یوم حق خود ارادیت،آزاد مقبوضہ کشمیر،پاکستان سمیت دنیا بھر میں مظاہرے

یوم حق خود ارادیت،آزاد مقبوضہ کشمیر،پاکستان سمیت دنیا بھر میں مظاہرے

  



سرینگر،اسلام آباد، کوٹلی،جموں (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے اتوار کو یو م حق خود ارادیت اس تجدید عہد کے ساتھ منا یا کہ بھارتی تسلط سے مکمل آزادی تک جدوجہد کو ہرصورت میں جاری رکھا جائے گا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق یہ دن منانے کا مقصد عالمی برادری کو اس بات کی یاد دہانی کرانا ہے کہ سات دہائیوں سے زائدکا عرصہ گزرجانے کے باوجود جموں وکشمیر کے بارے میں اقوا م متحدہ کی قرارداد وں پر عملدرآمد نہیں ہواہے۔دوسری طرف کل جماعتی حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ نے یوم حق خودارادیت کے سلسلے میں آج اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حریت رہنماؤں نے اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے 5جنوری 1949ء کو کشمیر کے حوالے سے منظور کی گئی قرارداد کی اہمیت کو اجاگرکیا اور کہا کہ یہ قرارداد کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو بنیاد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس قرارداد میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور اس قرارداد سے بھارت کے انحراف سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ حریت رہنماؤں نے کہاکہ کشمیریوں نے حق خودارادیت کے حصول کیلئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں اور آج بھی دے رہے ہیں۔آزاد کشمیر بھر کی طرح ضلع کوٹلی میں یوم حق خودارادیت کے حوالہ سے ریلی نکالی گئی۔ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنرڈاکٹرعمراعظم نے کی جبکہ ریلی میں انتظامیہ،وکلاء،تاجر،سرکاری ملازمین،مختلف سیاسی،سماجی تنظیموں کے عہدیداران،سول سوسائٹی کے علاوہ میڈیانمائندگان نے بھی شرکت کی۔یوم حق خودارادیت کے حوالہ سے ضلعی ہیڈ کوارٹرز، تحصیل ہیڈ کوارٹرز، قصبوں میں بھی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔مقبوضہ کشمیر میں میرواعظ عمرفاروق کی سرپرستی میں قائم حریت فورم نے علاقے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 5اگست 2019ء سے باالخصوص اور گزشتہ تین دہائیوں سے بالعموم طاقت کے بل پر کشمیری عوام کے بنیادی انسانی، سیاسی اور مذہبی حقوق سلب کرلیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے ضلع کشتواڑ کے ڈچن پولیس اسٹیشن میں 10 نوجوانوں کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے اور ان کے گھروں پر چھاپوں کے دوران ان میں سے دو کو گرفتار کیا گیاہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پولیس نے نوجوانوں کے خلاف مجاہد کمانڈر محمد امین عرف جہانگیر سروری کے بالائے زمین کارکن ہونے کے الزام میں مقدمہ درج کیا جو پولیس کے مطابق ضلع کشتواڑ میں گزشتہ تین دہائیوں سے سرگرم ہے۔ گرفتارکئے گئے نوجوانوں کی شناخت بشیر احمد مینگنو اور ولی محمد شیخ کے طورپر ہوئی ہے جو ضلع کشتواڑ کے ہی رہائشی ہیں۔ جن دیگر آٹھ نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا ہے ان میں محمد حسین، صدام حسین وانی، غلام نبی چوپان، محمد رمضان شیخ، یاسر حسین ڈار، خضر محمد شیخ، بشیر احمد شیخ اور ظہور احمد بٹ شامل ہیں۔ نوجوانوں کی گرفتاری کے لئے پولیس ضلع میں چھاپے مار رہی ہے۔ بھارتی پولیس نے گزشتہ سال 23 اکتوبر کوسروری اور اس کے دو ساتھیوں ریاض احمد عرف ہزاری اور مدثر حسین پر 30 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا تھا۔ انعام کا اعلان ضلع کے مختلف مقامات پر چسپاں پوسٹروں کے ذریعے کیا گیا تھا۔ 

یوم حق خودارادیت 

مزید : صفحہ اول