قاسم سلیمانی کی شہادت،مشرق وسطیٰ کی صورتحال خطرناک تصادم پر متنج ہوگی

قاسم سلیمانی کی شہادت،مشرق وسطیٰ کی صورتحال خطرناک تصادم پر متنج ہوگی

  



واشنگٹن(اظہر زمان،خصوصی رپورٹ) ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں جو نئی شدت پیدا ہوئی ہے وہ لگتا ہے بہت جلد خطرناک صورت اختیار کر کے مشرق وسطیٰ کے خطے کے ان دونوں بڑے اداکاروں کے درمیان ایک بڑے براہ راست یا بالواسطہ تصادم پر متنج ہو گا۔ ایران کی طرف سے بدلہ لینے کی دھمکیوں اور عراقی پارلیمنٹ کے امریکی افواج کو ملک سے نکالنے کے فیصلے کے بعد امریکہ نے بھی انتہائی اقدامات کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ کی طرف سے اس امر کے واضح اشارے مل رہے ہیں اور واشنگٹن میں خارجہ امور کے ماہرین اور تبصرہ نگار بھی یقین رکھتے ہیں کہ اگر دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ جنگ نہ بھی چھڑی تو کم از کم ان کے درمیان چھوٹے بڑے تصادموں کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ مڈل ایسٹ فورم کی سینئر فیلو سنتھیا ہگنز کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے ٹرمپ انتظامیہ نے ایک تاریخی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی کو نشانہ بنانے کا واضح مطلب یہ ہے کہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے بارے میں سیاست میں بھرپور تبدیلی آ چکی ہے۔ ان کی رائے میں جنرل سلیمانی مشرق وسطیٰ کا سب سے خطرناک آدمی تھا جو صرف شیعہ کے ساتھ نہیں بلکہ سنی ملیشیا کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا۔ مس سنتھیا کے خیال میں ایران کی طرف سے براہ راست حملوں کے علاوہ دہشت گردی کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ امریکن فارن پالیسی ایسوسی ایشن کے سینئر فیلو لارنس ہیس کہتے ہیں کہ دیکھنا ہو گا کہ کیا ایرانی حکومت امریکی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے ساتھ اہم امریکی کمانڈروں کو نشانہ بناتے ہیں یا نہیں؟ امریکہ اس کے مطابق جواب دے گا۔ سابق امریکی صدر ریگن کے خارجہ مشیر رچرڈ ایلن کہتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے جنرل سلیمانی کو ہلاک کرنے کی کارروائی ڈرامائی ضرور ہے لیکن اس کا مقصد اپنے مخالفوں کو بہت گہرا اور شدید پیغام دینا ہے۔ ایران سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ بدلے کیلئے اپنی مرضی کا ٹارگٹ، مقام اور وقت چنے گا۔ امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے اپنے انٹرویو میں سابق صدر اوباما کی ایران کے بارے میں پالیسی پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے بتایا کہ وہ خود ایران کی بجائے ان کی پراکسی قوتوں پر توجہ دے رہے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب ہم نے ایران کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ پراکسی قوتوں کو استعمال کر کے اپنی سرزمین کو نہیں بچا سکتا کیونکہ اب اگر ایران نے جارحیت کی تو ہم ان قوتوں کی بجائے ایران کے اصل فیصلہ سازوں کو نشانہ بنائیں گے۔

سلیمانی کی شہادت 

مزید : صفحہ اول