فلم بینوں کو جاندار کہانی‘ شاندار میوزک اور منفرد فلم پسند آتی ہے

  فلم بینوں کو جاندار کہانی‘ شاندار میوزک اور منفرد فلم پسند آتی ہے

  



لاہور(فلم رپورٹر)شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ پاکستانی فلموں کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملا تو نتائج سب کے سامنے ہیں، جس سے ثابت ہوگیا کہ فلم بینوں کو ایک ایسی فلم پسند آتی ہے جس کی کہانی جاندار، میوزک شاندار اور جدت کے انداز منفرد ہوں۔گزشتہ سال نمائش کے لئے پیش کی جانے والی والی فلموں نے شائقین کو گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا جس کی بڑی وجہ فلموں کی تشہیری مہم ہے جس کو بڑے بھرپور انداز سے سے چلایا گیایہ واقعی خوش آئند بات ہے، اس سے ایک بات ثابت ہو جاتی ہے کہ فلم بینوں کو صرف ایک اچھی اور معیاری تفریح سے غرض ہوتا ہے پھر وہ فلم چاہیے ہالی ووڈ کی ہو بالی ووڈ کی ہو یا لالی ووڈ کی۔شوبز شخصیات نے کہا کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ایک شخص جو اپنی فیملی کے ساتھ ٹکٹ خرید کر سینما گھر میں بیٹھتا ہے تو یہ بات ذہن میں رکھتا ہے کہ اس نے دو سے تین گھنٹے میں بہترین تفریح حاصل کرنی ہے اور اپنے اداس چہروں پر مسکراہٹ لے کر باہر نکلنا ہے، جب اسے وہ رزلٹ ملتا ہے تو وہ بار بار سینما گھروں کا رخ کرتا ہے ۔ عید الفطر کے موقع پر لگنے والی پاکستانی فلموں کو شائقین نے پسند کیا اور اب وہی لوگ بار بار سینما گھروں میں نظر آرہے ہیں جس کو کامیابی کے جانب پاکستانی فلم کا پہلا قدم قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ بالی ووڈ میں اپنی فلم کو کامیاب بنانے کے لئے جس طرح تشہیری مہم پر پیسہ خرچ کیا جاتا اور فنکار وقت نکالتے ہیں اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہوتا ہے کہ ہر کوئی فلم کی ریلیز کا شدت سے انتظار کرتا ہے اور جب وہ فلم مارکیٹ میں آتی ہے تو پھر سینما گھروں میں ٹکٹ لینا مشکل عمل بن جاتا ہے۔ ہمیں بھی اپنی ڈائریکشن کو درست سمت میں آگے بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ اسی میں پاکستانی فلم، سینما اور فنکاروں کا مستقبل محفوظ ہے۔شوبز شخصیات نیکہا ہے کہ صرف عید کے تہواروں پر فلمیں ریلیز کرنے سے فلم انڈسٹری کی ترقی اور اس کے عروج کا خواب پورا نہیں ہو سکتا، سارا سال بلا تعطل فلمیں بنانا ہوں گی جس سے انڈسٹری سے وابستہ موسیقی سمیت دیگر شعبے بھی ترقی کریں گے۔ یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ فلم انڈسٹری میں آنے والے بحران کی وجہ سے گلوکار بھی مشکلات سے دوچار ہوئے ہیں۔

اب انڈسٹری میں ہنر مندوں کی بھی شدید قلت ہے اور فلم انڈسٹری کے حالات کو دیکھتے ہوئے کوئی اس طرف آنے کیلئے تیار نہیں۔ شوبز شخصیات نے کہا کہ اگر فلم انڈسٹری کو دوبارہ عروج پر لے جانا ہے تو ہمیں سال میں بلا تعطل فلمیں بنانا ہوں گی اور کم از کم0 2سے 25فلمیں ریلیز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے پنجابی فلموں کی نمائش کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یقینی طور پر پنجابی فلمیں بنانے کارجحان فروغ پائے گا۔

  شاہد حمید،معمر رانا،مسعود بٹ،حسن عسکری،شانسید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،انیس حیدر،ہانی بلوچ،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن،ظفر اقبال نیویارکر،عذرا آفتاب،حنا ملک،انعام خان،فانی جان،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ء کاظمی،،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ رحمان،ظفر عباس کھچی،سٹار میکر جرار رضوی،ملک طارق،مجید ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ء اللہ خان،مایا سونو خان،عباس باجوہ،مختار چن،آشا چوہدری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،چنگیز اعوان،حسن مراد،حاجی عبد الرزاق،حسن ملک،عتیق الرحمن،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خرم شیراز ریاض،خالد معین بٹ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک،کوریوگرافر راجو سمراٹ،سائرہ نسیم،صومیہ خان،حمیرا چنا،اچھی خان،شبنم چوہدری،محمد سلیم بزمی،سفیان،انوسنٹ اشفاق،استاد رفیق حسین،فیاض علی خاں،پروڈیوسر شوکت چنگیزی،ظفر عباس کھچی،ڈی او پی راشد عباس،پرویز کلیم،نیلم

منیر خان اور نجیبہ بی جی نے کہا کہ

مزید : کلچر