قرآن مجید آخری الہامی کتاب لیکن اس کے لفظی مطلب کیا ہیں؟ وہ بات جو شاید آپ کو معلوم نہیں

قرآن مجید آخری الہامی کتاب لیکن اس کے لفظی مطلب کیا ہیں؟ وہ بات جو شاید آپ کو ...
قرآن مجید آخری الہامی کتاب لیکن اس کے لفظی مطلب کیا ہیں؟ وہ بات جو شاید آپ کو معلوم نہیں

  

قرآن پاک رسول اقدس ﷺ کا معجزہ اعظم اور معجزہ جاریہ ہے۔ جس کی عظمت صحت اور الہامی ہونے پر سب اپنے پرائے یقین رکھتے ہیں۔ یہ کتاب سراپا اعجاز اور حضور ﷺ کے صدقے رسالت کی روشن دلیل ہے۔ اعجاز قرآن ایسا موضوع ہے جس پر تفاسیر میں بہت تفصیل سے لکھا جاچکا ہے اس لئے میں یہاں ایسا انداز اختصار و جامعیت اپنانا چاہتا ہوں کہ جب عقل و علم کی شعاعیں اس بحر ذخار پر پڑیں تو اس کی لہر میں جگمگاہٹ پیدا ہو لیکن ہر موج ایک مخصوص چمک اور فیضان دے کر الوداع ہوجائے، تو آئیے سب سے پہلے لفظ قرآن کے مفہوم پر غور و فکر کریں اور پھر قرآن پاک کی محتاط تدوین کو زیر بحث لائیں جس کی داد دئیے بغیر کوئی انسان نہیں رہ سکتا۔

لفظ قرآن کی لغوی تشریح:

روزنامہ امت کے مطابق لفظ قرآن کے تین ممکنہ مادہ ہائے اشتقاق ہیں، ذرا ملاحظہ فرمائیں:

1۔ قرء(جمع کرنا) اگر لفظ قرآن اس سے بنا ہے تو پھر اس کا مطلب ہوگا ایسی کتاب جو اولین و آکریں کے علوم کو جمع کردے۔ بکھری ہوئی انسانیت کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کردے۔

2۔ قرا¿ة (تلاوت) اگر قرآن پاک کا مادہ اشتقاق یہ ہے تو پھر اس سے مراد ہوگی ایسی کتاب جس کو کثرت سے تلاوت کیا جائے۔

3۔ قرآن (ملانا، ساتھ کرنا) اگر قرآن لفظ قرن سے ہے۔

تو پھر اس سے ایسی کتاب کا مفہوم ابھرتا ہے جو مخلوق کو خالق سے ملائے۔ حق و ہدایت کو اپنے ساتھ رکھے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی آیات میں بھی مطابقت رکھے۔

قرآن پاک کا لفظ ہی کتنا پیارا اور معنی خیز ہے اور کس طرح اپنے ہر مادہ اشتقاق کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ بیشک یہ نام ہی اس کے معجزہ ہونے کی کافی دلیل ہے۔

تدین قرآن:

آپ سب کو جان لینا چاہیے کہ قرآن پاک کتابی صورت میں نازل نہیں ہوا۔ بلکہ 23 سالہ دور نبوت میں اس کی آیات رسول اقدس ﷺ کے دل مبارک پر عطر افشانی کرتی رہیں، لیکن جبریل امین آپ کو ساتھ ساتھ بتاتے جاتے کہ ان آیات کو فلاں مقام پر رکھیں۔ پھر ہر سال رمضان المبارک میں وہ خود رسول اقدس ﷺ کو قرآن پاک کا ورد کراتے تھے اور اس طرح ترتیب قرآن رضائے الہٰی کے مطابق قائم رہتی تھی۔ اسی ترتیب سے قرآن یاد کیا اور کرایا جاتا تھا۔ البتہ دور رسالت میں اس کی کتاب کرادی جاتی تھی لیکن زور حفظ پر ہی دیا جاتا تھا۔ البتہ دور رسالت میں اس کی کتاب کرادی جاتی تھی لیکن زور حفظ پر ہی دیا جاتا تھا۔ بعد میں زمانی تقاضوں نے خلفائے راشدینؓ کو قرآن پاک کی باقاعدہ تدوین کی طرف متوجہ کر کیا اور یہ کلام الہٰی کا آخری نمونہ قیامت تک کے لئے محفوظ ہوگیا۔ یہ کام کس طرح پایہ تکمیل کو پہنچا، اس کا مختصر تذکرہ کرتے ہیں۔

مزید :

روشن کرنیں -