پاکستان صرف امن کا ساتھ دے گا،خطے میں امن خراب کرنیوالے کسی بھی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے:ترجمان پاک فوج،شاہ محمود کا ایران،ترک اماراتی اور سعودی وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ

پاکستان صرف امن کا ساتھ دے گا،خطے میں امن خراب کرنیوالے کسی بھی عمل کا حصہ ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفورنے کہا ہے کہ خطے میں امن خراب کرنے والے کسی بھی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اور پاکستان صرف امن کا ساتھ دے گا، نجی ٹی چینل کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں  ڈی جی آئی ایس پی آرنے  کہ ایرانی جنرل کی شہادت کے بعد امریکہ ایران کشیدگی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی جنرل پر حملے کے بعد خطے کے حالات میں تبدیلی آئی ہے۔ اس معاملے پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات چیت کی۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ آرمی چیف نے مائیک پومپیو سے کہا کہ خطہ خراب حالات سے بہتری کی جانب جا رہا ہے، ہم کسی ایسے عمل کا حصہ نہیں بنیں گے جس سے خطے کا امن خراب ہو۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی چل رہی ہے، خطے میں مختلف ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہونی چاہئے اور مذاکرات سے آگے بڑھنا چاہیے، پاکستان اس سلسلے میں تمام پْرامن کوششوں کی تائید کریگا۔انہوں نے بتایا کہ آرمی چیف کا کہنا تھا پاکستان نے بہت قربانیوں کے بعد امن حاصل کیا ہے، ہم نے افغان سرحد کو محفوظ بنایا اور اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کا صفایا کیا۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان نے ہر وہ کام کیا جس سے خطے میں امن قائم ہو، افغان مصالحتی عمل کو خراب کرنے کی کوشش سے اجتناب کرنا چاہیے۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا خطہ 4 دہائیوں سے امن کے لیے کوششیں کرتا رہا ہے، وزیراعظم اور آرمی چیف کا واضح مؤقف ہے کہ خطے کے امن کو خراب کرنے والے کسی بھی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔بھارتی آرمی چیف کی پاکستان کو دھمکیوں پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف نئے ہیں اور اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ آرمی چیف کے عہدے پر نئے ہیں لیکن بھارتی فوج میں پرانے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستانی فوج اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا بخوبی جانتی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کو چاہیے کہ دھمکیاں دینے کے بجائے مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اور بھارت میں ہندوتوا کے پرچار کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ورنہ جس راستے پر بھارت چل رہا ہے وہ خود انہیں تباہی کی طرف لے جائے گا۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارتی اشتعال انگیزیوں کے باوجود ہم نے ذمہ دار ریاست اور قابل افواج ہونے کا ثبوت دیا۔سوشل میڈیا پر چلنے والے پاکستان مخالف بیانات پر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ دفتر خارجہ بھی اس حوالے سے واضح مؤقف دے چکا ہے، ملک دشمن افواہوں پر ہرگز توجہ نہ دیں، میڈیا اور عوام سے درخواست ہے کہ مصدقہ ذرائع کی بات پر یقین کریں۔

ترجمان پاک فوج

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد امریکا اور ایران میں کشیدگی بڑھنے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سفارتی محاذ پر سرگرم ہوگئے، سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات اور ترک وزراء خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے کشیدگی کو سفارتی سطح پر کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے پر زوردیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اتوار کو اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں دونوں وزراء خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں امن وامان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہ محمود قریشی نے ایرانی ہم منصب سے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر پہلے ہی اپنا واضح موقف دے چکا ہے کہ موجودہ صورتحال خطے کیلئے سنگین خطرہ ہے اور پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ علاقائی خود مختاری کا احترام کیا جائے جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں علاقائی خود مختاری کو بنیادی جزو قرار دیا گیا ہے۔وزیرخارجہ نے کہاکہ پاکستان چاہتا ہے کہ خطے میں  طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے اور فریقین کو موجودہ صورتحال میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے وزیرخارجہ فیصل بن فرحان السعود، ترک وزیرخارجہ   میولوت کیواسوگلو اور یو اے ای کے ہم منصب شیخ عبداللہ کو بھی ٹیلیفون کیا اور خطے کی مجموعی صورتحال اور امریکا ایران کشیدگی پر بات چیت کی۔وزیرخارجہ نے اپنے تمام ہم منصبوں کو خطے کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا اور امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدہ صورتحال کے خاتمے کے لئے اپنے اپنے ممالک کی جانب سے اہم کردارادا کرنے پر زور دیا۔ شاہ محمود قریشی نے ایرانی، سعودی اور ترک ہم منصبوں سے گزشتہ روز ٹیلی فونک رابطہ کیاجس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔دریں اثناوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ سات دہائیاں گزرنے کے باوجوو ہر روز کشمیریوں کی بنیادی انسانی عزت ووقارپامال ہورہا ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کشمیریوں کیساتھ ان کے استصواب رائے کا حق دلانے کا وعدہ پورا کرے،بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے پاکستان اور بھارت کو بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر جانے کی اجازت دے، پاکستان سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت بھرپور انداز سے جاری رکھے گا۔شاہ محمودقریشی نے جموں وکشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کے دن پر اپنے پیغام میں کہا کہ اقوام عالم کے کشمیریوں کے ساتھ کئے ہوئے اس وعدے کو 71 سال ہونے کو آئے ہیں جس کے تحت جموں وکشمیر کے تنازعہ کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں انہیں حق استصواب رائے دیاجانا تھا۔ اقوام متحدہ نے آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انداز میں کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیاردینے کی قرارداد کے ذریعے کشمیریوں کے خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کی حمایت کی تھی۔ یہ وہ حق ہے جو دیگر تمام بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کا سرچشمہ ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ کشمیریوں کا ان کا یہ حق اب تک نہیں مل سکا بلکہ انہیں بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں بدترین مصائب، ظلم اور ناقابل بیان جبرواستبداد کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سات دہائیاں گزرنے کے باوجوو ہر روز کشمیریوں کی بنیادی انسانی عزت ووقارپامال ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ بالخصوص سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ ان کے استصواب رائے کا حق دلانے کا وعدہ پورا کرے۔ 5 اگست 2019 کے بھارت کے غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات کا مقصد بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ہے تاکہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو زک پہنچائے اوران کے اس جائز اورقانونی حق کو متاثر کیا جاسکے۔ ان مذموم ارادوں پر مبنی بھارتی غیرقانونی اقدامات دنیا مستردکرچکی ہے۔ مقبوضہ وادی میں بھارت کا جبربلا روک ٹوک جاری ہے اورظلم وجبرہر روز نت نئی حدوں کو چھورہا ہے۔ کشمیریوں کے لاک ڈاون اور محاصرے کو 153 دن ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کرفیوکلاک پر ایک بھی اضافی لمحہ دنیا کے اجتماعی ضمیر پر بوجھ ہے۔ بین الاقوامی برادری کو کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کی حمایت کرنا ہوگی اور بھارت پر زوردینا ہوگا کہ اقوام متحدہ کے حقائق کی چھان بین کے لئے مشن کو اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر جانے کی اجازت دے تاکہ وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالیوں کا وہ خود جائزہ لے سکے۔ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے پاکستان اور بھارت کو بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر جانے کی اجازت دے تاکہ وہ بذات خود صورتحال کا ادراک کرنے کا اپنا فرض اداکرسکے۔ بھارت کے ہاتھ اگر صاف ہیں اور وہ کچھ چھپانا نہیں چاہتا تو پھر اسے عالمی میڈیا اور سول سوسائیٹی کو بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر جانے کی اجازت دینا ہوگی تاکہ غیرجانبدار میڈیا اور دنیا مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی حقیقی صورتحال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے۔ انہوں نے کہاکہ میں آج کے دن کے موقع پر پاکستان کی طرف سے ایک بارپھر بہادر کشمیری عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ جب تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کا ناقابل تنسیخ خودارادیت کا حق انہیں مل نہیں جاتا اور انسانی عزت ووقار کے لئے ان کی جائز جدوجہد کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوجاتی، پاکستان ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت بھرپور انداز سے جاری رکھے گا۔ 

شاہ محمود قریشی

مزید : صفحہ اول