو پنجاب کے مختلف حصوں میں ماڈل تھانے نظر آئیں گے جو شہباز شریف کے دس سالہ دور میں قائم کئے گئے۔ ان میں کمپیوٹر لگا کر، کیمرے فٹ کر کے، سمارٹ عملہ تعینات کرنے کے بعد بہت ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ پولیس کی اصلاح کا عمل تیز ہو گیا۔ ماڈل پولیس اسٹیشن بن گئے، اب پولیس کا اچھا ماڈل بھی آ جائے گا، مگر اس ساری لیپا پوتی پر پولیس کا کوئی ایک واقعہ سیلاب کی طرح پانی پھیرتا اور اندر سے بدبو دار گلے سڑے نظام کی تصویر سامنے لاتا رہا ہے۔ آپ پولیس کی ذہنیت بدلنے کی بجائے تھانہ بدلتے ہیں، پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرانے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، لیکن پولیس والوں کے ذاتی مظالم پر ان سے باز پرس نہیں کرتے، آپ انگریزوں کے دیئے ہوئے پولیس ایکٹ کو تبدیل نہیں کرتے، پولیس آرڈر میں تبدیلی نہیں لاتے، پولیس کو سزاؤں کا تابع نہیں بناتے،بے تحاشہ اختیارات کو کم نہیں کرتے، پولیس کے اندر سٹرکچرل تبدیلیاں نہیں لاتے، پولیس میں چار اقسام کے کیڈرز ختم نہیں کرتے، اس کے ڈسپلن کو فوج کی طرز پر موثر اور جواب دہ نہیں بناتے……بہت کرتے ہیں تو صرف ماڈل پولیس اسٹیشن بنا دیتے ہیں …… اور سنگ و خشت کی ایک خوبصورت عمارت بنا کر سمجھتے ہیں کہ اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اس میں جو پولیس والے بیٹھیں گے، وہ ان دیوار و در سے متاثر ہو کر اپنی سب عادات بھول جائیں گے، بس عوام کی طرف دیکھیں گے، عدل و انصاف کو اپنا شعار بنا لیں گے……یہ تووہی سادگی ہے جس پر مر جانے کو دل چاہتا ہے…… اگر یہ اتنا ہی آسان معاملہ ہو تو عوام خود پہلے سے ماڈل پولیس اسٹیشن بنا دیں اور پولیس کے مظالم سے جان چھڑا لیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے اس ماڈل پولیس اسٹیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بڑی رجائی باتیں کیں۔ بڑے اچھے جذبات اور امیدوں کا اظہار کیا۔ یہ بھی کہا کہ پولیس کو سیاسی مداخلت نے تباہ کیا۔ یہ بھی فرمایا کہ پولیس اچھی ہو جائے تو معاشرے میں امن و امان آ جائے۔ پولیس والوں کو یہ بھی باور کرایا کہ پولیس سے لوگوں کو خوف نہیں کھانا چاہئے،بلکہ انہیں احساس تحفظ بھی ہونا چاہئے۔ باتیں تو بہت اچھی ہیں، تالیاں بجنی چاہئیں، واہ واہ ہونی چاہئے، لیکن جناب یہ تو فرمایئے کہ پولیس کی اصلاح کے لئے ایک ایجنڈا بھی تھا، اس کا کیا بنا، کیا کوئی پولیس ریفارمز کمیٹی بنی، کیا کسی کو ٹاسک دیا گیا کہ وہ پولیس ایکٹ میں وقت کے مطابق ترمیم و اضافہ کرے؟ اگر اس ضمن میں ایک گہری خاموشی ہے تو پھر تقریب برائے تقریب سجانے کا مقصد کیا ہے؟ ایک ماڈل تھانے سے ہزاروں تھانوں کے حالات تو نہیں بدل سکتے۔ خلقِ خدا تو آج بھی انصاف کے لئے در بدر ہے، جس روز وزیراعظم میانوالی میں پولیس کی بہتری کے گن گا رہے تھے، اسی دن لاہور میں ریکارڈ وارداتیں ہوئیں، حتیٰ کہ خود وزیراعظم کے بھانجے کی رہائش گاہ بھی ڈاکوؤں سے محفوظ نہیں رہی تو صاحبو! ماڈل اور چمکتے دمکتے تھانے آپ ضرور بنائیں، لیکن وہاں موجود پولیس کلچر کو بھی تبدیل کریں۔ یہ تبدیلی صرف باتوں سے نہیں آئے گی،بلکہ اس کے لئے پولیس ایکٹ میں تبدیلی لانا ہو گی، کیونکہ 1861ء کا یہ پولیس ایکٹ انگریزوں نے غلاموں کے لئے بنایا تھا اور پولیس نے ابھی تک عوام کو غلام سمجھا ہوا ہے۔ جب تک اس غلامی کے طوق کو نہیں اتارا جاتا، ماڈل پولیس اسٹیشن وسائل کا ضیاع ثابت ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم