سال 2020ء اپنے کیا اثرات چھوڑ گیا؟

سال 2020ء اپنے کیا اثرات چھوڑ گیا؟
سال 2020ء اپنے کیا اثرات چھوڑ گیا؟

  

 سال 2020ء کے دوران مہنگائی کی شرح میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ اس نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے سب سے زیادہ سفید پوش طبقہ متاثر ہوا ہے، کیونکہ یہ طبقہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا اپنی توہین سمجھتا ہے۔ حکومت کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے کے لئے بہت سے دعوے اور وعدے کئے گئے، لیکن عملی طور پر کسی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے جاسکے۔ عوام صرف ریلیف کے لئے ترستے ہی رہے،جہاں مہنگائی نے عوام کو پریشان کئے رکھا وہاں کاشت کار ٹڈی دل کے حملوں سے مصیبت میں مبتلا رہے۔ ٹڈی دل کے حملوں سے کسانوں کی تیار فصلوں کو شدید نقصان پہنچا، جس کی وجہ سے کسان مہنگائی کے ساتھ ساتھ ٹڈی دل کی صورت میں عذاب جھیلتے رہے۔ حکومت نے ٹڈی دل پر کنٹرول کے بھی دعوے کئے جو صرف زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ بھی ثابت نہ ہوا۔ کسان اپنی مدد آپ کے تحت ٹڈی دل کو بھگانے کی کوشش کرتے رہے۔ وفاق کی جانب سے کراچی کے لئے اربوں روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا گیا، مگر یہ پیکیج کہیں بھی نظر نہ آیا۔ کراچی میں ہونے والی طوفانی بارشوں نے جہاں پورے شہر کو ڈبو دیا وہیں اربوں روپے کے ترقیاتی کام بھی اسی بارش کے پانی کی نذر ہوگئے۔

ترقیاتی کاموں کے جو دعوے کئے گئے ان کی قلعی کھل کرسامنے آگئی ہے۔ مارچ2020ء  میں کرونا وبا نے پاکستان کا رخ کیا اور اس وبا نے پاکستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کے شدید اثرات دنیا بھر کی معیشت پر پڑے۔ کورونا کی وجہ سے پاکستان کی معیشت مزید گراوٹ کا شکار ہوئی۔ کورونا وبا پر قابو پانے کے لئے لاک ڈاؤن کیا گیا، کاروبار بند کئے گئے لوگوں کی آمدورفت کو محدود کیا گیا اور اللہ کے فضل و کرم سے وبا پر بہت حد تک قابو بھی پالیا گیا۔ کورونا کی وجہ سے ملک بھر کا تعلیمی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا،جس کی وجہ سے ہمارے نونہالوں کا مستقبل بھی دا ؤ پر لگ گیا، کیونکہ بچے تعلیمی اداروں میں جانے کے بجائے گھروں میں بیٹھ گئے۔ حکومت نے آن لائن پڑھائی کا منصوبہ بھی شروع کیا، لیکن اس میں بھی بے شمار خرابیاں سامنے آئیں اور بالآخر سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز کو کھولنا پڑا۔ کورونا وائرس کی دوسری لہر شدت کے ساتھ واپس آنے پر دوبارہ تعلیمی ادارے بند کرنے پڑے۔

سال 2020ء میں طویل انتظار کے بعد پشاور میں بی آر ٹی منصوبے کا وزیر اعظم عمران خان نے افتتاح کیا۔پاکستان تحریک انصاف اور خصوصا خیبر پختونخوا حکومت کے لئے گلے کی ہڈی بننے والے اور کئی مبینہ تنازعات کا شکار ہونے والے اس عوامی منصوبے کو پاکستان تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت کے دور میں شروع کیا گیا تھا۔اس منصوبے کے تحت پشاور شہر کے بیچوں بیچ 27 کلومیٹر طویل خصوصی ٹریک تعمیر کیا گیا ہے، جو پشاور شہر کے اہم علاقے کارخانو بازار سے شروع ہو کر چمکنی کے علاقے تک جاتا ہے۔

پشاور بی آر ٹی منصوبے کو چلانے اور دیکھ بھال کے لئے صوبائی حکومت نے ٹرانس پشاور نامی ریپڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کا قیام کیا، لیکن یہ منصوبہ ناقص حکمت عملی کی وجہ سے عوام کے لئے تکلیف دہ اور پریشانی کا سبب بنا اور کئی بار بسوں کو دوران سفر آگ لگی۔اس سال 2020ء میں پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں شہباز دور میں شروع ہونے والا میٹرو اورنج لائن ٹرین کا بھی افتتاح کر دیا گیا، جس کے تحت شہریوں کو سفر کی جدید سہولیات بھی میسر آ رہی ہیں۔ سال 2020ء میں سب سے دلخراش واقعہ لاہور میں گجر پورہ رنگ روڈ پر پیش آیا۔ جب ایک خاتون رات کو اپنے دو بچوں کے ساتھ کے ساتھ لاہور سے گوجرانولہ جا رہی تھی اور اس کی گاڑی کا پٹرول گجر پورہ رنگ روڈ پر ختم ہوگیا۔ اس دوران خاتوں نے مدد کے لئے پولیس سے متعدد بار رابطے کئے اور بارہا مدد طلب کرتی رہی، لیکن پولیس مدد کے لئے نہ پہنچی۔اسی دوران ایک مظلوم ماں کو اس کے بچوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر بچوں ہی کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ ایسا واقعہ ہے، جو بچوں کے ذہنوں میں ہمیشہ کے لئے نقش ہوگیا ہے جسے وہ مرتے دم تک نہیں بھولیں گے، جبکہ پولیس زیادتی کے ملزمان کو پکڑنے میں بھی ناکام ٹھہری۔ مرکزی ملزم نے خود ہی گرفتاری دی۔یہ واقع عوام کے تحفظ پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ 2020ء اپوزیشن پر بھاری رہا۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، خورشید شاہ سمیت کئی رہنماں کو جیل یاترا کرنی پڑی۔ حکومت اسے احتساب کا نام دیتی رہی،جبکہ اپوزیشن نے اسے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔اپوزیشن نے حکومت پر پریشر ڈالنے کے لئے اپوزیشن کا اتحاد قائم کیا۔ جسے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا نام دیا گیا۔ پی ڈی ایم کی جانب سے مختلف شہروں میں اپنی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا گیا اور جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں۔ اپوزیشن اتحاد نے حکومت کو گھر بھیجنے کا اشارہ بھی دیا، لیکن عملی طور پر ایسا کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد پی ڈی ایم نے اسمبلیوں سے استعفوں کا کارڈ بھی کھیلا۔ اور ابھی تک حکومت گرانے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں اور مصیبتوں اور پریشانیوں میں گھری ہوئی عوام کی کسی کوئی بھی فکر نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -