ثمینہ نگہت چغتائی 2015 میں ایڈووکیٹ بنی،وکیل 2 سال میں 70جائیدادیں نہیں بناسکتے،سپریم کورٹ کے خاتون وکیل کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر ریمارکس

ثمینہ نگہت چغتائی 2015 میں ایڈووکیٹ بنی،وکیل 2 سال میں 70جائیدادیں نہیں ...
ثمینہ نگہت چغتائی 2015 میں ایڈووکیٹ بنی،وکیل 2 سال میں 70جائیدادیں نہیں بناسکتے،سپریم کورٹ کے خاتون وکیل کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر ریمارکس

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)خاتون وکیل ثمینہ نگہت چغتائی کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست پرسپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ محترمہ 2015 میں ایڈووکیٹ بنی،وکیل 2 سال میں 70جائیدادیں نہیں بناسکتے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں خاتون وکیل کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست پرسماعت ہوئی،جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت  کی،وکیل درخواست گزار نے کہاکہ میری موکلہ سرکاری عہدے پرنہیں رہی،شوہرسے طلاق ہوچکی ہے،عدالت نے کہاکہ ثمینہ نگہت چغتائی 2015 میں ایڈووکیٹ بنی،وکیل 2 سال میں 70جائیدادیں نہیں بناسکتے،وکیل ملزمہ کامران مرتضیٰ نے کہاکہ میری ابھی تک 70 جائیدادیں نہیں،نیب ریفرنس فائل کرچکاہے،وکیل نے کہا کہ نیب نے وارنٹ جاری نہیں کیے،ضمانت مستردہونے پرگرفتاری ہوسکتی ہے،عدالت نے کہا کہ ریفرنس پرسماعت جاری ہے،ابھی تک وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوئے،وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پرملزمہ متعلقہ فورم سے رجوع کرسکتی ہیں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد