لیسکو ناردرن سرکل،2019میں بجلی چوروں کیخلاف 6063مقدمات،24کروڑ کی ریکوری

لیسکو ناردرن سرکل،2019میں بجلی چوروں کیخلاف 6063مقدمات،24کروڑ کی ریکوری

  



لاہور(لیاقت کھرل) بجلی چوری کی مکمل روک تھام کے لئے بجلی چوری ایکٹ میں ترمیم کر کے نئے سرے سے قانون سازی کی جائے گی۔ انتظامیہ اور پولیس کو بجلی چوری کی روک تھام میں مکمل کردارادا کرنے کے لئے پابند بنایا جائے گا۔ بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن کر کے اووربلنگ سے لائن لاسز کنٹرول کرنے کے لئے ریڈنگ کا نظام بہتر کردیا گیا ہے۔ بجلی چوروں کے خلاف گزشتہ سال میں بھرپورکریک ڈاؤن کے دوران 6063 مقدمات رجسٹرڈ کرواکر ڈیفالٹرز سے 22 کروڑ روپے ریکوری بھی کی ہے ان خیالات کااظہار ایس ای ناردرن سرکل عطرت حسین نے روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو میں کیا ہے۔ اس موقع پر عطرت حسین نے بتایا کہ بجلی چوری کی روک تھام کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ذمہ داروں کو سخت ترین سزائیں دلوائی جائیں، پہلے سے نافذ بجلی چوری ایکٹ کا صحیح معنوں میں استعمال نہیں کیا جا رہا جس میں انتظامیہ اور پولیس بجلی چوری کی روک تھام اور خاتمے میں مکمل کردارادا نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ چیف ایگزیکٹو مجاہد پرویز چٹھہ کی ہدایت پرکریک ڈاؤن کے باعث  بجلی چوری کی روک تھام میں 80 سے 90 فصد مدد ملی ہے، زیادہ تر کنڈیاں لگا کر بجلی چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں، جولائی 2019 سے اب تک ایک کروڑ 51 لاکھ یونٹ چارج کئے گئے ہیں اور اس میں جولائی 2019ء سے لے کردسمبر 2019ء تک 24 کروڑ روپے بجلی چوروں سے ریکور کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ  ڈیڈ ڈیفالٹرز کے خلاف کارروائی میں ایک سال کے دوران 22 کروڑ سے زائد وصول کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ماتحت 6 ڈویژن اور 31 سب ڈویژنز ہیں جہاں لاکھوں صارفین ہیں اس میں اندرونی احتساب پربھی پر سختی سے عملدرآمد سے کرپشن کی شکایات ختم ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس میں 11 ملازمین کو کرپشن کی شکایات پر نوکریوں سے برخاست کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ سال کے دوران 200 ملازمین کو اگلے گریڈ میں ترقیاں دی گئی ہیں اور پورے سرکل میں اوورلوڈڈ 100 سے زائد آبادیوں میں ترسیلی نظام اور 130 بجلی کے ٹرانسفارمرزکو اَپ گریڈ کیا گیا ہے جس سے بجلی کے ترسیلی نظام میں 100 گنا بہتری ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے سرکل میں سب سے زیادہ کوٹ عبدالمالک ڈویژن، دوسرے نمبر پر فیروز والہ اور تیسرے نمبر پر شاہدرہ ڈویژن میں بجلی چوری کی شکایات پائی گئی ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...