کچرا اٹھانے کے تنازعے پر 2 افراد کا قتل‘ مقتول کا گھر نذر آتش

کچرا اٹھانے کے تنازعے پر 2 افراد کا قتل‘ مقتول کا گھر نذر آتش

  



چارسدہ (بیرور روپورٹ)کچرا اٹھانے کے تنازعہ پر فریقین کے مابین فائرنگ میں دو افراد کے قتل کے بعدایک فریق نے دوسرے گروپ کے مقتول کا گھر نذ رآتش کر دیا۔متعدد قرآن پاک شہید۔مقتول نوید کے بہنوں نے عمران خان سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کر دیا۔اگلے روز بااثر مسلح ملزمان نے مقتول کے گھر پردھاوا بول کر گھر میں دوبارہ آگ لگا دی۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ پڑانگ کے حدود ماما خیل میں کچرا اٹھانے کے تنازعہ پر گزشتہ روز دو فریقوں کے مابین فائرنگ کے واقعہ میں ایک فریق سے مظفر موقع پر قتل جبکہ ایک شحص آیاز زخمی ہوئے تھے جبکہ دوسرے فریق سے نوید ولد کرامت شاہ قتل ہوئے تھے۔واقعہ کے بعد مخالف فریق نے مقتول نوید کے گھر کو نذر آتش کر دیا جس کے نتیجے میں گھر میں موجود متعدد قرآن مجید شہید ہوئے جبکہ گھر میں موجود سارا سامان بھی راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ اس حوالے سے مقتول نوید کے بہنوں مسماۃ ثمینہ بیگم،نازیہ بیگم،شہناز بیگم،امین تاجہ اور مقتول کے بھانجے شہزاد احمد نے ہنگامی پریس کانفرنس میں قرآن پاک کے جلے ہوئے نسخوں کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہفتہ کے روز فائرنگ کے واقعہ کے بعد ان کے بھائی نوید کو خواتین نے غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیاجس کے بعد ہمارے گھر کو بھی مخالفین نے پٹرول ڈال کر نذر آتش کر دیا۔انہوں نے کہا کہ تھانہ پڑانگ کے عقب میں اتنا بڑا واقعہ ہوا اور پولیس تماشہ دیکھتی رہی۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان اسلحہ دھندناتے ہوئے آج صبح دوبارہ ہمارے گھر آئے اور گھر کو دوبارہ آگ لگا کر چلے گئے۔انہو ں نے کہا کہ اس حوالے سے تھانہ پڑانگ میں ہم نے کل بھی اور آج بھی گھر جلانے اور قرآن مجید شہید کرنے کے حوالے سے رپورٹ درج کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا۔انہوں نے کہا کہ مخالفین کو بااثر لوگوں اور ایک سیاسی پارٹی کی حمایت حاصل ہے جس کی وجہ سے پولیس ملزمان کو گرفتار کر رہی اور نہ ہماری قانونی ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے۔انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے فوری انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر