وکیل صاحب آپ یہاں کھڑے ہوکرکیارہے ہیں؟سپریم کورٹ نے نیب ملازم کی جبری ریٹائرمنٹ کیخلاف اپیل پر تیاری نہ ہونے پر پراسیکیوٹر کی سرزنش کردی

وکیل صاحب آپ یہاں کھڑے ہوکرکیارہے ہیں؟سپریم کورٹ نے نیب ملازم کی جبری ...
وکیل صاحب آپ یہاں کھڑے ہوکرکیارہے ہیں؟سپریم کورٹ نے نیب ملازم کی جبری ریٹائرمنٹ کیخلاف اپیل پر تیاری نہ ہونے پر پراسیکیوٹر کی سرزنش کردی

  



اسلام آباد(ڈیل پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے نیب ملازم کی جبری ریٹائرمنٹ کیخلاف اپیل پر سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر کی سرزنش کردی،چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ وکیل صاحب آپ یہاں کھڑے ہوکرکرکیارہے ہیں؟آپ نے مقدمے کی کوئی تیاری نہیں کی،عدالتی وقفے کے بعدکیس کی مکمل تیاری کرکے آئیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں نیب ملازم کی جبری ریٹائرمنٹ کیخلاف اپیل پرسماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی،نیب پراسیکیوٹرعدالتی سوالات کاجواب دینے سے قاصر رہے،عدالت کی نیب پراسیکیوٹرعمران الحق کی سرزنش کردی۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ وکیل صاحب آپ یہاں کھڑے ہوکرکرکیارہے ہیں؟آپ نے مقدمے کی کوئی تیاری نہیں کی،آپ نے مقدمے کے قانونی پہلوپرکوئی معاونت نہیں کی،عدالتی وقفے کے بعدکیس کی مکمل تیاری کرکے آئیں۔

عدالت نے استفسار کیاکہ قانون کے مطابق غیرحاضری پرکیاکیاسزاہوسکتی ہے؟جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ ہمیں مقدمے کی مکمل ہسٹری بتائیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ آپ مقدمے کی مکمل تحقیق کرکے نہیں آئے،آپ مقدمے سے متعلق عدالتی نظیرپیش کرنے سے قاصرہیں،عدالت نے کہاکہ ریکارڈکے مطابق برطرف ملازم 7 سال میں ایک ہزار 66 دن غیرحاضررہا،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملازم کوغیرحاضری پرجبری ریٹائرکیاگیا،ملازم کی رخصت کوبغیرتنخواہ کے رخصت قراردیاگیا،ملازم کو 2 سزائیں نہیں دی گئیں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد