پنجاب پولیس ریفارمز کی سمری وزیر اعظم کو ارسال

پنجاب پولیس ریفارمز کی سمری وزیر اعظم کو ارسال

  



لاہور(لیاقت کھرل) پنجاب بھر میں پولیس کلچر کی صحیح معنوں میں تبدیلی کیلئے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ آئی جی پنجاب پولیس شعیب دستگیرنے پولیس کلچر میں نئے سرے سے اصلاحات کے لئے سمری وزیراعظم پاکستان کو بھجوا دی ہے۔ ”روزنامہ پاکستان“ کو محکمہ پولیس کے ذمہ دارذرائع نے بتایا ہے کہ محکمہ پولیس کو نئی گاڑیاں، جدید اسلحہ، وائرلیس سیٹ سمیت جدید سازوسامان سے لیس کیا جا رہا ہے، اس حوالے سے جرائم کی نئی نفسیات کے حوالے سے پولیس افسروں ور اہلکاروں کو جدید نوعیت کی تربیت دی جائیگی۔اس مقصد کیلئے پولیس کے ٹریننگ سنٹروں کو اَپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔معاشرتی اصلاحات میں بدمعاشوں، قبضہ گروپوں سمیت ان کے سرپرستوں پر شکنجہ کسا جا ئے گا،آئی جی پنجاب خفیہ ر پورٹس پر کریک ڈاؤن کا حکم جاری کر چکے ہیں۔ پہلے مرحلہ میں لاہور میں جرائم پیشہ افراد کیخلاف کریک ڈاؤن کیا جائیگا۔ عام شہری کی تھانوں میں رسائی کے لئے مدگار سنٹرز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں صرف 5 منٹ میں سرکل افسر ڈی ایس پی اور ڈویژنل پولیس افسر(ایس پی  سے رابطہ کر سکیں گے۔ ریفارمز میں صوبائی سطح پر وزیراعظم شکایات سنٹرز بھی قائم کیا جا رہا ہے جس میں شکایات کا ہر سات روز بعد جائزہ لیا جائے گا، ناقص کارکردگی پر ڈی ایس پی اور ایس پی کو ذمہ دارٹھہرایا جائے گا۔اسی طرحشعبہ سی آراوز کو اَپ گریڈ کیاجا رہا ہے جس میں ڈاکوؤں اور چوروں کی فہرستوں کا ارسرنو جائزہ لیاجائے گا۔ سی آئی اے کو سپیشل کرائم کنٹرول اتھارٹی کانام دیا جا رہے۔ تفتیشی سنٹروں کی خفیہ ٹیموں اور جدید کیمروں سے مانیٹرنگ رپورٹ یومیہ آئی جی پنجاب کو پیش کی جائے گی اور اس مقصد کے لئے آئی جی آفس میں ایک صوبائی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔ جس کا ایڈیشنل آئی جی عہدہ کا اعلیٰ افسر نگران مقرر کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی پولیس آپریشنز انعام غنی نے ”پاکستان“ کو بتایا ہے کہ پولیس وسائل بڑھائے جا رہے ہیں، اگلے تین ماہ میں پنجاب بھر میں قبضہ گروپ اور بدمعاش جیلوں میں ہوں گے۔ کرائم کی شرح میں کمی واقع ہو گی۔

سمری ارسال

مزید : صفحہ آخر