شہر قائد نے مشکل وقت دیکھا،امن وامان کی صورتحال پہلے سے کہیں بہتر ہے:آئی جی سندھ

شہر قائد نے مشکل وقت دیکھا،امن وامان کی صورتحال پہلے سے کہیں بہتر ہے:آئی جی ...

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) آئی جی سندھ پولیس ڈاکٹر سید کلیم امام نے کہا کہ جامعہ کراچی میری مادر علمی ہے جہاں میں نے 1983 میں داخلہ لیا اور شعبہ فلسفے میں ماسٹرز کی سند حاصل کی۔یہاں کے اساتذہ سے میں نے بہت کچھ سیکھا اور ان کی انتھک محنت اور تربیت کے نتیجے میں میں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا۔ انھوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ طلبہ سی ایس ایس کے امتحانات میں شرکت کرکے پولیس اوردیگرسول سروسز میں شامل ہو کر ملکی خدمت وترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔جرائم کی روک تھام بے حد مشکل کام ہے،شہر قائد نے بے حد مشکل وقت دیکھا مگر اب شہر میں امن وامان کی صورتحال پہلے سے کہیں بہتر ہے۔ابھی بھی اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے جو ہم کر رہے ہیں۔ہم نے اپنے شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا ہے، بھرتیوں کو میرٹ پرکرنا ہے اور کمیونٹی پولیسنگ کے ذریعے عوام الناس کے تعاون سے اس شہر کو جرائم سے پاک بنانا ہے۔سندھ پولیس کے 2600 اہلکار شہید ہوئے اور ہزاروں شدید زخمی ہوئے جو ان کی قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے زیر اہتمام شعبہ ہذا میں منعقدہ  ”سالانہ عشائیے“  سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر سید کلیم امام نے مزید کہا کہ میں وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کا بے حد مشکور ہوں کہ انھوں نے مجھے ایک بار پھر اپنی مادر علمی آنے کی دعوت دی اور آپ سب سے مخاطب ہونے کا موقع دیا۔ہم جامعہ کراچی کے مختلف پروگرامز میں شمولیت چاہتے ہیں،جس میں انسداد منشیات اور کمیونٹی پولیسنگ کے پروگرامز منعقد کرنا شامل ہیں،آج کے طلبہ کل ملک کے اہم فیصلہ سازوں میں سے ایک ہونگے۔جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ میں شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کا المنائی ہونے پر فخر محسوس کرتا ہوں۔آئی جی کراچی ڈاکٹرسید کلیم امام ہمارے درمیان موجود ہیں اور میں انکی شرکت پر ان کا بے حد ممنون ہوں۔جامعہ کراچی کے شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے فارغ التحصیل طلبہ آج پورے پاکستان کی کارپوریٹ سیکٹرمیں کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کی تاریخ بیحد روشن ہے اوراس کا مستقبل بھی تابناک ہے۔شعبہ کے قیام میں ڈاکٹر ارشد سید کریم،ڈاکٹر ابوزر واجدی،ڈاکٹر سید ہمایوں اور دیگر اساتذہ کا اہم کردار ہے،اس شعبہ نے شعبہ سیاسیات سے جنم لیااور ایک ڈگری پروگرام سے آغاز کیا۔ ایک پروگرام سے ان بیس سالوں میں ہم 8 پروگرامز تک پہنچے،25 طلبہ سے شروع ہونے والے شعبے  میں آج لگ بھگ 2000 طلبہ زیر تعلیم ہے۔یہ ایک بہترین ٹیم ورک، کمٹمنٹ اور انتھک جدوجہد کی کامیا ب داستان ہے۔ہم ایک خاندان کی طرح ہیں، ہمارے فارغ التحصیل طلبہ ہمارے خاندان کے اہم فرد ہیں۔ہمیں ہمارے طلبہ کو سرکاری شعبوں بالخصوص پولیس کے شعبے میں جانا چاہئے۔اس شہر میں امن امان کی بہتری اورپولیس کے شعبے میں اصلاحات و تربیت میں موجودہ آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام کاکلیدی کردار ہے۔میں اپنے المنائیز کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ شعبے اور کارپوریٹ سیکٹر میں پل کا کردار ادا کرتے ہیں، یہ سلسلہ جاری رکھیں اور ہمیں آپ کی کامیابیوں پر فخر ہے۔شہید محترمہ بینظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اختر بلوچ نے کہا کہ شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن جامعہ کراچی کے طلبہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں کلیدی مناصب پر فائز ہیں جو شعبہ ہذا میں دی جانے والی بہترین تدریس وتربیت کا منہ بولتاثبوت ہے اور اس وقت اس شعبہ سے تعلق رکھنے والے تین پروفیسرز وائس چانسلرز کے عہدوں پر فائزہیں جو ہم سب کے لئے باعث فخر ہے۔ہمدرد یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شبیب الحسن نے کہا کہ شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن جامعہ کراچی کے  طلبا وطالبات کارپوریٹ سیکٹر میں لیڈنگ رول اداکررہے ہیں،شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن نے اپنے قیام سے لے کر اب تک نہ صرف جامعہ کراچی بلکہ پاکستان اور دنیا بھر میں اپنے باصلاحیت گریجویٹس کے ذریعے اپنا لوہا منوایاہے۔جامعہ کراچی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر سید ارشد کریم نے کہا کہ کراچی کے طلبہ کی مقابلے کے امتحان میں کامیابی کی شرح دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ہے سی ایس ایس کے امتحانات میں تواتر کے ساتھ حصہ لینے سے اس تعداد کو بڑھایا جاسکتا ہے۔جامعہ کراچی کے دوشعبہ جات ایسے ہیں جنہوں نے تین تین وائس چانسلر زپیدا کئے ان میں شعبہ نباتیات اور شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔

مزید : صفحہ آخر