پولیس میں اصلاحات اب نظر بھی آنا چاہئیں

پولیس میں اصلاحات اب نظر بھی آنا چاہئیں

  



وزیراعظم عمران خان نے میانوالی میں ماڈل پولیس سٹیشن کا افتتاح کرتے ہوئے پنجاب پولیس کو ماڈل پولیس بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی وجہ سے پولیس پر سے عوام کا اعتماداٹھ گیا تھا، مگر اب یہ آہستہ آہستہ بحال ہو رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں سیاست دان سیاسی مقاصد کے لئے پولیس افسر تعینات کراتے تھے،پولیس و کچہری پر ان کاقبضہ رہتا تھا،لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہے۔پولیس کے محکمے میں ایسی اصلاحات ہو رہی ہیں،جو گزشتہ تیس برس میں نہیں ہوئیں۔ان کا ماننا تھا کہ تبدیلی کے لئے سب سے پہلے سوچ بدلنا ضروری ہوتی ہے اور وہ ملک بھر میں تبدیلی لا رہے ہیں اوران کی خواہش ہے کہ عوام کو پنجاب پولیس میں بھی تبدیلی نظر آئے۔

پاکستان میں پولیس کا محکمہ ایسا ہے، جس میں اصلاحات کا خواب ہر دور حکومت میں دیکھا جاتا رہا ہے اور اس کو پورا کرنے کے لئے اقدامات بھی ہوتے رہے ہیں،لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ جنرل پرویز مشرف کے دورسے پہلے پاکستان میں پولیس، پولیس ایکٹ 1861ء کے تحت کام کرتی تھی،پھر جنرل مشرف کے زمانے میں پولیس ایکٹ میں ترامیم کی گئیں اور پولیس آرڈیننس 2002ء نافذ کیا گیا، جس کا مقصد پولیس کو ”سدھارنا“ تھا، پولیس کے معاملات میں سیاسی مداخلت ختم کرنا تھا، پولیس کی تربیت کرنا تھا۔اس آرڈیننس کی منفرد بات یہ تھی کہ اس میں پولیس کے آپریشنل اور تفتیشی کاموں میں تقسیم کر دی گئی اور دو الگ الگ شاخیں بنا دی گئیں۔ آرڈیننس تو بنا،لیکن پولیس کو زیادہ ”افاقہ“ نہیں ہوا اور آہستہ آہستہ نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کے خواب کے ساتھ ساتھ پولیس اصلاحات کی خواہش بھی دھندلا گئی۔اس کے بعد بھی حکومتیں پولیس کو سیاست سے پاک کرنے کے خوش کن دعوے اور وعدے کرتی رہیں، لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے۔پولیس کے حالات بد سے بد تر ہی ہوتے گئے۔سابق چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کو بھی پولیس اصلاحات کا شوق چرایا تھا اور انہوں نے کمیٹی بنانے کا حکم بھی صادر کیا تھا، لیکن سب بے سود رہا۔

گزشتہ دور میں جب خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف بر سر اقتدار آئی نے اس نے پولیس ایکٹ میں حسب ِ منشاء و استطاعت تبدیلی کر کے پولیس ایکٹ2017ء نافذ کیا،جس کا بنیادی مقصدپولیس کے تبادلوں اور تقرریوں میں سیاسی مداخلت ختم کرنا، تمام تقرریاں میرٹ پرکرنا، پولیس کی تربیت کرنا، ماڈل پولیش سٹیشن کا قیام، آن لائن ایف آئی آر درج کرنے کی سہولت اور خواتین کے لئے الگ تھانوں کا اہتمام کرنا تھا۔انتخابات سے پہلے اور بعد،خیبر پختونخوا میں پولیس اصلاحات وزیر اعظم عمران خان کی ہر تقریر کا حصہ ہوتی تھیں اور وہ اب بھی پورے جوش و خروش سے اس کا چرچا کرتے ہیں۔گو کہ وہاں کے اس مثالی نظام پر بھی مختلف آراء موجود ہیں، بعض مبصرین تو اس معاملے میں تحریک انصاف کے گن گاتے نظر آتے ہیں، لیکن بعض حلقے اس کو اے این پی کے دورحکومت میں کی جانے والی کوششوں کے ثمرات مانتے ہیں اور چند لوگ ایسے بھی ہیں، جو سرے سے کچھ مانتے ہی نہیں ہیں۔

پولیس اصلاحات تحریک انصاف کے منشور اور انتخابی مہم کا بنیاد ی اور اہم نکتہ تھیں۔عمران خان خیبر پختونخوا کا نظام پولیس ہر جگہ متعارف کرانے کا اراداہ رکھتے ہیں اور برملا اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اس بات سے اتفاق کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ہر صوبے کے مزاج میں فرق ہے،اس کی ضروریات الگ ہیں اور اس کے رہنے والوں کے مسائل بھی جدا ہیں۔ سندھ اور بلوچستان کے حالات بھی سب کے سامنے ہیں اور وہاں پر سیاسی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ماڈل ٹاون کے بعد سے ”ٹھان“ لیا تھا کہ جب بھی وہ بر سر اقتدار آئے پنجاب پولیس کو ضرور ’صحیح ڈگر‘ پر ڈالیں گے۔سانحہ ساہیوال کے بعد بھی وہ اسی پر مصر تھے، حالانکہ تب تو وہ اقتدار میں تھے۔پنجاب میں اصلاحاتی کمیٹیاں بہت بنیں، ایک کمیٹی کا نگران سابق آئی جی کے پی کے ناصر خان درانی کو بھی بنایا گیا، ان کو یہ ذمہ داری خیبر پختونخوا میں ان کی بہترین کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے سونپی گئی تھی،لیکن چند ہی ہفتوں بعد پنجاب حکومت سے اختلافات کی بناء پر انہوں نے کمیٹی سے علیحدگی اختیار کر لی۔اس مقصد کے لئے کمیٹی تو اب بھی کام کررہی ہے دیکھیں اب اتفاق رائے سے کوئی مضبوط لائحہ عمل کب سامنے آتا ہے؟

المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی ایک مسئلہ نہیں بلکہ مسائل کا انبارہے،پولیس اہلکاروں کی باقاعدہ تربیت نہیں کی جاتی، اس وقت 70 فیصد پولیس اہلکار جدید تحقیقاتی تکنیکوں سے نا بلد ہیں، پاکستان میں ایک ہی فرانزک لیب ہے اوردیگر وسائل کی بھی کمی ہے۔اہل ِ سیاست پولیس کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں اورجب چاہے،جہاں چاہے استعمال کرتے ہیں۔کبھی پولیس لوگوں کو ڈرانے دھمکانے میں مصروف ہوتی ہے تو کبھی خود کسی کے زیر عتاب،کبھی اپنی حدود سے تجاوز کر کے بے قصور عوام کو نشانہ بناتی ہے تو کبھی خود کسی سیاست کا شکار ہو جاتی ہے۔یہاں تک کہ کبھی کسی سینئر پولیس افسرکاسیاسی شخصیت کو حسب ِ منشاء پروٹوکول نہ دینے پر تبادلہ کر دیا جاتا ہے تو کبھی کسی با اثر آدمی کو روکنے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور معافی نہ مانگنے کی صورت میں دیس نکالا کا حکم صادر ہو جاتا ہے۔دُنیا بھر میں کہیں بھی پولیس کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جاتا،جو ہمارے ہاں ہوتا ہے۔پولیس افسروں کے سر پر جب تک دوسروں کی ”ناراضی“ کی تلوار لٹکتی رہے گی ان کی کارکردگی متاثر ہی رہے گی۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ پولیس کوسیاسی مداخلت سے آزاد کیا جائے، لیکن ساتھ ہی ساتھ احتساب بھی یقینی بنایا جائے۔اگر ہم پولیس کو صحیح معنوں میں ایک مضبوط ادارے کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں تو اصلاحات کو صرف کاغذ کی حد تک محدود نہیں رہنا چاہئے۔ اقدامات کی باز گشت تو بہت سنائی دیتی ہے، لیکن عملی طور پر کوئی ”تبدیلی“ کسی بھی شکل میں نظر نہیں آتی اور اب وقت آ گیا ہے کہ حقیقی تبدیلی باتوں سے نکل کر حقیقت کا روپ دھار ہی لے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...