الپوری‘ شانگلہ میں ہیلتھ کیئرکمیشن اور محکمہ صحت غیر فعال

الپوری‘ شانگلہ میں ہیلتھ کیئرکمیشن اور محکمہ صحت غیر فعال

  



الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر)شانگلہ میں ہیلتھ کیئرکمیشن اور محکمہ صحت غیر فعال۔اتھائی ڈاکٹروں کی بھرمار، ضلع بھر میں انسانی جانوں سے کھیلنے کا سلسلہ جاری،غیر تجربہ کار لوگ بااثر سیاسی شخصیات کے پشت پناہی پر غیرقانونی کلینک چلارہے ہیں، غیرقانونی کلینک چلانے والے اپنے بچاؤ کیلئے ذمہ داران کو بھتہ دیتے ہیں انکشاف- کانا،غوربند اور بالائی پہاڑی آبادی سمیت کہی علاقوں میں کلینکس میں ایل ایچ ویز بیٹھ کر لیبر روم چلا رہی ہے اور اکثر اوقات میں بے احتیاطی اور لاپرواہی سے ماں و بچے کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوجاتی ہے- بعض علاقوں میں گھر وں میں کلینکس چلاتے ہیں یہ پورا نظام گھروں کے اندر دائی چلاتی ہے- مسیحوں کی آڑ میں انسانی جانوں پرکالادھندہ جاری ہے،ضلع کے اکثر ہسپتالوں میں خواتین ڈاکٹروں کی کمی اور ان ڈاکٹروں کی دلچسپی نہ لینے پر یہ دھندہ ایل ایچ ویز نے سھنبالا ہے-محکمہ صحت شانگلہ سارے صورت حال سے خبر ہونے کے باوجود اس پر ہاتھ ڈالنے سے کتراتی ہیں - ان لوگوں نے محکمہ صحت شانگلہ کا بیڑہ غرق کردیا ہے ایک کلرک بھرتی کرنے کیلئے این ٹی ایس ٹیسٹ کراتا ہے جبکہ ڈاکٹرز بغیر این ٹی ایس بغیر پبلک سروس کمیشن کے بھرتی کرکے انسانی جانوں کا ضیائع کرتے ہیں، شانگلہ جیسے ضلع میں جس کے زیادہ آبادی بالائی پہاڑوں میں آباد ہیں یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا،بالائی علاقوں میں تو ایک نرس اپنا ہسپتال چلا رہا ہے، جس پر عوام نے عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے، شانگلہ صحت کے حوالے سے انتہائی پسماندہ ہے یہاں کے سرکاری ہسپتالوں میں پنڈکس کا اپریشن تک نہیں ہوتا،سپیشلسٹ اور سینئر ڈاکٹروں کی کمی ہے اور اتائی ڈاکٹروں کا بھرمارہے سکیل 7کی بھرتی این ٹی ایس پر ہوتا ہے جبکہ سکیل17کے ڈاکٹر بغیر پبلک سروس کمیشن بھرتی کئے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ان پر عدم اعتماد کا اظہار کرکے حکومت خیبرپختونخوا سے ان کے تعلیمی اسناد کی سکورٹنی کیلئے بھیج دیاجائے تاکہ عوام کو اچھے ڈاکٹر اورصحت سہولیات میسر آئیں۔۔

مزید : پشاورصفحہ آخر