حقیقی زندگی ڈراموں سے بھی بدتر کیوں ؟

حقیقی زندگی ڈراموں سے بھی بدتر کیوں ؟

  



’’ خرم بیٹا معلوم نہیں اب کیا ہونے والا ہے ؟ زین الماس کوطلاق دے گا یا یونہی اسی طرح حالات رہیں گے ؟ کیا الماس کو معافی مل جائے گی یا پھر زین کو اسکی رتی برابر بھی پروا نہ ہو گی ؟ مجھے تو کل سے یہی پریشانی کھائے جا رہی ہے  کہ غریب مالی کا کیا بنےگا ، زین نے اسے مارا بھی تو بہت بے دردی سے تھا ۔ ‘‘

یہ سب بتاتے ہوئے دادی اماں آبدیدہ تھیں اورآنسو گویا ان کی آنکھوں سے ٹپکنے ہی والے تھے ۔

’’ دادی اماں ، آخر آپ کس کی بات کر رہی ہیں ؟ زین کون ہے اور الماس کون؟ ‘‘  خرم  نے اپنا سر سہلاتے ہوئے نہ سمجھنے والے انداز میں کہا ۔

’’ ارے بیٹا میں ڈرامے کی بات کر رہی ہوں وہ جو فلاں چینل پر آتا ہے اب تک ۲۵ اقساط ہو گئیں اور میں تو نشر مکرر بھی دیکھتی  ہوں۔  سچ پوچھوں ناں تو میری تفریح یہ ڈرامے ہی ہیں ۔ تمھارے اماں باوا کے پاس کہاں وقت کہ مجھ بڑھیا کے پاس دو گھڑی بیٹھ ہی جائیں اور چند لمحے بات ہی کر لیں ۔ تم بھی سارا دن باپ کا بزنس سنبھالتے ہو تم سے کوئی گلہ نہیں اور بچ گئی تمھاری بہن انوشہ ، اسے اپنی سہیلیوں اور نت نئے فیشن سے ہی فرصت نہیں  کہ دیکھ لے کہ دادی کیا کہہ رہی ہے ؟ ۔ ‘‘

خرم ہنستے ہوئے بولا’’ دادی آپ بھی کمال کرتی ہیں ، یہی زندگی ہے ، سب ہی مصروف ہیں ، بچے ہیں تو ان کے بھاری بستوں نے ان کی کمریں جھکا دی ہیں ، پہلے سکول  ، پھر ٹیوشن اور پھر قاری صاحب ۔

۔خواتین جو متوسط طبقے سے ہیں وہ ہانڈی چولہے سے نہیں نکلتیں اور ممی جیسی لیڈیز کو کلب اور پارٹیز سے فرصت نہیں ۔اچھا چھوڑیں یہ بحث لمبی ہو جائے گی ۔مجھے بھی آفس سے دیر ہو رہی ہے ۔دوسروں کے بھی مسائل سمجھیں دادی ، آخر کون آپ کے پاس بیٹھ کر پرانی باتیں سن سن کر بور ہو ، آپ یوں کریں کہ ٹی وی لگا لیں ، دل بہلا رہے گا  آپ کا ۔ ‘‘

’’ امی آپ سمجھتی کیوں نہیں ، مجھے اپنی شادی کے لئے وہی لہنگا اور ویسی ہی جیولری چاہیے جو کاجول نے پہنی تھی ، بندیا ، ٹیکا ، ماتھا پٹی سب کا سب ویسا ہی ۔ اب اس میں ایسی بھی کیا فضول خرچی ، جب آپ نے میرے لئے اتنا کر ہی لیا ہے تو یہاں بھی میری خواہشات پوری کر دیں ، ؟ یہ کہنے والی نازش تھی جس کی ابھی شادی ہونے والی تھی ۔

’’ آغا جان پلیز آپ مالی کو ایڈوانس سیلری دے دیتے ناں ،مانا کہ اماں آپ کو منع کر رہی تھیں ، مگر اسکا بچہ بھی تو بیمار ہے ۔ ہسپتال میں ہے وہ کچھ سوچ لیتے آپ ‘‘ سدرہ نے صبح سویرے ہی آغا جان کو گھیر لیا ۔

’’ بٹیا مجھ سے کیا کہتی ہو ؟ اپنی اماں سے پوچھو بلکہ لو آ ہی گئی ہیں آپ پوچھ لو کہ کیوں منع کیا مجھے ۔ ‘‘ آغا جان بولے

’’ اچھا تو صبح صبح باپ بیٹی میں میرے خلاف باتیں ہونے لگیں  ، بہت اچھا کیا جو مالی کو پیسے نہ دینے دئیے  ۔ ان لوگوں کا کام ہوتا ہے بہانے بنا کر چھٹیاں کرنا ، بچوں کا نام لگا کر پہلے سے تنخواہیں لے لینا ، ایک نمبر کا ڈرامے باز ہے یہ نثار تمھارے مالی  بابا ۔ ‘‘اماں بھی کہاں پیچھے رہتیں ۔

اگر ہم غور سے دیکھیں تو یہ کہانی گھر گھر کی ہے کیونکہ ہمارا معاشرہ بےحسی کا شکار ہو کر صرف خود نمائی کے چکر میں الجھ کر رہ گیا ہے۔ ہمیں ڈراموں میں دکھائی جانے والی حقیقت سے دور کہانیوں پر رونا بھی آتا ہے اور ہم تکلیف بھی محسوس کرتے ہیں ۔ البتہ ہم اصل زندگی میں حقائق کو فراموش کر کے اپنے قیمتی  رشتوں کو ارزاں کر دیتے ہیں ۔

ہمارا دل بھی دوسروں کے دکھوں سے کیسا انجان سا ہو گیا ہے کہ ہمارے سامنے کوئی سڑک پر مر رہا ہو ہم نہیں رکتے ۔۔دفتر میں کوئی لفٹ کے انتظار میں کھڑا بھی ہو تو ہم اسکے لئے لفٹ کا دروازہ نہیں کھولتے ۔

ہم کسی کی مصیبتوں پر ہنس تو سکتے ہیں لیکن ان کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتے ۔ منافقت سے کسی کے منہ پر اسکی تعریف کر کے ، اسکے مسائل پوچھ کر دوسروں کو ہنس کر بتاتے ہوئے یہ کہنا نہیں بھولتے ’’ ارے یار تم اسکی باتیں تو سنو کیا کمال کا ایکٹر ہے ، کیسا ڈرامے باز ہے وہ بندہ ، میرے سامنے ڈرامے کر رہا تھا جیسے میں نے دنیا  نہیں دیکھی ، خیر میں بھی سنتا رہا کہ چلو تھوڑی تفریح ہی سہی ۔ ‘‘

موجودہ دور میں ڈراموں اور فلموں میں ہونے والے مظالم پر گھنٹوں آنسو بہاتے رہنا ہماری عادت تو کیا فطرت بن چکی ہے ۔ آخر ہمارا یہ سراب ختم کب ہو گا ؟ کب ہم اس التباس کے چکر سے نکلیں گے ، کب ہم فرضی کہانیوں پر سچے آنسو بہاتے رہیں گے اور سچ کو ڈرامہ سمجھتے رہیں گے ؟  

 ۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...