نپولین کے چند مقولے اور ان کی صداقت!

نپولین کے چند مقولے اور ان کی صداقت!
نپولین کے چند مقولے اور ان کی صداقت!

  



نپولین بونا پارٹ، سکندر اعظم کے بعد مغربی دنیا کا سب سے بڑا جنرل تھا۔ 1769ء میں پیدا ہوا اور 52برس کی عمر میں 1821ء میں انتقال کیا۔ اس کی سوانحِ حیات بہت دلچسپ اور سبق آموز ہیں لیکن میں یہاں نپولین کی ایک ایسی خوبی کا ذکر کرنا چاہوں گا جو دنیا کے بہت کم فوجی کمانڈروں میں پائی جاتی ہے۔

بیسویں صدی کی دونوں عالمی جنگوں نے بہت سے ایسے نامور جنرل پیدا کئے جو صاحبِ سیف بھی تھے اور صاحبِ قلم بھی۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی نپولین کی ذہانت و فطانت کا مقابلہ نہ کر سکا۔ اس کے قلم سے اگرچہ کوئی ایسی تصنیف نہ نکل سکی جو اس کو ایک عظیم لکھاری بھی ثابت کرتی لیکن اس کی ایسی تحریریں آج تک موجود اور محفوظ ہیں جن کو ضرب الامثال کا درجہ حاصل ہے۔ ان مقولوں کی صداقت ماضی میں بھی اظہر من الشمس تھی اور آج بھی ہے بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ مستقبل میں بھی ”گفتہ ء نپولین“ کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا…… ذیل میں اس کے چند مقولے قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں:

1۔ کمانڈ کی مکمل وحدت صرف اس صورت میں ممکن ہے جب سیاسی اور عسکری قیادت ایک ہی شخص کے ہاتھ میں ہو۔

فوج میں وحدتِ کمانڈ اس کے ڈسپلن کی بائبل شمار ہوتی ہے۔ دنیا بھر کی عسکری درسگاہوں میں یونٹی آف کمانڈ (Unity of Command) کے سوال پر دورائیں ہرگز نہیں۔نپولین ایک مطلق العنان حکمران تھا۔ لیکن اسی کے دور میں انقلابِ فرانس کے نتیجے میں دورِ جمہوریت کا آغاز ہوا اور یہ فلسفہء جمہور بعد میں ساری مغربی دنیا میں رائج ہوگیا۔ بادشاہوں کو ڈکٹیٹرز کا نام دیا گیا اور عوام کو طاقت کا سرچشمہ قرار دیا گیا۔ یہ بحث اب بہت پرانی ہو چکی اور متنازعہ بھی ہے کہ جمہوریت کے جو معانی اہلِ مغرب نے اخذ کئے اور جس طریقہ ء حکمرانی کا وہاں نفاذ ہوا وہ ایشیا میں زیادہ پذیرائی کیوں حاصل نہ کر سکا۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جمہوریت وہاں پنپتی ہے جہاں عوام اپنے حکمران کا انتخاب خود کریں۔ لیکن دنیا سے وراثتی حکمرانی کا دور ابھی ختم نہیں ہوا اور جمہور کی حکمرانی کا خواب بھی ایشیا میں وہ تعبیر نہیں پا سکا جو یورپ اور شمالی امریکہ (ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور کینیڈا) میں مروج ہے۔ آسٹریلیا چونکہ نسبتاًایک نو دریافت اور کم عمر براعظم ہے اس لئے وہاں بادشاہت کا تجربہ نہیں ہو سکا۔ افریقہ میں ملے جلے تجربات ہو چکے ہیں …… مصر، سوڈان، لیبیا، تیونس، الجیریا، مراکش وغیرہ بحیرۂ روم کے ساحلی ممالک ہیں لیکن ان میں بھی اگر کسی ملک میں جمہوریت ہے تو اس کا وہ معیار نہیں جو شمالی اوقیانوس کے ساحلی ممالک میں رائج ہے۔ اور وسطیٰ افریقہ میں تو آج بھی شخصی حکمرانی کی بدترین مثالیں دیکھنے میں آتی ہیں۔ جن ممالک میں جمہوریت کے ثمرات اور ان کی برکات واضح اور نمایاں ہو کر سامنے آ چکی ہیں ان میں بظاہر نپولین کے قول کی نفی کا گمان گزرتا ہے۔ اس نے یہی کہا تھا ناں کہ وحدتِ کمانڈ کا مفہوم صرف اسی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جب سیاسی اور عسکری قیادت ایک ہی شخص کے ہاتھ میں ہو۔ جدید جمہوریت میں یہی نظام با اندازِ دگر موجودہے۔ سویلین وزیراعظم یا چیف ایگزیکٹو اپنے ملک کی افواج کا کمانڈر انچیف بھی ہوتا ہے۔ یعنی جدید طرزِ جمہوریت میں دونوں قوتیں ایک ہی ذات میں جمع کر دی گئی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ نپولین کے دور میں یہ دونوں قوتیں سالارِ لشکر کے کنٹرول میں تھیں جبکہ آج سالارِ لشکر، عوام کے کنٹرول میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ عوامی کنٹرول (براستہ وزیراعظم) اپنا روپ بدل چکا ہے ہر چند کہ معانی وہی ہیں کہ فوجی اور سویلین اقتدار ایک ہی شخصیت کے ہاتھ میں ہو۔ آج پاکستان میں اگر آرمی چیف یا وزیراعظم یہ دعوے کرتا ہے کہ دونوں شعبے (فوج اور سویلین حکومت) ایک ہی صفحے پر ہیں تو اس سے مراد گفتہ ء نپولین سے مختلف نہیں لی جا سکتی……

نپولین کا ایک اور قول ہے:

2۔ فوج چھوٹی ہو یا بڑی ہمیشہ اپنے پیٹ کے بل پر حرکت (Move) کرتی ہے۔

اس مقولے میں نپولین نے عسکری قوت کو معاشی قوت کے تابع قرار دیا ہے۔ پیٹ کے بل چلنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی سپاہی کا پیٹ خالی ہے تو وہ نقل و حرکت کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس کو Moveکرنے یا کروانے کے لئے اس کا پیٹ بھرا ہونا چاہیے۔ بادشاہی دور میں ہر بادشاہ کو بہ امرِ مجبوری فوج کو ساتھ لے کر دوسرے ملک پر حملہ کرنا پڑتا تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو فوج اس کا ساتھ چھوڑ جاتی اور کسی اور کے پاس چلی جاتی۔ جدید طرزِ جمہوریت میں اسی لئے قائم افواج کی بنیاد پڑی۔ یہ قائم فوج (سٹینڈنگ آرمی) بڑی باقاعدگی سے ہر ماہ نہ صرف تنخواہ وصول کرتی ہے بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن بھی لیتی ہے، راشن مفت ہوتا ہے اور بیماری کی حالت میں سپاہی کا علاج معالجہ بھی مفت ہوتا ہے۔ نہ صرف سپاہی بلکہ اس کا فوری (Immediate) خاندان (بیوی بچے اور والدین) بھی مفت طبی سہولتوں سے مستفید ہوتے ہیں۔ سپاہی کی وردی اور رہائش بھی مفت ہوتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی نے اگر مفت ”روٹی، کپڑا اور مکان“ کا نعرہ لگایا تھا تو یہ کوئی نیا سلوگن نہیں تھا۔ بھٹو صاحب پوری قوم کو فوج کے روپ میں ڈھالنا چاہتے تھے۔ آج دنیا میں طرزِ حکمرانی، جمہوری ہو کہ شاہی، ان کی تمام افواج پیٹ کے بل پر Move کرتی ہیں۔ نپولین وہ پہلا حکمران تھا جس نے قائم فوج (Standing Army) کے نظریئے کو ایک ٹھوس بنیاد مہیا کی اور اس نے ”پیٹ“ کا مقولہ ایجاد کرکے ایک عالمگیر حقیقت کو ایک ریگولر ڈسپلن میں تبدیل کر دیا۔

3۔حکومت کو اپنے سالارِ لشکر پر پورا پورا اعتماد ہونا چاہیے اور اس کو مکمل آزادی ء عمل دینی چاہیے۔

