” میت کیساتھ 3 چیزوں کا تعلق ہے، جن میں سے 2 دنیا میں رہ جاتی ہیں اور تیسری چیز میت کیساتھ جاتی ہے، یہ تین چیزیں کونسی ہیں؟ ہرمسلمان جان لے

” میت کیساتھ 3 چیزوں کا تعلق ہے، جن میں سے 2 دنیا میں رہ جاتی ہیں اور تیسری چیز ...
” میت کیساتھ 3 چیزوں کا تعلق ہے، جن میں سے 2 دنیا میں رہ جاتی ہیں اور تیسری چیز میت کیساتھ جاتی ہے، یہ تین چیزیں کونسی ہیں؟ ہرمسلمان جان لے

  



حضرت انسؓ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اگر ابن آدم کے لیے سونے سے بھری ہوئی دوادیاں ہوں تو بھی وہ اس بات کی خواہش کرے گا کہ کاش اس کے پاس سونے کی تیسری وادی بھی ہوتی۔ بس ابن آدم کے حریص منہ کو صرف قبر کی مٹی ہی بھرسکتی ہے۔ ہاں اگر وہ اس حریصانہ سوچ سے باز آجائے اور حق تعالیٰ کی طرف رجوع کرلے تو باری تعالیٰ توبہ قبول کرنے والے ہیں۔

روزنامہ امت کے مطابق حضرت انسؓ نبی کریم ﷺ سے یہ روایت کرتے ہیں کہ میت کے ساتھ تین چیزوں کا تعلق ہوتا ہے، جن میں سے دو چیزیں یہیں دنیا میں رہ جاتی ہیں اور میت سے ان کا تعلق ختم ہوجاتا ہے اور ایک چیز میت کے ساتھ جاتی ہے۔ وہ تین چیزیں یہ ہیں: اہل و عیال، مال اور اعمال۔ اہل و عیال اور مال سے میت کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور یہ دونوں چیزیں دنیا میں ہی رہ جاتی ہیں اور میت کے اعمال موت کے بعد بھی میت کے ساتھ رہتے ہیں۔

حدیث مذکور کے مفہوم کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں انسان کی محبوب ترین چیزیں تین ہیں۔مال ، دوم احباب و رشتہ دار، سوم اعمال۔ ان تین امور میں سے پہلے دو امور کا تعلق اور وابستگی انسان کے ساتھ پائیدار نہیں۔ انسان کے ساتھ ان دو کا تعلق صرف موت تک ہے یا زیادہ سے زیادہ قبر تک اور یہ بات ظاہر ہے کہ یہ تعلق ناپائیدار اور بے اعتبار ہے، یہ تعلق اعتماد کے قابل نہیں ہے۔ البتہ اعمال کا تعلق پائیدار اور دائمی ہے، وہ موت کے بعد قبر میں بھی ساتھ رہیں گے اور برزخی زندگی کے بعد آخرت کی تمام منازل میں بھی ساتھ رہیں گے، حتیٰ کہ جنت و دوزخ میں بھی اچھے اور برے اعمال کا تعلق باقی رہے گا۔ لہٰذا عقل مند وہ شخص ہے، جو اچھے اعمال اپنائے اور برے اعمال سے بچے۔ نیز عقل مند وہ انسان ہے، جو اپنے دل کو مال کی حرص اور اس کی محبت سے خالی اور پاک رکھے۔

مزید : روشن کرنیں


loading...