راشن کارڈ؟

راشن کارڈ؟

  



وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ضرورت مندوں کو سہولت مہیا کرنے کے لئے راشن کارڈ سکیم نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا،اس سے تاثر ملا کہ ماضی کی طرح راشن ڈپوؤں کا نظام عمل میں لایا جائے گا تاکہ ہر گھرانے کو اس کے افرادِ خانہ کی تعداد کے مطابق اشیاء خوردنی مہیا کی جا سکیں، تاہم اب خبر رساں ادارے نے یہ اطلاع دی ہے کہ راشن کا یہ مسئلہ یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے نافذ کیا جائے گا اور پچاس لاکھ گھرانوں کو راشن کارڈ دیئے جائیں گے، جو یوٹیلٹی سٹورز سے آٹا، چینی، گھی اور دالیں رعایتی نرخوں پر حاصل کر سکیں گے۔اس سلسلے میں یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن نے دو لاکھ ٹن گندم بھی حاصل کر لی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ آٹے کی قلت نہ ہو۔وزیراعظم کا جذبہ صادق، اب یہ مرحلہ شروع ہو گا کہ ملک بھر کے22کروڑ عوام پر مشتمل گھرانوں میں سے ضرورت مند خاندان تلاش کئے جائیں،اب جو سکیم سامنے نظر آئی یہ بھی صحت کارڈ کی طرز پر ہے اور حکومتی اور تحریک انصاف کے راکین کے توسط ہی سے لوگ کارڈ حاصل کر سکیں گے۔پچاس لاکھ گھرانوں کو اگر پانچ سے ضرب دی جائے تو افراد کی تعداد دو کروڑ پچاس لاکھ بنتی ہے اور یوں 22کروڑ افراد سے زیادہ کی آبادی میں سے قریباً ڈھائی کروڑ افراد ہی مستفید ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ اتنے لوگ خط ِ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، حالانکہ اعداد و شمار کے مطابق خط ِ غربت والے آبادی کا30سے40فیصد حصہ ہیں۔بہرحال پچاس لاکھ گھرانوں /خاندانوں کو سہولت کا اعلان کیا گیا اہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اس ملک کے سفید پوش طبقے کا بھی کوئی پُرسانِ حال ہے۔یہ تنخواہ دار اور لگی بندھی آمدنی والے لوگ ہیں، جو مہنگائی کی وجہ سے نچلے طبقے میں شمار ہونے لگے ہیں،اب یوٹیلٹی سٹورز پر دہرا نظام ہو گا۔راشن کارڈ والے کم اور عام گاہک مقررہ قیمت ادا کر کے اشیاء خوردنی حاصل کر سکیں گے،اس حوالے سے یہ بھی عرض کیا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے مجموعی طور پر8ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔ ہمیں شبہ ہے کہ یہ دو طرح کا نظام اس 8ارب روپے سے سال بھر نبھا پائے گا؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ ایسی رعائتوں پر ہی انحصار نہ کیا جائے،بلکہ مجموعی طور پر مہنگائی کم کرنے کے لئے عملی اقدامات کے جائیں، تاکہ اشیاء خوردنی اور ضرورت ہی سستی ہوں اور سب مستفید ہوں،کارڈوں کی تقسیم اور اس رعائت سے تو نئے طبقات بنیں گے، مراعات یافتہ تو اپنی جگہ برقرار رہیں گے، لیکن محروم طبقات میں اور تقسیم ہو جائے گی، تقسیم در تقسیم بہتر نتائج نہیں دے گی۔

مزید : رائے /اداریہ