پاکستانی حکومت نے کچھ روز پہلے اپنے سالارِ لشکر کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے جس تنازع کو سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے بعد نظرثانی کی درخواست لے کر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اس کی عجیب و غریب باریکیوں کو میڈیا پر موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے۔ ایک طرف حکومت ہے جس کو اپنے سالارِ لشکر پر پورا پورا اعتماد ہے۔ وہ اسے مکمل آزادیء عمل دینا چاہتی ہے اور اس کا استدلال ہے کہ اگر گزشتہ 72برسوں تک ایک روائت کی پیروی کی جا رہی ہے تو اس کو قانون نہ سہی، قانون کے مترادف سمجھ لینا چاہیے کہ یہ معاملہ عدلیہ کا موضوع نہیں، انتظامیہ کا ہے۔ عدلیہ نے اسے خواہ مخواہ اپنے ”سر“لے لیاہے۔ اگر گزشتہ 72برسوں تک کسی بار آور شاخ پر ایک ہی موسم / مدت کے بعد شگوفے کھلتے رہے ہیں تو اس ”رسم“ کو جاری رہنا چاہیے۔ اگر تین برس بعد کسی شجر پر بہار کا موسم آتا ہے تو لازمی نہیں کہ آمدِ بہار کا یہ سائیکل ہر تین برس تک قائم رہے۔ خشک سالی، قحط، سیلاب اور اسی طرح کی دوسری موسمی تبدیلیوں کے باعث اس سائیکل میں رد و بدل بھی ہو سکتا ہے۔شاخ تراشی، آبپاشی یا از سر نو شجر کاری باغبان کا کام ہے۔ باغبانی کے اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ باغبان کسی بزرگ مشیر یا کسی عالم فاضل ماہرِ نباتات کے مشورے کو مان کر شاخ تراشی کی کسی طے شدہ مدت پر عمل کرنے کا پابند ہو اور ایسا کرتے ہوئے پورے باغ کے سرسبز وجود کو ہی کیوں نہ خطرے میں ڈال دے۔ نپولین نے سالارِ لشکر پر اعتماد اور اس کو مکمل آزادی ء عمل دینے کی بات کی ہے تو اس کا یہ مقولہ پاکستان کی موجودہ سیاست کے لئے بھی قابلِ تقلید ہو سکتا ہے۔

4۔ میدان جنگ میں کمانڈ کی وحدت برقرار رکھنے کے لئے ایک برا جرنیل دو اچھے جرنیلوں سے بہتر ہوتا ہے۔

1965ء کی پاک بھارت جنگ میں 3ستمبر 1965ء کو جب جنرل یحییٰ کو 12ڈویژن کی کمانڈ دے دی گئی تھی اور عین میدانِ کارزار میں کمان کی اس تبدیلی نے جو اثر ڈالا تھا اس پر اس جنگ پر لکھی گئی درجن بھر سے زیادہ تواریخ میں بحث کی گئی ہے…… جنرل اختر عبدالرحمن ایک ”برا“ جرنیل ہو گا لیکن بقولِ نپولین وہ جنرل یحییٰ اور جنرل موسیٰ نام کے دو ”اچھے“ جرنیلوں سے بہتر تھا۔ جنگ کے دوران کمانڈ کی اسی وحدت کو نپولین نے اجاگر کیا ہے…… اور خوب کیا ہے۔ کمانڈ کی اس تبدیلی کے حق میں لکھنے والوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر 3ستمبر کو اکھنور پر قبضہ ہو جاتا(جو صرف 4میل دور رہ گیا تھا)تو انڈیا اسی روز بین الاقوامی سرحد عبورکرکے پاکستان پر حملہ کر دیتا…… لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اکھنور پر قبضہ نہ کرنے کے باوجود بھی تو انڈیا نے 5اور 6ستمبر کی درمیانی شب واہگہ پر حملہ کر دیا تھا…… اگر دو تین دن پہلے یہی یہ حملہ ہو جاتا تو اس سے کیا فرق پڑتا؟

5۔جب دشمن غلطی کر رہا ہو تو اس کو مت روکو اور اس کے عمل میں مداخلت (Interruption)مت کرو۔

نپولین کے اس مقولے کا اطلاق آج کے بھارتی وزیراعظم کی ان غلطیوں پر بھی ہوتا ہے جو وہ بار بار کررہا ہے۔ اس نے پہلے جموں اور کشمیر کا سٹیٹس تبدیل کیا، آئین کی دفعہ 370کی تنسیخ کی اور پھر پارلیمنٹ سے شہریت کی تبدیلی کا ایکٹ (CAA) منظور کروایا۔ اس شہریت کے مسئلے پر آج پورے انڈیا میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ لوگ (زیادہ تر مسلمان) مر رہے ہیں اور زخمی ہو رہے ہیں۔ لیکن مودی سرکار ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ بلکہ وہ اسرائیل کی مثالیں دے رہی ہے کہ وہاں اگر یہودی، مسلمان فلسطینیوں کے خلاف نت نئے حربے اختیار کر رہے ہیں تو انڈیا بھی ایسا کرنے میں حق بجانب ہے۔ سینکڑوں ہندو اور ہزاروں لاکھوں مسلمان مودی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ……

انڈیا ایک جوہری قوت ہے اور چونکہ امریکہ اور مغربی یورپ کی حمائت بھی اس کو حاصل ہے۔اس لئے پاکستان اس کو فوجی شکست نہیں دے سکتا۔ اس قسم کی ایمپائر اگر ٹوٹتی ہے تو وہ اپنے اندر سے ٹوٹتی ہے۔ اسے باہر سے کسی حملے (Explosion) کی ضرورت نہیں، اسے اپنے اندر کا حملہ (Implosion) ہی برباد کر دے گا۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ طاقتور اقوام اور ممالک جب اپنے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہوتے ہیں تو ان کو روکنا نہیں چاہیے۔ ان کے خلاف واویلا مچانے کی ضرورت نہیں۔ دراصل وہ خود اندر سے Implode ہو رہے ہوتے ہیں اور بقول نپولین ”جب دشمن غلطی کر رہا ہو تو اس کو ایسا کرنے سے نہیں روکنا چاہیے بلکہ اس کی مدد کرنی چاہیے“۔ پاکستان کو مودی کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے حضرت قائداعظم کے دو قومی نظریئے کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرا، کئی بھارتی مسلمان پاکستان کے ناقد تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستان میں بڑے آرام و اطمینان سے رہ رہے ہیں۔ ان کو ہر قسم کی آزادیاں میسر ہیں۔ لیکن آج تو مودی کا آرمی چیف بھی اس کی حمائت میں سیاسی بیان بازیاں کر رہا ہے اور بھارت کی جنتا اس ”حرکت“ پر جنرل بپن راوت کے لتّے لے چکی ہے۔ وہ اب چیف آف ڈیفنس سٹاف (CDS) پروموٹ کر دیئے گئے ہیں۔اگر مودی سارے ہندوستان کو ہندو ریاست بنانا چاہتا ہے اور اگر ایسا کرتے ہوئے کوئی غلطی کر رہا ہے تو اسے روکنا نہیں چاہیے۔ جس جمہوریت میں اقلیتیں محفوظ نہ ہوں، اسے ایک دن ٹوٹنا ہی ہے۔ ہم پاکستانیوں کو اس دن کا انتظار کرنا چاہیے جب مودی حکومت مسلمانوں کے علاوہ سکھوں، عیسائیوں اور ھ مت والوں کو بھی ہندو بنانے کے لئے ایک اور شہریت ایکٹ پاس کرنے کی طرح ڈالے گی۔

نپولین بونا پارٹ کا انجام سب کو معلوم ہے۔ جون 1815ء کو واٹر لو کے میدان میں اس کو شکست فاش ہوئی اور اسے سینٹ ہلینا کے جزیرے میں قید کر دیا گیا۔ اس نے یہیں مئی 1821ء میں قید تنہائی میں وفات پائی۔کسی نے سچ کہا ہے کہ عظیم لوگ عظیم غلطیاں کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ غلطیاں نہیں کر رہے ہوتے اور کامیابیاں ان کا ساتھ دے رہی ہوتی ہیں تو ان کی ان کامرانیوں اور فتوحات سے سبق اندوز ہونا چاہیے کہ:

شکست و فتح تو قسمت سے ہے ولے اے میر

مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا

مزید : رائے /کالم


loading...