متاثرین کو متبادل جگہ دینے تک آپریشن کو فی الفورروک دیا جائے:محمد حسین محنتی

متاثرین کو متبادل جگہ دینے تک آپریشن کو فی الفورروک دیا جائے:محمد حسین محنتی

  



حیدرآباد(بیورورپورٹ) جماعت اسلامی سندھ کے امیر و سابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے حیدرآباد، ٹندومحمد خان، بدین، ماتلی، سکھر،لاڑکانہ،جیکب آباد اضلاع سمیت سندھ بھر کے مختلف شہروں میں تجاوزات کیخلاف آپریشن کے نام پر غریب لوگوں کو بے گھر، روزگار سے محروم اور قیمتی املاک کے نقصان پر افسوس وتشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کو متبادل جگہ دینے تک آپریشن کو فی الفور روک دیا جائے،انسانی ہمدردی کے تحت آپریشن متاثرہ افراد کو متبادل رہائش کا انتظام، متبادل پلاٹ اور کھانے پینے کی اشیاء اور علاج ومعالجہ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔صوبائی امیر نے مزید کہا کہ ہم ناجائز قبضہ وتجاوزات کی ہرگز حمایت نہیں کرتے مگر جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے اس پر ہمیں سخت تحفظات ہیں، قبضہ ختم کرنے کیلئے کسی نوٹس کے بغیر  پولیس کی لشکر کشی اور ظالمانہ طریقے سے گھروں ودکانوں کو مسمار کرنے کے طریقہ کار کو ہرگز درست قرار نہیں دیا جاسکتا، سندھ حکومت کی جانب سے آپریشن روکنے اور متبادل جگہ دینے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والے فیصلے کا خیرمقدم اور اس پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم تجاوزات کرنے والوں کی ہرگز حمایت نہیں کرتے مگر جب نہروں کے کناروں پر قبضے ہورہے تھے اور جن لوگوں نے قبضے دلائے اس وقت حکومت اور یہ ادارے کہاں تھے۔ جب لوگوں نے اپنے خون پسینے کی جمع شدہ پونجی اپنے گھر و روزگار آباد کرنے پر لگادی تو حکمرانوں کو قبضہ یاد آگیا۔ حکومت نے ان لوگوں کو گیس و بجلی بھی فراہم کی اور بعض لوگوں کے پاس تو قیام پاکستان سے قبل کے دستاویزات بھی موجود ہیں۔عدالتی فیصلے کی آڑ میں بلاجواز ان مکانات کو بھی مسمار کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ سخت سردی کے موسم میں متبادل جگہ دیئے بغیر لوگوں کو بے گھر اور روزگار سے محروم کرنا ظلم ہے۔ سندھ حکومت عوام کی دادرسی اور متبادل جگہ دینے میں اپنا کردار ادا کرے۔ پھلیلی کینال،سکھربیئراج اور اس سے نکلنے والی نہروں کے کناروں پر آباد لوگوں کے خلاف آپریشن سے ہزاروں گھر وں و دکان مسمار کرکے لاکھوں خانددانوں کو بے گھر وبیروزگار جبکہ کروڑوں کا نقصان کیا گیا ہے،مزیدآپریشن کی تیاری کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان جب سٹی ناظمم تھے تو لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کو پیسے اور متبادل مکانات فراہم کئے گئے،جو آج بھی آباد ہیں۔ کتنے دکھ وافسوس کی بات ہے کہ بڑے لوگوں کے بنی گالا سے لیکر قبضے سے بنے محلات کو تو ہاتھ نہیں لگایا جاتا بلکہ ان کو قانونی تحفظ دینے کے حربے استعمال کئے جاتے ہیں مگر مظلوم، کمزور اور غریبوں کی جھونپڑیاں گرانے میں دیر نہیں کی جاتی، دریائے سندھ کے کچے میں ہزاروں ایکڑ زمین اس وقت بھی بااثر لوگوں کے قبضے میں ہے جس پر حکومت اور عدالتیں مکمل خاموش ہیں۔ غریب و امیر کیلئے الگ الگ قانون ملک میں انتشار اور بدحالی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن سرکاری افسران نے اپنی جیبیں گرم کر کے لوگوں کو قبضہ دلائے ان کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے۔ آئندہ قبضہ خوروں کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اس پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر صوبائی رہنما وسابق ایم پی اے عبدالوحیدقریشی،امیرضلع حیدرآباد حافظ طاہرمجید اورصوبائی سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا سمیت دیگر مقامی رہنما بھی ساتھ موجود تھے۔

مزید : صفحہ آخر