مبشر لقمان نے فواد چوہدری کے خلاف مقدمے کی درخواست دیدی

مبشر لقمان نے فواد چوہدری کے خلاف مقدمے کی درخواست دیدی
مبشر لقمان نے فواد چوہدری کے خلاف مقدمے کی درخواست دیدی

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) اینکر پرسن مبشر لقمان نے وفاقی وزیر فواد چودھری کےخلاف لاہور کے تھانہ ماڈل ٹاؤن میں درخواست دے دی۔

تھانہ ماڈل ٹاؤن میں دی گئی درخواست میں اینکر مبشر لقمان نے الزام عائد کیا ہے کہ

محسن لغاری کے بیٹے کی شادی کی تقریب میں وفاقی وزیر فواد چودھری اور ان کے گارڈز نے انہیں دھکے دیئے اور تشدد کیا۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین اور اسحاق خاکوانی نے معاملہ رفع دفع کرایا،میرے ساتھ سخت زیادتی ہوئی ہے ،فواد چودھری کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست وصول کر لی ہے،کارروائی قانون کے مطابق ہو گی۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے گزشتہ روز ایک شادی کی تقریب کے دوران ٹی وی اینکر کو تھپڑ رسید کر دیا۔

یادرہے کہ اس سے قبل فواد چوہدری نے سینئر صحافی و تجزیہ نگار سمیع ابراہیم کو بھی فیصل آباد میں ایک شادی کی تقریب کے دوران تھپڑ مارا تھا جس کے بعد سمیع ابراہیم نے بھی کارروائی کے لیے پولیس کو درخواست دی تھی تاہم نہ تو فواد چوہدری کو گرفتار کیاگیا اور نہ ہی کوئی عملی اقدامات دیکھنے کو ملے تھے ۔ اس بارے میں گزشتہ روز ہی فواد چوہدری بولے اور موقف اپنایا کہ ’’ سمیع ابراہیم کے چینل نے ایک کارکن کی چالیس ہزار تنخواہ روکی ہوئی تھی جس پر میں نے ادائیگی کا کہا تو سمیع ابراہیم نے میرے خلاف 40پروگرام کئے ۔

جیو نیوز کے پروگرام ”نیا پاکستان “میں گفتگو کرتے ہوئے فوادچودھری نے کہا کہ مبشر لقمان اور سمیع ابراہیم صحافی نہیں ہیں ، ان کے بیک گراﺅنڈ کو سب جانتے ہیں یہ اوپر سے آکروارد ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرے اوپر بہت تنقیدہوتی ہے لیکن میں نے ٹوئٹر پر بھی کبھی کسی کو بلاک بھی نہیں کیا۔ سمیع ابراہیم کے چینل نے ایک کارکن کی چالیس ہزار تنخواہ روکی ہوئی تھی جس پر میں نے ادائیگی کا کہا تو سمیع ابراہیم نے میرے خلاف 40پروگرام کئے ۔

فواد چودھری کاکہناتھاکہ تحریک انصاف اگر مبشر لقمان کو صحافی تسلیم کرتی ہے تو کرتی ہوگی لیکن اس کا مطلب یہ تونہیں ہے کہ آپ کو لائسنس مل جاتاہے کہ آپ جس کی چاہیں عزت اچھال دیں۔ انہوں نے کہا وزارتیں آتی جاتی رہتی ہیں ، ان کی کوئی بات نہیں لیکن میرا جو عزت نفس کاحق ہے اس کومان کرچلنا ہوگا ، یہ میرا قانونی حق ہے ، میں پہلے ایک انسان ہوں۔

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور