جنرل قاسم کی میت تہران پہنچ گئی،آج کرمان میں تدفین ہو گی،واشنگٹن سے سکیورٹی معاہدہ ختم،امریکی فوجوں کو نکالا جائے:عراقی پارلیمنٹ

جنرل قاسم کی میت تہران پہنچ گئی،آج کرمان میں تدفین ہو گی،واشنگٹن سے سکیورٹی ...

  



واشنگٹن،ریاض، بغداد،تہران(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)امریکی حملے میں شہید ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی میت مغربی ایران کے شہر اہواز پہنچادی گئی۔ جہاں انکی پورے سرکاری اعزازات  تدفین کی تیاریاں شروع ہو گئیں ان کی تد فین آج ان کے آبائی شہر کرمان میں کی جائے گی  سرکاری ٹیلیویژن نے ملاوی سکوائر میں جمع  لاکھوں افراد کیہجوم کو دکھایا گیا جنہوں نے سبز، سفید اور سرخ رنگ کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور جو شہداء کے خون کی عکاسی کررہے تھے۔ انہوں نے جنرل کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جنہیں 1980-88 کی ایران عراق جنگ اور پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ کی حیثیت سے مشرق وسطیٰ میں ایران کے آپریشنز کی سربراہی کرنے کی وجہ سے ایک ہیرو مانا جاتا ہے۔ مرد و خواتین رو رہے تھے  اور امریکہ کیخلاف نعرے لگا رہے تھیدوسری طرف سعودی فرمانرواشاہ سلمان نے عراقی صدر ڈاکٹر  صالح سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا ہے۔سعودی فرمانرواشاہ سلمان نے ٹیلی فونک رابطے میں عراقی صدر سے خطے میں جاری بحران کو ختم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ سعودی شاہ سلمان نے کہا کہ خطے میں تناؤ کو کم کرنے کے لئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں۔عراقی صدر نے شاہ سلمان کی طرف سے تعاون کی یقین دہانی اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو سراہا، دونوں رہنماوں نے خطے میں صورتحال معمول پر لانے کیلئے امن کی کوششوں پر زور دیا۔۔دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکی فوجیوں یا اثاثوں پر حملے کیا تو اسکی کی 52 تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔گزشتہ روز ایران کی پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل غلام علی ابو حمزہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جہاں بھی موقع ملا تو امریکیوں کو جنرل سلیمانی کے قتل کا جواب دیں گے۔جنرل غلام علی ابو حمزہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہاز اور اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب سمیت 35 تنصیبات ایران کے ہدف پر یں۔ایرانی کمانڈر کے اس بیان کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ایرانی کمانڈر کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر بڑے، تیز ترین اور تباہ کن حملوں کی دھمکی دے دی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے امریکی اہلکاروں یا اثاثوں پر حملہ کیا تو اس کی 52 تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اہداف کو انتہائی پْھرتی اور شدت سے نشانہ بنائیں گے، ان میں سے بعض مقامات ایران کے لیے نہایت اہم اور حساس ترین ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ 1979 میں تہران میں 52 امریکیوں کو امریکی سفارتخانے میں یرغمال بنایا گیا تھا، امریکا مزید خطرہ نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے بہترین فوج ہے، اور انھوں نے ایران کی جانب سے کسی امریکی اڈے یا کسی امریکی پر حملے کی صورت میں ایران کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے ہم پر حملہ کیا اور ہم نے ان پر جوابی حملہ کیا۔ اگر انھوں نے ہم پر دوبارہ حملہ کیا، جس سے گریز کرنے کا میں انھیں مشورہ دیتا ہوں، تو ہم ان پر اتنا سخت حملہ کریں گے جو ان پر پہلے نہ ہوا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اگر ایران نے کسی بھی امریکی شہری یا تنصیب کو نشانہ بنایا تو امریکہ بہت تیزی اور شدت سے ایسی 52 اعلی سطحی تنصیبات اور مقامات پر حملہ کرے گا جو ایران اور اس کی ثقافت کے لیے نہایت اہم ہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ 52 اہداف پہلے ہی نشانے پر لیے جا چکے ہیں اور یہ ہندسہ (52 مقامات) ان 52 امریکی شہریوں کی مناسبت سے چنا گیا ہے جنھیں کئی برس قبل ایران نے یرغمال بنایا تھا۔جبکہایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ امریکا نے خطے میں اپنی موجودگی کے اختتام کا آغاز کر دیا ہے۔د ایرانی وزیر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل سلیمانی پر حملہ کر کے امریکا نے عالمی دہشتگردی کی ہے، امریکا نے انتہائی خطرناک اور بے وقوفانہ اقدام اٹھایا ہے جس کی قیمت انہیں چکانی پڑے گیایران کے وزیر دفاع نے ساری دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی دہشت گردی کے مقابلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔بریگیڈیئر جنرل امیر حاتمی کا کہنا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی کو دہشت گردانہ حملے میں شہید کرنے کے امریکی اقدام کے سامنے پوری دنیا ذمہ دار ہے اور اسے امریکہ کے اس مجرمانہ اقدام کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اعلی فوجی عہدیدار کو ہمسایہ ملک کے سرکاری دورے کے موقع پر اس کے میزبانوں کے ساتھ قتل کرنے کا حکم دینا عالمی قوانین کے منافی ہے اور تاریخ میں ایسے گھناونے جرم کا اس سے پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کیا گیا۔جبکہ ایرانی فوج کے کمانڈر جنرل موسوی نے ایران کے باون مقامات اور تنصیبات پر حملے ٹرمپ کی دھمکی کو گیدڑ بھپکی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر اپنے دہشت گردانہ اقدامات سے لوگوں کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔اتوار کوایران کی فوج کے سربراہ جنرل سید عبدالرحیم موسوی نے تہران میں ایک پروگرام میں خطاب کے دوران کہا کہ ایرانی عوام کو ٹویٹر کے ذریعے دھمکی دینے کا ٹرمپ کا اقدام صرف اس لئے ہے کہ وہ جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کرنے کے اپنے دہشت گردانہ اقدام کے بعد اپنی ساکھ کو بچاسکے۔ ایران کی فوج کے سربراہ نے کہا کہ جنرل سلیمانی کو شہید کرنے کا امریکیوں کا اقدام انتہائی گھنانا اور دہشت گردانہ ہے جس کی پوری دنیا میں مذمت کی جا رہی ہے اسی لئے امریکی حکام اب اور بھی بے تکی باتیں کر رہے ہیں تاکہ اپنے غیر انسانی اقدام پر پردہ ڈال سکیں،  جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری غیر معمولی کشیدگی  کے پیش نظر  ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا،جس میں علاقائی اتحاد بنانے کی تجویز پر غور کیا گیا،ترک صدرنے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے رابطہ کیا ہے،جس میں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونیوالی کشیدگی  اور خطے کے امن سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی صدر نے ترک ہم منصب سے بات چیت کے دوران کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ہم اگر امریکی اقدام کیخلاف اکٹھے نہ ہوئے تو بڑا خطرہ پورے خطے کے امن کو تباہ کر دے گا،جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت بہت بڑی غلطی ہے، اگر امریکی اقدام کیخلاف خاموش رہے تو دشمن زیادہ جارحانہ رویہ اپنا لے گا، ہماری قوم اس وقت افسردہ ہے،حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ایران اور ترکی نے ایک دوسرے کو پیچیدہ مسائل پر سپورٹ کیا ہے، قرآن پاک بھی ہمیں سکھاتا ہے کہ نہ ہم کسی پر ظلم کریں گے اور نہ ہی اپنے پر ظلم ہونے دیں گے۔ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد بہت افسردہ ہوں، قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد آیت اللہ خامنہ ای اور ایرانی قوم سے تعزیت کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ جلد ایران کا دورہ کروں گا جہاں پر ترکی اور تہران کے درمیان خطے کی صورتحال سمیت دیگر ایشو پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔یورپی یونین نے ایرانی جنرل کی ہلاکت کے بعد خلیج میں 'کشیدگی کو ختم' کرنے کے لیے ایران کے وزیر خارجہ کو برسلز میں مدعو کرلیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو ٹیلی فون پر برسلز آنے کی پیش کش کی۔بیان میں گیا کہ جوزپ بوریل نے ایرانی وزیر خارجہ کو برسلز آنے کی دعوت دی تاکہ وہ مذکورہ کشیدگی کو کم کرنے سے متعلق بات چیت کرسکیں۔

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) عراقی ممبران پارلیمنٹ نے واشنگٹن کیساتھ سکیورٹی معاہدہ ختم اور عراق سے امریکی فوجیوں کو باہر نکالنے سے متعلق قرارداد منظور کرلی جس میں مطالبہ کیاگیا ہے کہ عراقی حکومت پابند ہے کہ وہ نام نہاد داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد سے مدد کی درخواست نہ کرے، اور دوہزار سولہ میں انجام پانے والا بغداد واشنگٹن معاہدہ منسوخ کرنے اور اس ملک میں بیرونی فوجیوں کی موجودگی ختم کرنے کے لئے ضروری اقدام کرے۔دوسری طرف ایران نے 2014میں طے پانے جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے حکومت کی طرف سے یہ اعلان سراری ریڈیو پر کیا گیا۔ قرار داد میں مزید کہاگیا کہ پہلے مرحلے میں امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی معاہدہ ختم کیاجائے، حکومت امریکی افواج کا ملک سے مرحلہ وار انخلا یقینی بنائے،جس کے بعد قرار داد منظور کرلی گئی۔ بغداد سے موصولہ رپورٹ کے مطابق عراقی پارلیمنٹ کے ایک سو ستر ممبران نے اتوار کو ایک ہنگامی اجلاس میں اس قانون کے مسودے پر دستخط کئے تھے اور اس کے بعد منظوری کے لئے اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔پارلیمینٹ میں خطاب کرتے ہوئے عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے کہاہے کہ عراق قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو قبول نہیں کرسکتا،، امریکا سے تعلقات عراق کی خودمختاری سے ہی مشروط ہیں،، غیر ملکی فوجوں کا انخلا عراق اور امریکا کے مفاد میں ہوگا،سلیمانی کاقتل کسی طرح عراق کے مفادمیں کہہ کر پیش نہیں کیاجاسکتا،جنرل سلیمانی کواس وقت قتل کیاگیا جب وہ مجھ سے ملنے آئے تھے، عراق قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو قبول نہیں کرسکتا،امریکہ کو اپنی زمین عسکری کارروائیوں کیلئے استعمال نہیں کرنے دے اور نہ ہی ہم اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے ہیں،اب عراق میں موجود غیرملکی فوجیوں کے اقدامات عراقی انتظامیہ کی نگرانی میں ہوں گے،عراق کے پاس اب 2 آپشن ہیں،پہلا آپشن عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی ختم کرنا ہے اور دوسرا آپشن عراق اور امریکہ کے درمیان سیکیورٹی معاہدے میں ردوبدل ہے۔دوسری طرفمریکی فوج کے فضائی حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی الحشد ملیشیا کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کی شہادت کے بعد بغداد حکومت نے ملک میں موجود امریکی فوج کو ہرطرح کے آپریشن سے روک دیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق عراقی مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل عبدالکریم خلف نے اعلان کیا کہ عراق نے امریکی بمباری کے بعد ملک میں امریکی افواج کے کام پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کو کام سے روکنے کا فیصلہ ایران کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور الحشد الشعبی ملیشیا کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کو جمعہ کے روز بغداد میں ہلاک کیے جانے کے بعد کیا۔جنرل خلف نے کہا کہ عراق کی مسلح افواج نے ملک میں امریکی افواج کے کام پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس بارے میں امریکیوں کو آگاہ کردیا ہے۔انہوں نے بغداد میں امریکی فوج کے جمعہ کے روز کیے گئے حملے کوعراق کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق ایک خود مختار ملک ہے اورکسی غیرملکی فوج کو عراق کی رضا مندی کے بغیر کوئی آپریشن نہیں کرنا چاہیے۔عراقی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ قاسم سلیمانی کو شام سے عراق لانے والے طیارے کے پائلٹ اور ہوائی جہاز کے عملے کو تحقیقات کے لیے حراست میں لیا گیا ہے دوسری طرف عراق میں امریکی فضائی حملوں کو ملک کی خود مختاری کی ننگی خلاف ورزی اور امریکا کی قیادت میں اتحاد کے ساتھ طے شدہ عراق کی وزارت خارجہ نے بغداد میں متعین امریکی سفیر کو طلب کیا ہے اور ان سے عراق کی خود مختاری کی خلاف ورزی پر سخت احتجاج کیا ہے۔وزارت خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں عراق میں امریکا کے فضائی حملوں کو ملک کی خود مختاری کی ننگی خلاف ورزی اور امریکا کی قیادت میں اتحاد کے ساتھ طے شدہ سمجھوتے کے منافی قراردیا ہے۔اس نے کہا ہے کہ عراق کی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔گذشتہ جمعہ کو علی الصباح بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکا کے ایک ڈرون حملے میں ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی اور شیعہ ملیشیاں پر مشتمل الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس سمیت متعدد جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔یمن کی پارلیمنٹ نے شہید جنرل قاسم سلیمانی اور شہید ابومہدی المہندس کو قتل کرنے کے امریکہ کے جنرل سلیمانی کو ہلاک کرنے کے اقدام کی مذمت کردی۔المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمن کی پارلیمنٹ نے ایک بیان جاری کر کے اس مجرمانہ اقدام کو اقوام متحدہ کے رکن اور اقتداراعلی کے حامل ایک ملک کے خلاف ریاستی دہشتگردی قرار دیا۔درایں اثنا یمن کے وزیر خارجہ ہشام شرف عبداللہ نے ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کے نام ایک پیغام میں جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کرنے کے امریکہ کے مجرمانہ اقدام کی مذمت کی اور کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ایک ملک کے داخلی امور میں کھلی مداخلت ہے۔سعودی عرب کے ایک اعلی عہدہ دار نے کہا ہے کہ مملکت سے امریکا نے بغداد میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر فضائی حملے کے وقت کوئی مشاورت نہیں کی تھی۔اس عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں تیزی سے رونماہونے والی پیش رفت کے پیش نظر مملکت کشیدگی کو بڑھاوا دینے والے تمام اقدامات کی روک تھام کے لیے ضبط وتحمل پر زوردیتی ہے کیونکہ اس کشیدگی کے سنگین مضمرات ہوسکتے ہیں۔ اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے امریکا نے جنرل قاسم سلیمانی پر حملے سے پہلے اپنے سب سے اہم حلیف برطانیہ کو بھی کو اعتماد میں نہیں لیا،حملے کا صرف اسرائیل کو پتا تھا، حملے کی خبر میڈیا پر آنے پر برطانوی وزیر اعظم نے ناگواری کا اظہار کیا ۔روسی وزیرخارجہ نے چینی ہم منصب وانگ ژی سے ٹیلیفو نک رابطہ کیا اور مشرقی وسطی کے کشیدہ حالات اور امریکا ایران کشیدگی پرتفصیلی تبادلہ خیال کیا،روسی وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکی اقدام کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔روسی میڈیا کے مطابق اتوار کو روسی وزیرخارجہ نے چینی ہم منصب وانگ ژی سیٹیلیفو نک رابطہ کیا، دونوں رہنماوں کے درمیان مشرقی وسطی کے کشیدہ حالات اور امریکا ایران کشیدگی پرتفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔ امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹ کے ارکان نے ایران کے ساتھ جنگ اور امریکی جارحیت کو مسترد کر دیا۔ کانگریس میں خارجہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ امریکی عوام ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے،وائٹ ہاؤس کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ ملک کو جنگ میں جھونکنے سے باز رہیں،دوسری طرف برنی سینڈر اور روہت کھنہ نے ایرانی جنگ کے لئے فنڈ زکی منظوری کانگریس سے لینے کا بل ایوان میں پیش کر دیا۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی فوج کو جرم کرنے کا حکم دیا، جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے لئے جھوٹے جواز کھڑے کئے گئے،قاسم سلیمانی کے قتل سے خطے میں نئے دور کا آغاز ہو گا۔

عراقی پارلیمینٹ

مزید : صفحہ اول